• صارفین کی تعداد :
  • 5091
  • 5/21/2012
  • تاريخ :

چندر اور بندر (کہاني)

چندر اور بندر

مشہور ہے جہاں ميں بند رکي بے ايماني

لو ہم تمہيںسنائيں اک ايسي ہي کہانيتھا  اک  غريب  لڑکا 

کچھ دور اس کے گھر سےنام اس کا رام چند ر 

رہتا تھا ايک بندراک اجڑے گھر کے اندرچند ر کے پاس اک دن 

بند ر  کے پاس اس دندو روٹياں تھيں سو کھي

تھي صرف دا ل روکھياور فکر ميں تھابندرکچھ سوچ کر وہ دل ميں

دونے  ميں   دال  رکھيچندر کے پاس آيا

اور ساتھ اپنے لايااور بولا "بھائي چندر!روٹي اگر ہو گھر ميں

ہے دال کيا  مزے  کيجلدي سے لے کر آۆ

چکھو!  مزے   اڑاۆفرما گئے قلندر"چندر يہ سن کے بھاگا

دونوں نے مل کے جھٹ پٹجلدي سے روٹي لايا

اس   کا  کيا  صفاياچند ر سے خوش تھا بندرپر يہ خوشي تھي جھوٹي

بندر    کي   بے ايمانيقائم نہ رہنے پائي

آخر کو رنگ لائيچندر سے بولا بندرمجھ  سے زيادہ  تو نے

کيا تيرے گھر سے ساريکھائي تھي دال روٹي!

آئي تھي دال   روٹي!او بے ايمان چندر!يا دال دے تو ميري

امرود جو ميں توڑوں يا ساتھ ميرے آکر!

تو جمع کر لے آکر!پر بھاگنا نہ چندر!چندر يہ سن کے بولا

ايسا نہ ہو کہ مالک "امرود ہيں پرائے

آجائے ديکھ پائےجانے دے بھائي بندر"!جب يہ جواب پايا 

غصے ميں آيا بندراس نے سوال کرکے

اور منہ کو لال کرکےہو جس طرح چقندردوگز زميں سے اچھلا

"طے ہو گا پھر يہ جھگڑااور پھر اچھل کے بولا

تو پہلے دال تو لا!جلدي نکال چندر!"بندر  کي   دال   آخر 

چپ چاپ ہو گيا ساتھلاتا وہ کس کے گھر سے 

بيچارہ اس کے  ڈر سےپہنچاچمن کے اندرشاخوں پہ چڑھ کے بندر

اور پکے پکے  اچھےبولا کہ "تو بھي آجا!

امرود   توڑتا   جا!ان ٹہنيوںکے اندر"!چندر چڑھا جب اوپر 

اور بولا  " تو  اکيلابند ر  زميں  پر  آيا

شاخوں کا کر صفاياجلدي سے توڑ چندر"!چندر نے خوب توڑے 

اور جيسے جيسے توڑے امرود اس سے ڈر کر

پھينکے گيا زميں پرکھائے گيا جو بندر!اتنے ميں شورسن کر 

اس کو جو آتے ديکھارکھوالا جاگ اٹھا

بند ر تو بھاگ اٹھاہات  آيا  رام  چندر!

شاعر کا نام : اختر شيراني

پيشکش: شعبہ تحرير و پبشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

شرير لڑکا