• صارفین کی تعداد :
  • 2221
  • 5/29/2012
  • تاريخ :

مولانا رومي اور  شمس تبريز

مولانا رومي

642ھ بمطابق 1244ء سے پيشتر کہ مولانا رومي کي مسند نشيني فقر کي تاريخ اسي سال شروع ہوتي ہے ، ان کي شہرت ، علوم معقول و منقول ميں مہارت کے باعث نزديک و دور تک پھيل چکي تھي - وہ علوم دينيہ کا درس ديتے تھے - وعظ کرتے تھے ، فتوے لکھتے تھے اور سماع سے سخت دوري کا مظاہرہ کرتے تھے- وہ زندگي کي چھتيس بہاريں گذار چکے تو ان کي زندگي کا دوسرا دور ايک مرد پراسرار شمس الدين بن علي بن ملک دادتبريزي کي ملاقات سے آغاز پايا جن کي ذات ميں حد درجہ جاذبيت تھي-يوں تو اس سلسلے ميں روايتي انداز نے دل کھول کرتا نا بانابنا ہے پھر بھي يہ حقيقت اظہر من الشمس ہو جاتي ہے کہ مولانا رومي کي شمس تبريز سے ملاقات نے کايا ہي پلٹ کر رکھ دي - تمام نقاد اور مورخ يک کلمہ ہو کر تحرير کرتے ہيں کہ شمس تبريز علوم ظاہري ميں ماہر ، خوش کلام، شيرين زباں اور ازيںبالاتر آنکہ جذب و سلوک کي منزليں طے کر چکے تھے- وہ درويشوں کي تلاش ميں شہر بہ شہر گھومتے پھرتے تھے - يہي تلاش انہيں قونيہ ميں بھي لے آئي - مولانا نے شمس کے ہاتھ پر بيعت کي اور انہيں گھر لے گئے - مختلف بيانات سے يہي نتيجہ اخذ ہوتا ہے کہ حضرت شمس دو برس کے لگ بھگ آپ کے ساتھ رہے - ايک بار وہ چلے گئے تھے پھر انہيں لايا گيا - دوسري دفعہ جا کر واپس نہ لوٹے - ايک روايت کے مطابق قتل کر ديے گئے - مولانا رومي کي شمس تبريز سے ملاقات نے ان کي زندگي ،جس ميں قبل ازيں شروع سے ماورا کوئي چيز داخل نہ ہوئي تھي، ايک ايسا پرشور انقلاب پيدا کيا کہ وہ علوم معقول و منقول سے صرف نظر کرکے تصو ف سلوک اور عشق و معرفت کے عقائد اور مسائل کي جانب متوجہ ہو گئے - ان کي يہ حالت ہو گئي :”‌زور را بگذاشت او زاري گرفت “ اور ”‌دل خود کام را از عشق خوں کرد“

     نتيجةً انہوں نے”‌ نغمہ نے“ کو ايسے انوکھے اور پرکشش انداز ميں سنا کہ پھر اسي کے ہوگئے - ان کي رہنمائي شمس تبريز نے ايسے سرگرم انداز ميں فرمائي کہ رومي نے ان کي توصيف ميں نہايت دلفريب اور اچھي غزليں لکھيں جن سے جذبے کي گہرائي اور گيرائي کا نشان ملتا ہے - ان کي غزل دل کي زبان بني - آپ بيتي اور دل پر لگے ہوئے عشق کے داغ بيان ہوئے-

     مولانا کا ديوان جسے اکثرغلطي سے ”‌ديوان شمس تبريز“ سمجھا جاتا ہے اس بزرگ سے مولانا کي عقيدت و ارادت کي لازوال يادگار ہے - ديوان ميں شمس کا نام بار بار ايسے آتا ہے کہ صاف پتہ چلتا ہے کہ شاعر کے علاوہ کوئي اور شخص مراد ہے - جيسے

زبي صبري بگويم شمس تبريز

چنيني و چناني من چہ دانم

عاشقا از شمس تبريزي چو ابر

سوختي ليکن ضيا آموختي

شمس الحق تبريزي شاہ ہمہ شيرا نست

در بيشہ جان ما شير وطن دارد

شمس تبريزي نشستہ شاھوار و پيشِ او

شعر من صفہازد ہ چون بندگان ِاختيار

بي اثرھاي شمس تبريزي

از جہان جز ملال ننمايد

شمس تبريزي براي عشقِ تو

برگشادم صد در از ديوانگي

شمس تبريز کہ سرمايہ لعلست و عقيق

ما ازو لعل بدخشان و عقيق يمنيم

در فراق شمس تبريزي از آن کاھيدتن

تا فزايد جانہا راجانفزايي سير سير

خداوند شمس دين آن نور تبريز

کہ ہر کس را چو من چاکر نگيرد

شمس تبرير پي نور تو زان ذرہ شديم

تاز ذرات جہان در عدد افزون باشيم

شمس تبريز شہنشاہ ہمہ مردانست

ما ازآن قطب جہان حجت و برہان داريم

شمس تبريز کم سخن بود

شاھان ہمہ صابر و امينند

تحرير : ڈاکٹر انعام الحق کوثر

پيشکش: شعبہ تحرير و پبشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

جانا ، پہنچنا ہے