• صارفین کی تعداد :
  • 736
  • 5/16/2012
  • تاريخ :

سالے منٹو بننا چاہتے ہيں!

منٹو

برخوردار خوش رہو،

بہت شکريہ کہ تم نے مجھے ايک سوويں سالگرہ پر ياد رکھا-کچھ دير پہلے ہي افتخار عارف يہ بتانے آيا تھا کہ اس نے حکومتِ پاکستان کو تحريري سفارش کي ہے کہ مجھے بھلے ديں نہ ديں مگر وصي شاہ، صالح ظافر اور سعادت حسن منٹو کو ضرور لائف ٹائم اچيومنٹ ايوارڈ سے نواز ديں- ميں نے اس احسانِ عارفانہ کا شکريہ ادا کرکے سني ان سني کر دي-

تم نے پوچھا ہے کہ شب و روز کيسے گذر رہے ہيں تو مياں برخوردار مجھ جيسے ٹچے اديب کے شب و روز کيسے گذر سکتے ہيں ؟ کچھ کرنے کو ہے نہيں، نہ سوچنے کو ہے- جتنا کچھ شروع کے بياليس برس ميں کر ليا اس کا ايک تہائي بھي بعد کے سڑسٹھ برس ميں نہ ہو پايا-

آج سو برس کا ہونے پر يہ سوچ رہا ہوں کہ کيا يہ وہي منٹو ہے جو ايک سگريٹ کي راکھ جھاڑنے سے پہلے کہاني جھاڑ کر اٹھ کھڑا ہوتا تھا-جس کا کوئي بھي ريڈيو پلے، سکرين پلے يا کيري کيچر آدھي بوتل کي مار تھا-جس کے حاسد بھي کہتے تھے کہ منٹو کے پيروں ميں نہيں بلکہ قلم پر بلياں بندھي ہوئي ہيں-

مگر آج ميري زندگي ميں اگر کوئي لفظ بچا ہے تو وہ ہے کاش- کاش ميري صفيہ سے شادي نہ ہوئي ہوتي-ہو بھي جاتي تو کاش وہ پہلے لاہور پہنچ کر مجھے وہاں آنے پر مجبور نہ کرتي- مجبور کر بھي ليتي تو ميري بات مان کر بمبئي دوبارہ جانے پر رضامند ہو جاتي-ليکن جب نہ چاہتے ہوئے ايک جغرافيے کے دو بدحواس ٹکڑے ہو جائيں-ان بدحواس ٹکڑوں کي کگر پر کھڑے مياں بيوي بھي يہ طے نہ کر پائيں کہ انہيں رہنا کہاں ہے اور اس دوران نزہت، نگہت اور نصرت بھي پيدا ہو جائيں تو کاش کا لفظ بھي اس مکے ميں تبديل ہو جاتا ہے جو ہارنے کے بعد اپنے ہي منہ پر مار لينا چاہيے-

مگر يہ بھي تو سوچو کہ صفيہ نہ ہوتي تو منٹو کيسے ہوتا- کوئي اور صفيہ تو دکھاؤ جو مجھ جيسے آگ کے گولے کو اپني ہتھيليوں ميں چھپا لے-کيا صابر عورت تھي ؟ کہاں طعنوں اور نشے سےچور پچيس روپے کا ايک کہاني فروش اور کہاں صفيہ ---يہ دس روپے آپ کي بوتل کے، يہ پانچ روپے آپ کے آنے جانے کے اور يہ دس ---اس ميں گھر کا خرچہ چل جائےگا-آپ بالکل پريشان نہ ہوں-ميں ہوں نہ ---

مگر ميں آج تک اس سوال کے بھنور ميں ہوں کہ صفيہ مجھے اسلامي جمہوريہ پاکستان آخر کيوں لائي- ميرا يہاں کيا کام تھا؟ بھلا چمڑے کے بازار ميں عطرفروشي اور نابينا سماج ميں شمع فروشي کيونکر ممکن ہے- سنہ چاليس اور پچاس کے عشروں ميں تو ميں نے سماج کے ساتھ اور سماجي ٹھيکيداروں نے ميرے ساتھ جو کيا سو کيا ليکن دورِ ايوبي ميں تو الطاف گوہر اور قدرت اللہ شہاب اينڈ کمپني کے خوشامدي ناشروں نے ميرے مسروقہ ايڈيشنز تک شيلف سے ہٹا ديے -مگر اس دوران بنگلہ رسالوں ميں ميري کہانيوں کے ترجمے خوب چھپے-اس وقت تو ميں سمجھ نہيں پايا کہ بنگاليوں کو ميري کہانيوں ميں ايسا کيا نظر آگيا مگر اکہتر ميں يہ بھي ميري سمجھ ميں آ گيا-

جب دور بدلا تو مولانا کوثر نيازي کي مہرباني سے دہن کي پياس تو بجھتي رہي پر ذہن کي پياس کا مداوا تب بھي نہ ہوسکا- ليکن حسرت موہاني کے بعد يہ دوسرے مولانا ہيں جو مجھے زندگي ميں اچھے لگے- ايک بات ميں نے آج تک کسي کو نہيں بتائي تمہيں پہلي دفعہ بتا رہا ہوں- ہوا يوں کہ ايک دفعہ مولانا جب مجھ سے رات گئے ملنے آئے ( وہ ہميشہ رات گئے ہي آتے تھے) تو ميں نے ان سے کہا کہ کرنے کو کچھ نہيں ہے-کم از کم مساوات ميں ادبي پرچہ ہي ايڈٹ کر لوں تو تشفي ہوجائے گي- مولانا نے پہلے تو مجھے ٹکٹکي باندھ کر منٹ بھر ديکھا-پھر ہنس پڑے جيسے ميں نے کوئي لطيفہ سنا ديا ہو-کہنے لگے منٹو صاحب مولوي پہلے ہي ہمارے خون کے پياسے ہيں-ايسي خطرناک فرمائشيں نہ کيا کريں-ان کے جانے کے بعد ميں نے ايک کہاني لکھي ’منافقستان-‘ مگر رسالے کے مدير نے (مرحوم کا نام لينا مناسب نہيں ) کہاني چھاپنے کے بجائے مولانا کو پوسٹ کر دي-اس کے بعد مدير اور مولانا سے مرتے دم تک ملاقات نہيں ہوئي-

انيس سو ستتر ميں دو سانحے ہوئے-ميري صفيہ کا اس جہان سے جانا اور ضيا الحق کا آنا

ليکن مياں برخوردار سال انيس سو ستتر ميري ڈھلتي زندگي کے سينے پر دھرا ايسا پتھر ہے جس کا بوجھ قبر کے سوا کوئي ہلکا نہيں کرسکتا- انيس سو ستتر ميں دو سانحے ہوئے-ميري صفيہ کا اس جہان سے جانا اور ضيا الحق کا آنا- ايک واقعہ نے مجھے يکسر تنہا کر ديا اور دوسرے نے اس تنہائي کو منجمد کر ديا- ميں آج پينتيس برس بعد بھي يہ طے نہ کر پايا کہ دونوں ميں سے کون سا الميہ زيادہ سنگين تھا-

جب انيس سو تراسي ميں ايک فوجي عدالت نے ميرے افسانے ’ايک بھينگے کي سرگذشت‘ پر پانچ کوڑوں کي سزا سنائي -اس کے بعد سے تم تو جانتے ہي ہو کہ ميں نے مشہور کر ديا کہ اب لکھنے پڑھنے کو جي نہيں چاہتا-مگر چھٹتي نہيں ہے منہ سے يہ کافر لگي ہوئي-چپکے چپکے لکھ لکھ کر دراز ميں رکھتا جاتا ہوں- ليکن سنانے يا شائع کرانے کي خواہش مر چکي-مگر آج کل يہ فکر لاحق ہے کہ اس فضول پلندے کا کيا کروں، کس کے سپرد کروں-کيونکہ ميں جہاں رہتا ہوں وہاں تو صرف کاغذ کے لفافے بنانے کا رواج ہے-

برخوردار، سب کچھ ديکھتے ہي ديکھتے کيسا بدل گيا- يہاں آنے کے بعد قاسمي کو دوست سمجھتا تھا -وہ نوکري پيشہ رجعتي ترقي پسندوں، مقدمے باز تخليقي نامردوں اور پيٹ ميں داڑھي چھپا کر سونگھنے گھومنے والے ادبي و اخباري مولويوں سے قدرے مختلف لگتا تھا- ليکن پھر وہ بھي ميرے ضمير کا پيش امام بن گيا اور پھر يہ پيش امام بھي سمجھوتے کے تابوت ميں بند ہو کر رخصت ہوا- عصمت جب بھي پاکستان آتي تھي ضرور ملتي تھي- پھر اس جيسا طعنہ زن بھي نہ رہا- مجھے يقين ہے کہ خدا اسے اوپر بلا کر پچھتا رہا ہوگا-اور علي سردار جعفري---ہائے کيا آدمي تھا-اب تو گمان ہوتا ہے کہ سب ہي چلے جائيں گے- رہ جائے گا تو ايک لال بيگ اور دوسرا سعادت حسن منٹو-

تين برس سے تين کہانيوں پر کام

ايک کہاني غائب لوگوں کے پس منظر ميں ہے اور اس کا عنوان ميں نے ’سائے کا سايہ‘ سوچ رکھا ہے-ايک کہاني خودکش حملے ميں دونوں ٹانگيں گنوانے والے ايک ڈھائي سالہ بچے کي زندگي کے گرد گھومتي ہے -اس کا عنوان ميں نے’بدصورت خوبصورتي‘ سوچا ہے-تيسري کہاني ايک ايسي عورت کے بارے ميں ہے جوسينتاليس ميں بطور لڑکي، اکہتر ميں بطور عليحدگي پسند کي بيوي اور پچاسي ميں اپنے پوتے کے ايک گناہ کي سزا ميں ريپ ہوئي-اس کا عنوان ميں’ہيٹ ٹرک‘ رکھنا چاہتا ہوں-چوتھي کہاني صرف زہن ميں ہے-يہ قبر کھول کر عورتوں کي لاشيں نکال کر کالے علم کا کاروبار کرنے والوں کے بارے ميں ہے-مگر ميں اب کسي ننگي لاش کا تذکرہ تو کجا اس بارے ميں سوچتے ہوئے بھي ڈرنے لگا ہوں-

شائد اس گمان کا سبب يہ ہو کہ اب جو حالات و کردار ميرے سامنے ہيں ان سے نمٹنا تو کجا انہيں سمجھنا ہي مجھ جيسوں کے بس سے باہر ہے- نگہت، نزہت، نصرت اور ان کے بچے ميرا بہت خيال رکھتے ہيں- بس اس سوال پر کبھي کبھار ان سے تلخ ہو جاتا ہوں کہ بابا آپ ہمارے ساتھ کيوں نہيں رہتے-انہيں ميں کيسے کہوں کہ بابا تو اپنے ساتھ نہيں رہ پا رہے کسي اور کے ساتھ کيا رہيں گے-

ہاں کبھي کبھار ايک نوجوان عدنان نيفے ميں اڑس کر ہر مرتبہ کوئي نہ کوئي عجيب و غريب برانڈ لے آتا ہے- مگر منٹو پر يہ وقت بھي آنا تھا کہ اب ايک کے بعد دوسرا گلاس پورا خالي نہيں کر سکتا-يہ عدنان بھي خوب لڑکا ہے-خود کو علامتي کہاني کار کہتا ہے- ميں اسے اکثر چڑاتا ہوں کہ پستان کو گلدان، گھوڑے کو گدھا اور قاتل کو مقتول کہا---لو جي ہوگئي عدنان صاحب کي علامتي کہاني- جو سمجھے اس کا بھي بھلا نہ سمجھے اس کا بھي بھلا---خدا نے اس لڑکے کو قلم تو دے ديا ہے-عقل بھي دے دے تو کتنا اچھا ہو---مگر ہے بڑا سعادت مند بچہ---

گذرے سال جب ميں ننانوے برس کا ہوا تو عدنان مجھے دو ہزار پانچ ميں ميري سالگرہ پر چھپنے والا سرکاري ڈاک ٹکٹ فريم کروا کر ايک موبائل فون سميت تحفتاً دے گيا -فريم تو ميں نے لٹکا ديا مگر موبائل فون ويسے کا ويسا ڈبے ميں بند ہے- بھلا ميرے کس کام کا ؟ ميں کسے فون کروں؟ ساتھ کے دوست دشمن سب ہي تو مرگئے-ايک دن عدنان نے بتايا کہ آج ميري ويب سائٹ بنا دي ہے-ايک دن کہہ رہا تھا کہ فيس بک پر ميرا پيج بنا ديا ہے- مجھے تو اس کي باتيں پلے نہيں پڑتيں- بس ہوں ہاں کرتا رہتا ہوں-

تنہائي اور بڑھتي عمر ويسے بھي انسان کو بزدل بنا ديتي ہے- کبھي کبھار ادب سے شغف رکھنے والے کچھ سنکي سے بچے کہيں سے پتہ ڈھونڈ ڈھانڈ کر پہنچ جاتے ہيں- مگر سب کي تان اس پر ٹوٹتي ہے کہ آج کا نوجوان سعادت حسن منٹو کيسے بن سکتا ہے؟ ميں ان سے کہتا ہوں کہ شرم کرو اور شکر کرو تم ميں سے کوئي منٹو نہيں -کيا عبرت کے ليے ايک کافي نہيں-

ميں ان بچوں کي حوصلہ شکني کے خيال سے يہ بھي نہيں کہہ سکتا کہ منٹو ونٹو کے چکر ميں نہ پڑو- اس سماج ميں رہنا ہے تو سرجن نہيں قصائي بنو، باغي نہيں دلال بنو، دل کو تالا لگا دو، کھوپڑي ميں بھوسہ بھر لو اور مغز فرائي پيٹ بھر کے کھاؤ- پيني ہے تو ٹرانسپيرنٹ پئيو اور منرل واٹر کي بوتل ميں پئيو تاکہ پرہيزگاري سے بو نہ آئے-

مگر يہ سالے منٹو بننا چاہتے ہيں!!! ديکھتے نہيں کہ ميں ہي وہ منحوس ہوں جس نے اپني زندگي ميں ہي اس زمين اور سماج کو’ ٹوبہ ٹيک سنگھ ‘ بنتے ديکھ ليا بلکہ اس ٹوبہ ٹيک سنگھ ميں ’نيا قانون‘ تو کجا جنگل کا قانون تک نہيں-سڑک پر چلتے آدمي کو پتہ ہي نہيں چلتا کہ کب’ٹھنڈا گوشت‘ بن گيا-آپ نے کسي سے مذہبي و سياسي اختلاف کيا نہيں کہ آپ کي شلوار اتري نہيں-بھلے اس کا رنگ کيسا ہي ہو-

وہ بھي کيا زمانہ تھا کہ منٹو تيس منٹ ميں کہاني لکھ مارتا تھا- آج يہ حالت ہے کہ تين برس سے تين کہانيوں پر کام کر رہا ہوں - ليکن تينوں کي تينوں نامکمل حالت ميں فرمے پر چڑھي ہيں-

ايک کہاني غائب لوگوں کے پس منظر ميں ہے اور اس کا عنوان ميں نے ’سائے کا سايہ‘ سوچ رکھا ہے- ايک کہاني خودکش حملے ميں دونوں ٹانگيں گنوانے والے ايک ڈھائي سالہ بچے کي زندگي کے گرد گھومتي ہے- اس کا عنوان ميں نے’بدصورت خوبصورتي سوچا ہے- تيسري کہاني ايک ايسي عورت کے بارے ميں ہے جوسينتاليس ميں بطور لڑکي، اکہتر ميں بطور عليحدگي پسند کي بيوي اور پچاسي ميں اپنے پوتے کے ايک گناہ کي سزا ميں ريپ ہوئي-اس کا عنوان ميں’ہيٹ ٹرک‘ رکھنا چاہتا ہوں- چوتھي کہاني صرف ذہن ميں ہے- يہ قبر کھول کر عورتوں کي لاشيں نکال کر کالے علم کا کاروبار کرنے والوں کے بارے ميں ہے- مگر ميں اب کسي ننگي لاش کا تذکرہ تو کجا اس بارے ميں سوچتے ہوئے بھي ڈرنے لگا ہوں-

برخوردار اب کب لاہور آنا ہوگا-اس دفعہ لکشمي مينشن کي طرف مت جانا-اسے لالچي پلازوں نے گھير ليا ہے-سيدھے کلمہ چوک آجانا جہاں کالٹيکس والے ميرے گھر کا پتا بتا ديں گے-گھر کيا ہے-ايک بنگلے کے پچھواڑے ميں دو کمروں کي اينکسي ميں رہتا ہوں-اب تو بس ايک ہي خواہش ہے کہ ايک سو ايک ويں سالگرہ ايسي جگہ مناğ جہاں ميرے سوا کوئي نہ ہو-

تحرير: وسعت اللہ خان

پیشکش: شعبہ تحرير و پيشکش تبيان