• صارفین کی تعداد :
  • 738
  • 5/16/2012
  • تاريخ :

منٹو کي قبرکہاں اور کس حال ميں

منٹو

37 برس قبل منٹو کي قبر کس طرح تلاش کي گئي، اسکا احوال آپ سن چکے ہيں- ليکں سن 2005 ميں بھي اُس کي قبر کي تلاش ايک مسئلہ بن سکتي ہے، يہ کبھي سوچا نہ تھا-واقعات آج بھي کچھ اُسي طرح کے تھے،

سب سے پہلے ہم قبرستان کے دفتر گئے اور معروف قلم کار کي قبر کا پتہ دريافت کيا-ليکن اُن کے فرشتوں کو بھي خبر نہيں تھي- کہنے لگے قبرستان کے سکيورٹي آفيسر اس وقت گشت پر گئے ہيں وہ کہيں نظر آ جائيں تو مطلوبہ قبر تک پہنچا ديں گے- سکيورٹي آفيسر کي نشاني يہ بتائي گئي کہ وہ ايک نيلے سکوٹر پر سوار ہيں-

قبرستان ميں جہاں کہيں نيلا سکوٹر نظر آيا ہم نے احتياطاً چھان بين کر لي- آخر ہميں گورکنوں کے جھونپڑوں کے باہروہ سکوٹر نظر آ گيا جسکي تلاش تھي-ايک جھونپڑے کے اندر گئے تو ديکھا کہ سيکورٹي آفسر صاحب آگ کے الاؤ پر ايک ديگچي ميں کچھ پتياں اُبال رہے ہيں- غالباً کوئي سپيشل قسم کي چائے تھي اور لگتا تھاکہ اِس چائے کے کئي دور پہلے بھي چل چُکے ہيں .

ہمارے پوچھنے پر انہوں نے بتايا کہ وہ منٹو نامي کسي شخص کي قبر سے واقف نہيں ہيں- البتہ غازي علم دين شہيد کي قبر پاس ہي ہے اگر حاضري دينا چاہيں تو اپنا بندہ ساتھ بھيج ديں گے- ہم شکريہ ادا کر کے باہر آئے تو چند گورکنوں نے بخشيش کے لالچ ميں ہميں گھير ليا اور پوچھا کہ کس قبر کي تلاش ہے- ہم نے بتايا تو ايک گورکن نے سگريٹ کا آخري کش ليکر کہا ’ اچھا وہ شاعر تھا ..... ميرا مطلب ہے رائٹر ٹائپ‘ ہم نے فوراً اثبات ميں سر ہلا ديا اور وہ بڑے اعتماد سے ہميں قبرستان کے دوسرے سرے کي جانب لے گيا-

وہاں پہنچے تو ديکھاکہ ساغر صديقي کي قبر ہے- گورکن کا اصرار تھا کہ رائٹر ٹائپ لوگوں کے کئي کئي نام ہوتے ہيں اس لئے مطلوبہ قبر يقيناً يہي ہوگي-

ہماري بحث سن کر قريبي ڈيرے سے ايک ملنگ برآمد ہوا اور ’مانگ بچہ کيا مانگتا ہے‘ کے انداز ميں پوچھنے لگا کس کي قبر ڈھونڈتے ہو- ہم نے نام بتايا تو بولا کہ ميں يہاں پچاس برس سے کام کر رہا ہوں- اس نام کا کوئي آدمي يہاں دفن نہيں ہے- پھر قريب آ کر رازدارانہ انداز ميں بولا ’ دفنانے کےايک ماہ بعد تک اگر کوئي نہ آئے تو ہم کھود کھاد کر نيا مردہ دفن کر ديتے ہيں- ہزاروں قبريں اسطرح بے نام ہو چکي ہيں‘-

ملنگ بابا سے بحث کرنا فضول تھا اس لئے ہم آگے چل ديئے- اب سورج ڈھل چکا تھااور عنقريب اندھيرا پھيلنے والا تھا- آخر ميں نے 37 برس پراني ياداشت کے زور پر ذہن ميں ايک نقشہ بنايا اور جس راستے سے برسوں پہلے اس قبرستان ميں داخل ہوا تھا وہيں سے دوبارہ داخل ہو کر سڑک کے ساتھ ساتھ بني ہوئي قبروں کي پچاس فٹ کي پٹي کو غور سے ديکھنا شروع کيا- تلاش ميں ميرا ساتھ دينے والے رفيق کار کاشف کا خيال تھا کہ تلاش بے سود ہے ليکن مجھے گويا چھٹي حس کہہ رہي تھي کہ منٹو کي قبر يہيں کہيں آس پاس ہے- اور يہ احساس سچا ثابت ہوا کيونکہ تيس چاليس قبروں کے بعد اچانک منٹو کي قبر کا کتبہ نظر آ گيا-

پہچاننے ميں اس ليے دقت ہو رہي تھي سينتيس برس پہلے اس قبر کے آس پاس کافي کھلي جگہ تھي جہاں ہم دوستوں نے نيم دائرے ميں کھڑے ہو کر فاتحہ پڑھي تھي- ليکن اب اس کے ارد گرد قبريں ہي قبريں تھيں اور کچھ پکي قبريں اتنے بڑے سائز کي تھيں کہ اُن ميں گھِري منٹو کي قبر بالکل ننھي مني دکھائي دے رہي تھي- قبر کي حالت بہت خستہ تھي اور لگتا تھا قبر کي ديکھ ريکھ کرنے والا کوئي نہيں-

تحقيق پر ايک گورکن نے بتايا کہ جنوري ميں کچھ غير ملکي اِس قبر کو ديکھنے آئے تھے- آگے پيچھے يہاں باقاعدگي سے کوئي نہيں آتا-

پيشکش: شعبہ تحربر و پيشکش تبيان