• صارفین کی تعداد :
  • 572
  • 5/16/2012
  • تاريخ :

منٹو کي تحريريں تنگ نظر معاشرے کا ردعمل

منٹو

اپني تحريروں سے معاشرے کے ناسوروں کي جراحي کرنے والے سعادت حسن منٹو نے ايک جگہ لکھا تھا ’’ ميري تحريريں آپ کو کڑوي اور کسيلي تو لگتي ہوں گي مگر جو مٹھاس آج آپ کو پيش کي جارہي ہے اس سے انسانيت کو کيا فائدہ ہوا ہے- نيم کے پتے کڑوے سہي مگر خون تو صاف کرتے ہيں-‘‘

معاشرے کي بدصورتيوں، ظاہر پرستي اور سماجي منافرت کو اپني تحريروں کے موضاعات بنانے والے اردو کے عظيم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو سو برس قبل آج ہي دن غير منقسم ہندوستان کے علاقے لدھيانہ ميں پيدا ہوئے اور صرف 43 برس کي عمر ميں افسانوں کے 22، ريڈيو ڈرامے کے پانچ، مضامين کے تين اور شخصي خاکوں کے دو مجموعے اسي معاشرے کے سپرد کرکے لاہور ميں آسودہ خاک ہوگئے-

تقسيم ہند سے قبل ہي سعادت حسن منٹو نے کہانياں اور افسانے لکھنا شروع کرديے تھے جن ميں ممبئي ميں فلموں کے ليے کہانياں بھي شامل تھيں- ان ميں کيچڑ، اپني نگريا، بيگم، نوکر، چل چل رے نوجوان، گھمنڈي، بيلي، آٹھ دن، آغوش، مجھے پاپي کہو اور دوسري کوٹھي قابل ذکر ہيں- انھوں نے دو فلموں ميں کام بھي کيا-

برصغير کي تقسيم کے بعد وہ لاہور منتقل ہوگئے اور اس دوران بھي کہانياں لکھنے کا سلسلہ جاري رہا-

اردو ادب کے ايک عہد ساز افسانہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ منٹو ايک متنازع مصنف بھي رہے جنہيں اپني بعض تحريروں پر نصف درجن کے قريب مقدمات کا سامنا بھي کرنا پڑا اور جس کا احوال انھوں نے ايک جگہ  کچھ يوں بيان  کرتے ہيں ’’مجھے آپ افسانہ نگار کي حيثيت سے جانتے ہيں اور عدالتيں ايک فحش نگار کي حيثيت سے، حکومت مجھے کميونسٹ کہتي ہے اور کبھي ملک کا بہت بڑا اديب، کبھي ميري روزي کے دروازے بند کيے جاتے ہيں کبھي کھولے جاتے ہيں-‘‘

اردو کي ايک مصنفہ اور ڈراما نگار فرحين چوہدري منٹو پر لگنے والے الزامات کو بحيثيت لکھاري کچھ اس نظر سے ديکھتي ہيں-

’’منٹو اپنے وقت سے بہت پہلے پيدا ہوگيا تھا اور منٹو نے بہت پہلے ايک نابالغ معاشرے کو بہت سارے بالغ موضوعات اور ان سے متعلقہ سوالات دے ديے تھے، تو تنگ نظر لوگ بوکھلا گئے- منٹو کا کوئي افسانہ بتاديں جس ميں اس نے ہيجان خيزي پيدا کي ہو، يہاں تک کہ ’ٹھنڈا گوشت‘ جس پر سب سے زيادہ فحش نگاري کے الزامات لگے اور مقدمات بھي چلے، وہ افسانہ تو جنس سے پرے دکھيلتا ہے-‘‘

سعادت حسن منٹو کے دو سے زائد افسانوں کے موضوعات اور ان کے فن کے بارے ميں فرحين کہتي ہيں’’ديکھيے کہ وہ زمانہ کونسا تھا ايک طرف تقسيم ہورہي تھي لوگوں کے اصل چہرے سامنے آرہے تھے، دوست دشمن بن گئے تھے، خون ريزي ہورہي تھي پھر اس دور ميں جو رياکاري اور منافقت تھي جس نے منٹو کو يہ سب لکھنے پر مجبور کيا--- اس نے گرے پڑے کرداروں کو اٹھايا اور يہ جو دور تھا وہ ويسے بھي سيگمنڈ فرائڈ کا دور تھا لوگ انساني نفسيات پر لکھ رہے تھے، روسي ادب کا دور تھا چيخوف کے انھوں نے ترجمے  کيے تھے تو اس کي وجہ ان کي سوچ بہت کشادہ ہوگئي تھي-‘‘

اپني تحريروں سے معاشرے کے ناسوروں کي جراحي کرنے والے سعادت حسن منٹو نے ايک جگہ لکھا تھا ’’ ميري تحريريں آپکو کڑوي اور کسيلي تو لگتي ہوں گي مگر جو مٹھاس آج آپ کو پيش کي جارہي ہے اس سے انسانيت کو کيا فائدہ ہوا ہے- نيم کے پتے کڑوے سہي مگر خون تو صاف کرتے ہيں-‘‘

سعادت حسن منٹو لاہور کے مياني صاحب قبرستان ميں دن ہيں اور ان کي قبر کے کتبے پر يہ تحرير درج ہے کہ ’’ يہ منٹو کي قبر کي قبر ہے جو اب بھي يہ سمجھتا ہے کہ اس کا نام لوح جہاں پر حرف مکرر نہيں تھا-‘‘

پیشکش: شعبہ تحریر و پیشکش تبیان