• صارفین کی تعداد :
  • 3459
  • 2/29/2012
  • تاريخ :

قارون ، بنى اسرائيل كا مغرور اور مالدار شخص

بسم الله الرحمن الرحیم

يہاں پر گفتگو بنى اسرائيل كے ايك اور مسئلے اور الجھن كى جاتى ہے مسئلہ يہ ہے كہ ان ميں ايك سركش سرمايہ دار تھا اس كا نام قارون تھا جوغروروسركشى ميں مست كردينے والى دولت كا مظہر تھا ،اصولى طور پر حضرت موسى عليہ السلام نے اپنى زندگى ميں تين متجاوز طاغوتى طاقتوں كے خلاف جہاد كيا ايك فرعون تھا جو حكومت واقتدار كا مظہر تھا، دوسرا قارودن تھا جو ثروت ودولت كا مظہر تھا اورتيسرا سامرى تھا كہ جو مكرو فريب كا مظہر تھا اگرچہ حضرت موسى كا سب سے بڑا معركہ حكومت كے خلاف تھا ليكن دوسرے معركہ بھى اہم تھے اور وہ بھى عظيم تربيتى نكات كے حامل ہيں _

مشہور ہے كہ قاردن حضرت موسى عليہ السلام كا قريبى رشتہ دار تھا (چچا، يا چچازادبھائي يا خالہ زادبھائي ) اس نے توريت كا خوب مطالعہ كيا تھا پہلے وہ مومنين كى صف ميں تھا ليكن دولت كا گھمنڈ اسے كفر كى آغوش ميں لے گيا اور اسے زمين ميں غرق كرديا اس غرورنے اسے پيغمبر خدا كے خلاف جنگ پر آمادہ كيا اور اس كى موت سب كے لئے باعث عبرت بن گئي_ارشاد ہوتا ہے :

''قاورن موسى كى قوم ميں سے تھا ليكن اس نے ان پر ظلم كيا ''_

اس ظلم كا سبب يہ تھا كہ اس نے بہت سى دولت كمالى تھى اور چونكہ وہ كم ظرف تھا اور ايمان مضبوط نہ تھا اس لئے فراواں دولت نے اسے بہكاديا اور اسے انحراف واستكبار كى طرف لے گئي _

قرآن كہتا ہے :'' ہم نے اسے مال ودولت كے اتنے خزانے ديے كہ انہيں اٹھانا ايك طاقتور گروہ كے لئے بھى مشكل تھا ''_

قارون كے پاس اس قدر سونا چاندى اور قميتى اموال تھے كہ ان كے صندوقوں كو طاقتور لوگوں كا ايك گروہ بڑى مشكل سے ايك جگہ سے دوسرى جگہ لے كر جاتا تھا

قصص القرآن

منتخب از تفسير نمونه

تاليف : حضرت آيت الله العظمي مکارم شيرازي

مترجم : حجة الاسلام و المسلمين سيد صفدر حسين نجفى مرحوم

تنظيم فارسى: حجة الاسلام و المسلمين سير حسين حسينى

ترتيب و تنظيم اردو: اقبال حيدر حيدري

پبليشر: انصاريان پبليكيشنز - قم

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان