• صارفین کی تعداد :
  • 2398
  • 5/29/2012
  • تاريخ :

ابو طالب؛ نيک خصال جوانمرد

بسم الله الرحمن الرحیم

ابوطالب عليہ السلام، امير المؤمنين علي عليہ السلام کے والد بزرگوار اور رسول اللہ (ص) کے چچا اور آپ (ص) کے والد ماجد کے سگّے بھائي ہيں دونوں کي والدہ بھي ايک ہے. انہوں نے اس بارے ميں شاعري کي زبان ميں فرمايا ہے:

لا تخذلا و انصرا ابن عمكما

إخي لامي من بينہم و إبي

[بيٹو] اپنے چچا زاد بھائي کو تنہا مت چھوڑو اور اس کي مدد کرو

کہ وہ ميرے بھائيوں کے درميان والد اور والدہ دونوں کي طرف سے ميرے بھائي کا فرزند ہے.

1. معروف عصر:

جناب ابو طالب (ع) اپني شخصيت کي عظمت اور ہر لحاظ سے قدآور، طاقتور اور اپنے زمانے ميں دين ابراہيم عليہ السلام کے مبلغ تھے.

2. ان کي قابل قبول روايتيں:

انہوں نے عصر جاہليت ميں ايسي نيک روايات کي بنياد رکھي جن کو کلام وحي کي تأئيد حاصل ہوئي. حضرت ابوطالب عليہ السلام «قسامہ» کے باني ہيں جو اسلام کے عدالتي نظام ميں مورد قبول واقع ہؤا-

نيكوان رفتند و سنت ہا بماند

و زلئيمان ظلم و لعنت ها بماند

------

نيک لوگ چلے گئے؛ ان کي سنتيں باقي رہ گئيں جبکہ

لئيموں سے ظلم و لعنت کے سوا کچھ بھي باقي نہ رہا

3. بندہ خدا:

ابو طالب جو «عبد مناف» کے نام سے مشہور تھے، اور عبدمناف کے معني ہيں «بندہ خدا» يوں وہ رسول اللہ (ص) کے تيسرے جد امجد کے ہم نام بھي تھے-

4. کفر کے خلاف جدوجہد:

وہ اپنے والد ماجد «حضرت عبدالمطلب» کي مانند يکتاپرستي کے راستے پر گامزن رہے اور کفر و شرک اور جہل کے زير اثر نہيں آئے.

5. ان کے ايمان کے دلائل:

ان کي شاعري ان کے طرز فکر اور ان کے ايمان کو واضح کرتي ہے اور اس مضمون کے آخر ميں ان کے بعض اشعار بھي پيش کئے جارہے ہيں.

6. خلوص قلب:

ويسے تو بہت ايسے واقعات تاريخ ميں ثبت ہيں جن سے حضرت ابوطالب عليہ السلام کے خلوص دل اور صفا و طہارت قلب عياں ہے. مگر ہم يہاں صرف ايک واقعہ بيان کرنے پر اکتفا کرتے ہيں اور وہ يہ ہے کہ:

اہليان حجاز پر قحط عارض ہؤا. لوگ – عيسائي و مشرک و جاہل و بت پرست اور دين حنيف کے پيروکار – سب کے سب مؤمن قريش حضرت ابوطالب عليہ السلام کي خدمت ميں حاضر ہوئے؛ کيونکهہ انہيں معلوم تھا کہ مکہ ميں دين ابراہيم (ع) کے اس مروج و مبلغ جتني کسي کو بھي خدا کي اتني قربت حاصل نہيں ہے چنانچہ انہوں نے ان تشويشناک حالات ميں ان ہي سے درخواست کي کہ اٹھيں اور "خدا سے باران رحمت کي درخواست کريں"ان کا جواب مثبت تھا اور ايسے حال ميں بيت اللہ الحرام کي طرف روانہ ہوئے کہ ان کي آغوش ميں «چاند سا» لڑکا بھي تھا. حضرت ابوطالب (ع) نے اس لڑکے سے کہا کہ کعبہ کو پشت کرکے کھڑا ہوجائے اور حضرت ابوطالب (ع) نے اس لڑکے کو اپنے ہاتھوں پر اٹھايا اور خداوند متعال کي بارگاہ ميں باران رحمت کي دعا کي. بادل کا نام و نشان ہي نہ تھا مگر اچانک آسمان سے بارش نازل ہونے لگي اور اس بارش نے حجاز کي پياسي سرزمين کو سيراب کيا اور مکہ کي سوکھي ہوئي وادي کھل اٹھي.

وہ چاند سا لڑکا حضرت محمد مصطفي صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے سوا کوئي اور نہ تھا جنہيں ابوطالب ہي جانتے اور پہچانتے تھے کہ وہ خاتم الانبياء و المرسلين ہيں اور اسي بنا پر خدا سے ان کے صدقے باران رحمت کي دعا کي جو فوري طور پر قبول بھي ہوئي. حضرت ابوطالب عليہ السلام اسي حوالے سے رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي شان ميں فرماتے ہيں:

و أبيض يستسقى الغمام بوجهه

ثمال اليتامى عصمة للارامل

وہ ايسا روشن چہرے والا ہے جس کے صدقے بادل پر باران ہوجاتے ہيں

وہ يتيموں کي پناہ گاہ اور بيواؤو ں کے محافظ ہيں “

هركسي اندازه روشن دلي

غيب را بيند به قدر صيقلي

هركه صيقل بيش كرد او بيش ديد

بيشتر آمد بر او صورت پديد

گر تو گويي كان صفا فضل خداست

نيزاين توفيق صيقل زآن عطاست

ہر کوئي اپني روشن دلي کي سطح مطابق

غيب کو ديکھتا ہے اپنے قلب کي صفا و خلوص کي حد تک

جس نے جتنا دل کو زيادہ خالص کيا اس نے زيادہ ہي ديکھا

اس کے لئے زيادہ سے زيادہ صورتيں نمودار ہوئيں

اگر تو کہے کہ وہ صفا و خلوص فضل خداوندي ہے

تو يہ تزکيہ و صيقل دل بھي اسي عطا کا حصہ ہے