• صارفین کی تعداد :
  • 1649
  • 2/29/2012
  • تاريخ :

تکبر اور خودپسندي سے پرہيز کريں (حصّہ سوّم)

سوالیہ نشان

پروفيسر " روبنيسون" کہتا ہے ہم کو بارہا يہ اتفاق ہوتا ہے کہ خود بخود بغير کسي زحمت و پريشاني کے اپنا نظريہ بدل ديتے ہيں- ليکن اگر کوئي دوسرا ہمارے نظريہ کي غلطي يا اشتباہ پر ہم کو مطلع کرے تو پھر دفعةً ہم ميں ايک انقلاب پيدا ہو جاتا ھے اور ہم اس غلطي کو تسليم نہيں کرتے بلکہ اس کا دفاع کرنے لگتے ہيں ہم کسي بھي نظريہ کو خود بڑي آساني سے قبول کر ليتے ہيں ليکن اگر کوئي دوسرا ہم سے ہمارا نظريہ چھيننا چاہے تو ہم ديوانہ وار اس کا دفاع کرنے لگتے ہيں، ظاہري سي بات ہے ہمارے عقيدہ و نظريہ ميں کوئي مخصوص رابطہ نہيں ہے اسکي وجہ يہ ہے کہ ہماري خود خواہي و تکبر کي حس مجروح ہوتي ہے - اس لئے ہم تسليم نہيں کرتے اور اسي لئے اگر کوئي ہم سے کہے کہ تمہاري گھڑي پيچھے ہے يا تمہاري گاڑي بہت پرانے زمانہ کي ہے تو ممکن ہے کہ ہم کو اتنا ہي غصہ آ جائے جتنا يہ کہنے پر آتا ہے کہ تم مريخ کے بارے ميں جاہل ہو يا فراعنہ مصر کے بارے ميں تمہاري معلومات صفر کے برابر ہے - سوال يہ ہے کہ آخر يہ غصہ کيوں آتا ہے صرف اس لئے کہ ہمارے تکبر اور ہماري انانيت کو ٹھيس نہ لگ جائے-

خودپسند اور غرور ميں ڈوبا ہوا انسان خود اپنا سب سے بڑا دُشمن ہوتا ہے- ايسا شخص صرف حيوانيت كو چاہتا ہے- اس كے تمام افعال اور حركات كردار اور گفتار كا مركز حيوانى خواہشات كا چاہنا اور حاصل كرنا ہوتا ہے اور اسي لئے ايسا انسان مقام عمل ميں اپنے آپ كو حيوان سمجھتا ہے  اور زندگى ميں سوائے حيوانى خواہشات اور ہوس كے اور كسى ہدف اور غرض كو نہيں پہچانتا- حيوانى پست خواہشات كے حاصل كرنے ميں اپنے آپ كو آزاد جانتا ہے اور ہر كام كو جائز سمجھتا ہے اس كے نزديك صرف ايك چيز مقدس اور اصلى ہے اور وہ ہے اس كا حيوانى نفس اور وجود، تمام چيزوں كو يہاں تك كہ حق عدالت صرف اپنے لئے چاہتا ہے اور مخصوص قرار ديتا ہے- حق اور عدالت جو اسے فائدہ پہنچائے اور اس كى خواہشات كو پورا كرے اسي عدالت اور ضابطوں کو مانتا ہے اور اگر عدالت يا سمجھانے والا کوئي بھي اسے صيح راستے کي طرف دعوت دے تو وہ ايسے کسي قانون دوست يا عدالت كو نہيں مانتا، بلكہ اپنے غرور اور خودپسندي کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ اپنے لئے صحيح سمجھتا ہے كہ اپنے دوستوں يا عدالتوں كا مقابلہ كرے يہاں تك كہ قوانين اور احكام كى اپنى پسند كے مطابق تاويل كرتا ہے يعنى اس كے نزديك اپنے افكار اور نظريات اور حقيقت ركھتے ہيں اور باقي کسي شے کي کوئي حثيت نہيں-

انساني نيک بختي اور بشري سعادت کي سب سے بڑي دشمن "خود پسندي" ہے- لوگوں کي نظروں ميں تکبر و خودپسندي جتني مذموم صفت ہے کوئي بھي اخلاقي برائي اتني ناپسند نہيں ہے- خودپسندي الفت و محبت کے رشتہ کو ختم کر ديتي ہے- يگانگت و اتحاد کو دشمني سے بدل ديتي ہے اور انسان کے لئے عمومي نفرت کا دروازہ کھول ديتي ہے اسلئے انسان کو چاہيئے کہ وہ جتنا دوسروں سے اپنے لئے احترام و محبت کا خواہشمند ہو، اتنا ہي دوسروں کي حيثيت و عزت و وقار کا لحاظ کرے اور ان تمام باتوں سے پرہيز کرے جن سے حسن معاشرت کي خلاف ورزي ہوتي ہو يا رشتہ محبت کے ٹوٹ جانے کا انديشہ ہو- لوگوں کے جذبات کا احترام نہ کرنے سے اس کے خلاف عمومي نفرت کا جذبہ پيدا ہو جاتا ہے اور خود وہ شخص مورد اہانت بن جاتا ہے- کبر کا لازمہ بدبيني ہے، متکبر انسان سب ہي کو اپنا بدخواہ اور خود غرض سمجھتا ہے اس کے ساتھ مسلسل ہونے والي بے اعتنائيوں اور اس کے غرور کو چکنا چور کر دينے والے واقعات کي ياديں اس کے دل سے کبھي محو نہيں ہوتيں اور بےاختيار و نادانستہ اس کے افکار اس طرح متاثر ہو جاتے ہيں کہ جب بھي اس کو موقع ملتا ہے وہ پورے معاشرے سے کينہ توزي کے ساتھ انتقام پر اتر آتا ہے اور جب تک اس کے قلب کو آرام نہ مل جائے اس کو سکون نہيں ملتا-

بشکريہ اسلام ٹائمز

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان