• صارفین کی تعداد :
  • 1860
  • 2/29/2012
  • تاريخ :

تکبر اور خودپسندي سے پرہيز کريں (حصّہ دوّم)

سوالیہ نشان

* اللہ نے تکبر کرنے والوں سے نعمتيں سلب کرلي ہيں- شيطان کا انجام پيش نظر ہے کہ وہ اس ايک تکبر کي وجہ سے نعمت قرب الٰہي سے محروم ہو گيا- لہٰذا خبردار اس جلاد سے محفوظ رکھنا اور اس کے اسباب سے بھي اپنے کو بچائے رکھنا-

سرکار دو عالم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم نے فرمايا، " تکبر سے بچو کيونکہ جب کسي بندے کي عادت تکبر ہو جاتي ھے تو خدا حکم ديتا ہے کہ ميرے اس بندے کا نام جباروں ميں لکھ لو، ہم ميں سے ہر وہ شخص جو متکبر خودپسند واقعي اپني سعادت و خوش بختي کا خواہاں ہے تو اس کو اپني اصلاح کي فکر کرني چاہيئے اور اس نفرت انگيز صفت سے اپني شخصيت کو الگ کرنا چاہيئے کيونکہ اگر اس نے اس کي سرکوبي کي کوشش نہ کي تو ہميشہ ناکامي کا شکار رہے گا-

يوں تو دنيا ميں فسادات کي بہت سي وجوہات موجود ہيں ليکن علماء اخلاق نے غرور و تکبر، خودپسندى اور خودخواہي كى صفت كو " ام الفساد" يعنى فساد كى ماں قرار ديا ہے- غرور اور خودپسندي کو تمام گناہوں اور برى صفات كا سبب بتلايا ہے- " وليم لا" ايک مشہور انگريز مصنف ہے- اس نے اخلاقيات کے موضوع پر اظہار خيال کرتے ہوئے لکھا ہے- برائي جب بھي شروع ہوتي ہے غرور سے شروع ہوتي ہے- برائي کاجب بھي خاتمہ ہوتا ہے تو انکساري کے ذريعہ ہوتا ہے-

Evil can have no beginning, but from pride, nor any end but from 

  (humility William Law)

يوں تو" وليم لا " نے يہ بات اخلاقي اعتبار سے کہي ہے، ليکن اگر ہم صرف اسلامي نقطعہ نظر کے مطابق اس بات پر غور کريں تو ہم ديکھتے ہيں کہ آسماني شريعت کي بات بھي يہي ہے- خدا کے نزديک کسي آدمي کا سب سے بڑا جرم "شرک" ہے- اسي لئے شرک کي معافي نہيں اور شرک غرور کي سب سے اعلي سطح ہے يعني اپني ذات کو اتني اہميت دينا کہ اللہ اور اس کے احکامات کو فراموش کر دينا غرور ہے جو اللہ کو سخت ناپسند ہے کيونکہ تکبر صرف واحد اللہ تعالي کي ذات کے لئے مخصوص ہے- ايک انسان دوسرے انسان کے مقابلے ميں جو بھي ظلم يا فساد کرتا ہے ان سب کي جڑ ميں کھلايا چھپا ہوا غرور شامل رہتا ہے- غرور کي وجہ سے آدمي حق کا اعتراف نہيں کرتا، کيونکہ وہ سمجھتا ہے کہ حق کا اعتراف کرکے اس کي بڑائي ختم ہو جائے گي- وہ بھول جاتا ہے کہ حق کو نہ مان کر وہ حق کے مقابلہ ميں خود اپني ذات کو برتر قرار دے رہا ہے- اور يہاں سے ہي خودپسند متکبر لوگوں کے ہاتھوں اللہ کي مخلوق کو نہ صرف اذيت سے دوچار ہونا پڑتا ہے بلکہ معاشرے ميں تباہي شروع ہو جاتي ہے- فضائل اخلاقي کے لئے سب سے بڑا خطرہ اپني ذات کي محبت اور خودپسندي ہے- کيونکہ اپني ذات کي چاہت ميں اضافے کا نتيجہ يہ ہوتا ہے کہ پھر ايسے شخص کے دل ميں دوسرے افراد سے محبت کرنے کي جگہ ہي باقي نہيں رہتي اور اپني ذات کا غرور انسان کو اپني غلطيوں کے اعتراف سے روکتا ہے اور ان حقائق کے قبول کرنے پر تيار نہيں ہونے ديتا، جن سے اس کے تکبر کا شيشہ چور ہو جانے کا انديشہ ہو -

بشکريہ اسلام ٹائمز

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان