• صارفین کی تعداد :
  • 1364
  • 2/29/2012
  • تاريخ :

تکبر اور خودپسندي سے پرہيز کريں

سوالیہ نشان

انسان کو اپني حقيقت سے ہر وقت آگاہ رہنا چاہيۓ - دنيا کے مال و اموال  اور طاقت کے حصول کے بعد بہت دفعہ انسان اپني اصليت بھول جاتا ہے اور طاقت کے نشے ميں وہ ايسي حرکات انجام دينا شروع کر ديتا ہے جو اسے بربادي کي طرف لے جاتي ہيں - انسان کو ہميشہ يہ ياد رکھنا چاہيۓ کہ اسے جس خدا نے پيدا کيا ، جس نے اسے يہ سب نعمتيں عطا کيں ہيں  وہي خدا اسے ان نعمتوں اور زندگي سے محروم کرنے پر بھي قادر ہے - اس ليۓ خدا کے بتاۓ ہوۓ اصولوں کے مطابق رہ کر معاشرے ميں زندگي گزارني چاہيۓ اور تکبر و غرور سے بچنا چاہيۓ - صاحب عقل لوگوں نے بارہا اس بيماري سے بچنے کي تلقين اور نصيحت کي ہے -

خبردار! تکبر سے محفوظ رہنا کہ ميں نے بار بار ديکھا ہے کہ پروردگار نے متکبرين کو ذليل کيا ہے اور مغرورين کي ناک رگڑي ہے- غرور کا نتيجہ ناکامي، مايوسي، ذلت و رسوائي کے علاوہ کچھ نہيں ہوتا-

* خدا ان متکبروں کو سخت ناپسند کرتا ہے جن کي چال ميں اکڑ ہوتي ہے اور ايسے لوگوں پر زمين و آسمان لعنت کرتے ہے-

* اکڑنے والا خيار سماوات وارض خدا کا دشمن ہوتا ہے-

ياد رکھنا کہ تکبر اور اکڑ سفاہت اور حماقت کا نتيجہ ہے ورنہ انسان کے پاس اکڑ کا ذريعہ کيا ہے- وہ اپنے اول و آخر کو ياد کرلے تو ابتدا ميں نطفۂ نجس تھا اور آخر ميں مردار ہوجائے گا تو اب تکبرّ اور اکڑ کي کيا وجہ ہے-

* بعض روايات ميں آيا ہے کہ انسان کے شکم ميں پاخانہ کا وجود اس جذبۂ غرور کو مٹانے کے لئے ہے کہ جو اپنے ساتھ شکم ميں غلاظت لئے پھرتا ہے وہ کس بات پر اکڑتا ہے -

فرزند! خبردار، غرور، اکڑ اور اس کے اسباب سے محفوظ رہنا- زمين پر خط دينے والا لباس نہ پہننا کہ اس سے غرور پيدا ہوتا ہے اور ايسا آدمي بوئے جنت سے بھي محروم رہتا ہے -

* ايسے شخص کي قبر جہنم کي طرف دھنس جاتي ہے اور اسکا حشر قارون کے ساتھ ہوتا ہے کہ وہ بھي زمين ميں دھنس گيا تھا-

دوسرے لوگ تعظيم کے لئے کھڑے ہوں اور تم بيٹھے رہو يہ بھي غرور کا انداز ہے  -  پروردگار ايسے انسان کو اہل جہنم ميں شمار کرتا ہے جو مغرورانہ انداز سے بيٹھا رہے اور لوگ اس کے گرد کھڑے رہيں-

 * ائمہ معصومين عليہم السلام نے غرور کا علاج پيونددار لباس، کہنہ نعلين گرد آلود چہرہ اور بازار سے سامان لا نے، معمولي سواري پر سوار ہونے اور مساکين کي ہم نشيني کو قرار ديا ہے- اور يہي طرز عمل اپنايا بھي ہے-

بشکريہ اسلام ٹائمز

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان