• صارفین کی تعداد :
  • 2243
  • 2/29/2012
  • تاريخ :

ايران کا اسلامي انقلاب تاريخ ميں اپني  مثال آپ  ہے

انقلاب ایران

ايران ميں جب 1979  ء ميں اسلامي انقلاب  آيا تو اس نے دنيا کي بڑي بڑي طاقتوں کو حيران کر ديا اور دنيا  کي استکباري حکومتوں کے  سامنے  محکوم قوموں کے ليۓ ايک استقامت کي علامت بن گيا - اس انقلاب نے دنيا کے چھوٹے ملکوں اور قوموں کو آزادي کے ساتھ دنيا ميں پرامن طور پر رہنے کے ليۓ مناسب راستہ فراہم کيا اور دنيا پر واضح کر ديا کہ اپنے حق کے دفاع کے ليۓ ڈٹ جانے اور حق و سچ بات پر قائم رہنے ميں ہي عزت و آبرو کا راز پوشيدہ ہے -

ملت ايران کا عظيم انقلاب خاص اہداف کے ساتھ رونما ہوا اور تاريخ ميں ايک استثنائي واقعے کي حيثيت سے انہي اہداف اور انہي اقدار کي سمت بغير کسي انحراف کے رواں دواں ہے-

قائد انقلاب اسلامي ايران اسلام نوازي، استکبار دشمني، ملکي خود مختاري کي حفاظت، انساني وقار کے احياء، مظلومين کے دفاع اور ايران کي ہمہ جہتي پيشرفت و ترقي کو انقلاب کے اصلي اہداف سے تعبير کرتے ہيں -

ان کے مطابق عوام کے ايمان و عقيدے اور جذبات و احساسات پر اسلامي انقلاب استوار ہے  اور  صراط مستقيم پر يہ سفر انقلاب سے لے کر آج تک  بغير کسي انحراف کے جاري ہے اور يہ زندہ حقيقت انقلاب کے استحکام و ثبات کا حقيقي آئينہ ہے-

يہ قابل تعريف استقامت نسل قديم سے نسل جديد ميں بھي منتقل ہوئي ہے جس کے نتيجے ميں جوش و جذبے اور صداقت و اخلاص سے آراستہ نوجوان طلبہ جو انقلاب کي فتح اور امام خميني رحمت اللہ عليہ کي حيات طيبہ کے زمانے ميں موجود نہيں تھے آج اجتماعات  ميں انہي امنگوں اور مطالبات کي بات کر رہے ہيں جو انقلاب کي پہلي نوجوان نسل کي زبان پر ہوتے تھے-

ايک جلسے ميں خطاب کے دوران رہبر انقلاب اسلامي  نے ملک کي موجودہ طلبہ کي صنف کي باتوں اور مطالبات کو اوائل انقلاب کي نوجوان نسل سے زيادہ پختہ، نپے تلے اور ماہرانہ مطالبات قرار ديا اور فرمايا کہ اس وقت کے نوجوانوں کے احساسات و جذبات انقلاب کے دور کے نوجوانوں کي مانند ہيں تاہم ان کي بالغ نظري اوائل انقلاب کے نوجوانوں سے زيادہ ہے جو بہت اہم مسئلہ ہے-

شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

ديني جمہوريت اور ڈيموکريسي ( حصّہ دوّم )