• صارفین کی تعداد :
  • 942
  • 2/29/2012
  • تاريخ :

 انقلاب کے بعد  ادبي  ترجمہ کے حوالے سے ترقي

فارسی

ايران ميں اسلامي انقلاب کي کاميابي کے بعد ادب کو بھي بہت حد تک ترويج ملي اور ترجمہ کے شعبے  ميں بہت ترقي ہوئي ليکن بعض اوقات ايسا بھي ہوتا ہے کہ ناتجربہ کار مترجم اس کام ميں داخل ہو جاتے ہيں اور اپنے غير معياري کام کي بدولت معاشرے کو بہت نقصان پہنچاتے ہيں - بطور کل انقلاب کي کاميابي کے بعد بہت سي اعلي صلاحتوں کے مترجمين متعارف کيے گۓ جنہوں نے اپني خدمات کي بدولت معاشرے کو بہت فائدہ پہنچايا -

بعض ترجمے ايراني ادب ميں شاہکار ہيں

عبدالعلي دستغيب نے کہا کہ گذشتہ دہائيوں کي نسبت نسل جديد مستعد تر ہے - موجودہ مترجمين کا کام اس قدر دقيق ہے کہ ان کي تحريروں سے ترجمے کي بالکل بھي بو نہيں آتي ہے - ان کا کہنا تھا کہ ايران ميں آج کل مترجمين کو تين حصوں ميں تقسيم کيا جا سکتا ہے -

مترجمين دستہ اول وہ لوگ ہيں جو آرڈر پر ترجمہ کرتے ہيں - يہي وجہ ہے کہ وہ اپنے تراجم ميں زيادہ دھيان نہيں ديتے اور صرف پيسہ کمانے کي غرض سے يہ کام کر رہے ہوتے ہيں -

مترجمين کي دوسري قسم ان لوگوں پر مشتمل ہے جن کو زبان پر پوري طرح سے تسلط نہيں ہوتا ہے اور ان ميں ترجمہ کرنے کي درحقيقت اہليت ہي نہيں ہوتي ہے جس کي وجہ سے ان کا ترجمہ غلطيوں سے بھرا پڑا ہوتا ہے -

مترجميں کي تيسري قسم ان لوگوں پر مشتمل ہوتي ہے جن کو زبان کے ساتھ مکمل طور پر آشنائي ہوتي ہے -

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کامياب مترجمين کي تعداد بہت زيادہ ہے جو ہماري تقسيم بندي کے لحاظ سے تيسري قسم ميں شمار ہوتے ہيں -ابوالحسن نجفي، ابراهيم يونسي، رضا سيد حسيني، نجف دريابندري، صالح حسيني، منوچهر بديعي، عبدالله کوثري، مهدي سحابي، دکتر محمد تقي غياثي، فرزانه طاهري و مهدي غبرايي جيسے مترجمين ايران ميں وہ لوگ ہيں جن کے ترجموں سے ترجمے کي بو نہيں آتي ہے اور ان کے ترجموں کو پڑھ کر  ايسے لگتا ہے کہ خود مصنف کے اپنے الفاظ ہيں - ان لوگوں کے جملے  ايران ميں ادبي لحاظ سے  شاہکار تصور ہوتے ہيں -

تحریر و پیشکش : سید اسد الله ارسلان

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

فردوسي اور شاہنامہ