• صارفین کی تعداد :
  • 618
  • 2/29/2012
  • تاريخ :

معاشي استحکام کے لئے علاقائي تعاون کا راستہ اپنائيں ( حصہ سوم )

روابط ایران و پاکستان

صدر زرداري کے اس بيان سے،کہ اسلام آباد تجارتي آزادي کي پاليسي پر عمل پيرا ہے اور ايران کے ساتھ گيس پائپ لائن کا منصوبہ کسي صورت ختم نہيں کيا جا سکتا، پاکستان کي تجارتي حکمت عملي کے خدوخال واضح ہو جاتے ہيں-ايران کي طرف سے پاکستاني علاقے ميں گيس پائپ لائن بچھانے کے کام ميں تعاون کي پيش کش سے جہاں ان دشواريوں کے ادراک کا اندازہ ہوتا ہے جن ميں سے کئي کا بوجوہ اسلام آباد کو سامنا ہے، وہاں پاکستان کے توانائي کے مسائل حل کرنے ميں معاونت کي خواہش کا اظہار بھي ہوتا ہے ايران کي طرف سے پاکستان کو بجلي فراہم کرنے کي پيش کش بھي اسي تناظر ميں ديکھي جا سکتي ہے- پاک ايران مذاکرات،وزير اعظم يوسف رضا گيلاني کے دورہ قطر اور پچھلے کچھ عرصے کے دوران خطے کے دوسرے ملکوں سے جاري رابطوں سے يہ بات واضح ہے کہ آس پاس کے ہمسايہ ملکوں سے تجارتي واقتصادي تعلقات بڑھانے پر خاص توجہ دي جا رہي ہے- دنيا بھر ميں ہمسايہ ملکوں کے درميان تجارت کي اہميت و افاديت کو تسليم کيا جاتا ہے- علاقائي سطح پر آس پاس کے ملکوں کے درميان خلوص نيت کے ساتھ تجارت ہو تو ايک دوسرے کو ضروري اشياء کي ترسيل کم وقت ميں، کم خرچے پر اور آساني سے ممکن ہے جبکہ پڑوسي ملکوں کي بہت سي ضرورتيں ملتي جلتي ہوتي ہيں جنہيں ہنگامي حالات ميں بھي جلد اور سہولت کے ساتھ پورا کرنا ممکن ہے- اسي لئے مختلف خطوں ميں جہاں ہمسايہ ملکوں سے تجارت کو ترجيح دي جاتي ہے وہاں مختلف شعبوں ميں علاقائي تعاون پر بھي زور ديا جاتا ہے- يورپي يونين اور آسيان اس کي بڑي واضح مثاليں ہيں- بعض ملکوں کے آپس کے اختلافات اگرچہ تجارت و معيشت سميت کئي ميدانوں ميں اعتماد کے فقدان کا باعث بنتے ہيں ليکن ان اختلافات کو برقرار رکھتے ہوئے باہمي مفادات کے لئے اقتصادي تعاون کے ذريعے کئي ملکوں نے ترقي و خوشحالي کي منازل کي طرف کاميابي سے سفر کيا ہے- کينيڈا اور امريکہ اس کي بہترين مثال ہيں- چين نے بھي بھارت سميت کئي ملکوں سے بعض امور پر سنگين اختلافات کے باوجود معاشي تعلقات بڑھانے کي پاليسي اختيار کر رکھي ہے - يورپ کے کئي ممالک نے ايک دوسرے سے کشيدگي کي طويل تاريخ کے باوجود معاشي رشتے قائم کر کے اپنے مسائل پر قابو پايا ہے-

پاکستان کا مفاد بھي علاقے کے ملکوں سے ضروري اشياء کے لين دين ميں مضمر ہے- ايران، افغانستان، سارک ممالک ،وسطي ايشيائي رياستوں، چين، روس، خليجي مملکتوں اور مشرق وسطيٰ کے ملکوں کے ساتھ بہت سے شعبوں ميں تعاون کے امکانات بڑے وسيع ہيں- يہ ضرورت ايسے وقت اور بھي بڑھ جاتي ہے جب پاکستان کو توانائي کے بدترين بحران کا سامنا ہے اور اس کي معيشت شديد مشکلات ميں گھري ہوئي ہے- ہماري جي ڈي پي ملکي تاريخ کي کم ترين سطح پر يعني2.6 فيصد پر آچکي ہے جبکہ بھارت کي جي ڈي پي 8.9 فيصد، بنگلہ ديش6 فيصد، سري لنکا6. 6 فيصد اور ويتنام کي جي ڈي پي6.1 فيصد ہے-

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان