• صارفین کی تعداد :
  • 2580
  • 2/29/2012
  • تاريخ :

بچوں کي مشکلات کو کيسے کم کريں ؟ (حصّہ دوّم )

بچے

عملي طور طريقے

اپنے گھر کو اپنے بچوں کے ليۓ  بہترين تربيت گاہ بنا کر رکھيں - قميتي اشياء ، ٹوٹنےوالي اشياء ، خطرناک و وسوسے والي اشياء کو بچوں کي پہنچ سے دور رکھيں - شايد آپ اس کا يہ مطلب ليں کہ  يہ اصول شايد اس بچے کے ليۓ ہيں جس نے ابھي ابھي چلنا شروع کيا ہے  جبکہ ہمارا يہ خيال ہے کہ سکول کي سطح کے بچوں ميں شرارنے کرنے کا رحجان بہت زيادہ پايا جاتا ہے جس کي وجہ سے يہ خدشہ ہميشہ موجود رہتا ہے کہ اس عمر کے بچے کسي بھي طرح کي خطرناک شرارت کسي بھي وقت کر سکتے ہيں جس کي وجہ سے گھر ميں اچھا خاصا نقصان متوقع ہوتا ہے - اس ليے کوشش کريں کہ گھر کي قيمتي اور خطرناک اشياء کو اپنے بچوں کي پہنچ سے دور رکھيں -

 بچوں کي بہت ساري حرکتوں کو والدين سرکشي ، نافرماني يا بے ادبي کا نام ديتے ہيں جبکہ  حقيقت ميں يہ بھي بچے کي  طبيعي پرورش کا ايک اہم مرحلہ ہوتا ہے -

خاندان کے اندر اپناۓ جانے والے قوانين کو نرم رکھيں تاکہ بچوں پر حد سے زيادہ  ذہني دباؤ نہ پڑے - اگر مختلف طرح کے قوانين اور اصول اپنے گھر ميں آپ رائج کريں تو آپ کے بچے ان سب باتوں کو سمجھنے سے قاصر ہو جائيں گے جس کي وجہ سے  آپ کے اور آپ کے بچوں کے باہمي تعلقات بگڑنے کا انديشہ ہوتا ہے -

کوشش کريں کہ اپنے گھر کے ماحول کو خوشگوار رکھيں اور بچوں کے ساتھ ہميشہ مسکرا کر بات کريں مگر اس بات کا بھي خيال  رکھيں کہ بچے کي بےادبي يا  نافرماني کا جواب مسکرا کر  نہ ديں - ايسے مواقع پر بچوں کو تنبيہہ کرنا بہت ضروري ہو جاتا ہے -

اپنے گھر ميں تناؤ کي کيفيت سے بچيں - اگر کسي وقت آپ پر کسي بھي پريشاني کي  وجہ سے ذہني نتاؤ کے اثرات ہوں تو کوشش کريں کہ اس حالت ميں اپنے بچوں سے دور رہيں -

تحرير : سيد اسداللہ ارسلان

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان