• صارفین کی تعداد :
  • 1496
  • 3/17/2012
  • تاريخ :

سيدالشہداء کے لئے گريہ و بکاء کے آثار و برکات 2

محرم الحرام

1- طفوليت کا گريہ: انسان کي زندگي کا آغاز گريہ و بکاء سے ہوتا ہے- بچہ جب دنيا ميں قدم رکھتا ہے اور روتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ يہ بچہ صحتمند اور تندرست ہے- اور اس کے بعد بچپن کے زمانے ميں گريہ و بکاء بچے کي زبان ہے اور بچہ اپني ماں سے رونے کي زبان ميں بات کرتا ہے-

2- گريۂ شوق: ماں طويل عرصے کے بعد اپنے گمشدہ يا پرديسي فرزند کو ديکھ ليتي ہے تو رونے لگتي اور اپنے جذبے کا اظہار کرتي ہے- يہ گريہ وحد و ہيجان اور شوق کا گريہ کہلاتا ہے جو در حقيقت خوشي کا انتہائي اظہار بھي ہے [اور پھر انسان کے جذبات چاہے غم کے ہوں چاہے خوشي کے، جب انتہا کو پہنچتے ہيں تو رونے کي صورت ميں نمودار ہوتے ہيں، يا يوں کہئے کہ انسان کے پاس جذبات کے اظہار کے  لئے آنسو بہانے کے سوا کوئي اور اوزار نہيں ہے]-

3- جذبات و محبت کا گريہ: محبت حقيقي انساني جذبات ميں سے ہے اور گريہ کے ساتھ انسان کا ساتھ ديرينہ ہے- مثال کے طور پر خداوند متعال کے ساتھ حقيقي محبت حسن آفرين ہے اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے رونا چاہئے اور اشک بہانا چاہئے-

صنما با غم عشق تو چه تدبير كنم‏

تا به كى در غم تو ناله شبگير كنم‏

ميرے محبوب تيرے غم عشق کے لئے کيا تدبير کروں

کب تک تيرے غم ميں پوري رات نالہ و فرياد کروں

4- گريۂ معرفت و خشيت: خالصانہ عبادات، عالم خلقت کي عظمت اور اللہ کے مقام کبريائي نيز انساني فرائض اور ذمہ داريوں کي اہميت کے بارے ميں غور و تفکر انسان کے اندر ايک خاص قسم کے خوف کا سبب بنتا ہے اور يہ خوف ايسا خوف ہے جو خدواند متعال کي معرفت اور تہذيب و تزکيۂ نفس کے نتيجے ميں حاصل ہوتا ہے جس کو قرآني اصطلاح ميں "خشيۃ" کہا جاتا ہے-

تحرير : ف ح مهدوي

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

حسين ع کي تحريک، رہنمائے انسانيت (حصّہ سوّم)