• صارفین کی تعداد :
  • 1819
  • 2/18/2012
  • تاريخ :

انحرافي پہلو

بسم الله الرحمن الرحیم

وفات رسول اکرم کے بعد جو سب سے بڑي مصيبت آئي وہ تھي اجتہادي فکر کي نشو و نما جو کہ شيعي نظريات کو يکسر بدلنے کي کوشش کر رہے تھے خاص طور سے اموي حکمرانوں کے دور سلطنت ميں اور ان کے بعد آنے والے ان کے ہم فکر عباسي خلفاء تھے جنھوں نے اس بات کي قسم کھا رکھي تھي کہ شيعيت کي اصليت کو مختلف وسايل کے ذريعہ بدل ديں گے اور ان کے خلاف فيصلہ کريں گے ليکن جب ان کو يہ مشکل نظر آئي اور تمام ايذاء رسانياں، قتل و بربريت، تباہي و بربادي، شيعوں کے خلاف، ناکام ہوتي ہوئي نظر آئي، اور ان کے يہ ہتھکنڈے مسلمانوں کے ذہن ميں شيعيت کے چہرہ کو مسخ کرنے سے عاجز رہے تو انھوں نے پينترا بدلہ اور شيعيت ميں غلط فکروں کو شامل کرنے کي مہم چلائي اور اس زہريلي فکر کي تعليم عوام ميں ديني شروع کي، جس کا اصل مقصد لوگوں کے ذہن ميں يہ بات بٹھانا تھي کہ شيعہ ان افکار کے حامل ہيں نتيجتاً لوگ ان سے نفرت کرنے لگيں گے اور ان کي عظمت و شوکت ميں ا نحطاط آئے گا اور ان کے خلاف فيصلہ کرنا آسان ہوگا يا کم سے کم ان کي حد بندي ہو جائے گي اور ان کي فکري نشوونما ميں گراوٹ آئے گي اوراس امر ميں حکومت کو کسي قسم کي قوت کو استعمال کرنے کي ضرورت نہيں ہوگي-

يہيں سے بعض فاسد نظريات اور منحرف افراد کي ٹکڑي وجود ميں آئي، جن کا اسلام سے دور دور تک کوئي واسطہ نہيں تھا، جبکہ اس بات کا گمان کيا جاتا تھا کہ يہ اہلبيت سے منسوب ہيں اور ان کے افکار و افعال شريعت کے زير سايہ انجام پارہے ہيں اور عوام کے جاہل طبقہ ميں اس بات کي تشہير و ترويج بھي ہو رہي تھي، اس ٹکڑي ميں بہت سارے افراد آکر شامل ہوگئے، اور ان کے باطل اہداف کے سيلاب ميں اس وقت سارے افراد فکري سيلاب زدگي کے شکار ہوگئے جس کے سبب اہل بيت نے ان انحرافي افکار، باطل عقائد سے لوگوں کو منع کيا تھا، يہاں تک شيعيت اپنے اصلي چہرے اور واقعي راہ و رسم پر گامزن ہوگئي ہر چند کہ مخالفين و معاندين نے اس کے حسين چہرہ کو مسخ کرنا چاہا تھا، جب کہ منحرفين اور گمراہوں کي يہ ناکام کوششيں حالات کے تحت تھوڑي بہت اثر انداز ہوئي تھي-

منحرفين کي اہم ترين سازش يہ تھي کہ سلاطين دہر نے ان کو خفيہ طور پر استعمال کيا تھا تاکہ ان کے ذريعہ شيعيت ميں پھوٹ پڑ جائے اور انھيں ارادوں کے تحت کچھ فرقوں نے جنم ليا جو حقيقي شيعيت سے بالکل جدا تھے، نيز ان فرقوں اور گروہوں ميں غلو کرنے والے بھي شريک تھے جو کہ کچھ برے ارادہ و عقائد کے ساتھ مذہب تشيع ميں گھس گئے ہم ان کا مختصر سا تعارف کرائيں گے اور اس کے بعد ان کے سلسلہ ميں ائمہ ظھ کے آراء و نظريات پيش کريں گے-

قارئيں محترم! آپ جان چکے ہيں کہ بارہ امام سے تمسک گويا عملي پيروي ہے جن کے بارے ميں نص نبوي موجود ہے کہ يہ (اہلبيت ) وہ لوگ ہيں جن سے خدا نے ہر طرح کے رجس کو دور رکھا ہے اور ان کي طہارت کا اعلان کيا ہے-

اور يہ وہي (عقيدہ) ہے جو شاہراہ نص کي تصوير کشي کرتا ہے اوراس سے جدا ہوکر خط اجتہاد پر جانے نہيں ديتا، مگر يہ کہ بعض افراد اس پر قائم و دائم نہ رہ سکے، درميان راہ ساتھ چھوڑ کر الگ ہوگئے اور ”‌زيديہ، اسماعيليہ“ فرقوں سے جاملے جو کہ اثني عشريوں کے کچھ عقيدوں ميں تو ساتھ چلے پھر بقيہ عقائد ميں ساتھ چھوڑ ديا-

ان کے عقائد کا خلاصہ آپ کے پيش خدمت ہے:

1- زيديہ، يہ لوگ تمام اصحاب رسول پر حضرت علي کي افضليت کے قائل ہيں ليکن اس کے ساتھ ساتھ ابوبکر وعمر کي صحت خلافت کے بھي قائل ہيں اور برتر پر کم تر کے تقدم کو جائز سمجھتے ہيں اور اس بات کے معتقد ہيں کہ حسين بن علي کي امامت کے بعد اولاد حضرت زہرا ميں جو شخص بھي عالم، زاہد، شجاع ہو اور تلوار کے ذريعہ قيام کرے اس کو حق امامت حاصل ہے-

زيديہ ہي کي ايک شاخ ”‌جاروديہ“ ہے جو حضرت علي کي افضليت کے قائل ہيں اور کائنات ہست و بود ميں کسي کو بھي ان کے ہم پلہ نہيں سمجھتے اور جو اس بات کا قائل نہ ہو اس کو کافر گردانتے ہيں اور حضرت علي کي بيعت نہ کرنے کے سبب اس وقت پوري امت کفر کي شکار ہوگئي، يہ لوگ حضرت علي کے بعد امامت حضرت امام حسن اور ان کے بعد حضرت امام حسين کا حق سمجھتے ہيں، ان دونوں کے بعد ان کي اولادوں کي کميٹي کے تحت جو مستحق امامت ہوگا وہي امام ہے-

آپ نے ملاحظہ فرمايا کہ زيديہ کا عقيدہ شيعيت سے عمومي طور پر تھوڑا بہت ميل کھاتا ہے جو کہ ان کو بغدادي معتزلہ اور بعض بصريوں سے جدا کرتا ہے، اس حوالہ سے يہ باتيں گذر چکي ہيں-

2- اسماعيليہ، يہ وہ لوگ ہيں جو امام صادق کے بعد امامت کو ان کے بيٹے اسماعيل کو امام سمجھتے ہيں جب کہ اسماعيل اپنے باپ (امام صادق ) کي حيات ہي ميں گذر گئے اور ان لوگوں نے يہ مان ليا کہ اسماعيل مرے نہيں ہيں اور نہ ہي ان کو موت آسکتي ہے جب تک وہ پوري دنيا پر حکومت نہ کرليں-

يہ اس بات کے معتقد ہيں کہ قرآن کا ظاہر و باطن الگ الگ ہے، لہٰذا سماوات سبع (سات آسمانوں) و الارضون السبع (زمين کے ساتوں طبق) سے مراد، يہ ساتوں امام ہيں (حضرت علي سے ليکر امام صادق کے بعد ان کے بيٹے اسماعيل)، قواعد عقائد آل محمد ميں لکھا ہے کہ شريعت کے باطن کو امام اور نائب امام کے سوا دوسرا نہيں جان سکتا، لہٰذا يہ جو حشر نشر وغيرہ کا لفظ استعمال ہواہے يہ سب کے سب رموز و اسرار ہيں اور اس کے بواطن (پيچيدگياں) ہيں، غسل يعني امام سے تجديدعہد، جماع يعني باطن ميں امام سے کوئي معاہدہ نہيں ہے، نماز سے مراد امام کي سلامتي کي دعا، زکوٰة يعني علم کي نشر و اشاعت اور اس کے حاجت مندوں تک اس کو پہنچانا، روزہ يعني اہل ظاہر سے ظلم کو چھپانا، حج يعني علم حاصل کرنا، نبي کعبہ کي مانند ہيں اور حضرت علي اس کے دروازے ہيں، صفا يعني نبي، مروہ يعني علي، ميقات يعني امام، لبيک کہنا (دوران حج) بلانے والے کے باطن کا جواب دينا، طواف کعبہ يعني اہلبيت رسول کے بيت الشرف کا سات چکر لگانا اور ان جيسے بہت سارے عجيب و غريب عقائد کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہيں-

اگر ہم ان فرقوں کو بغور ملاحظہ کريں تو اس بات کا انکشاف ہوگا کہ وہ شيعيت جس کي بنياد رسول اکرم نے ڈالي تھي اور آج تک اپنے آب و تاب کے ساتھ پيغام رسالت کي حامل اور اثناعشري عزائم و عقائد کا مرکز ہے ان لوگوں کا شيعہ فرقوں سے کوئي واسطہ نہيں-

مصنف:  صباح علي بياتي

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان