• صارفین کی تعداد :
  • 9155
  • 2/15/2012
  • تاريخ :

تخليق کائنات کے راز سے پردہ اٹھ گيا

تخلیق کائنات کے راز سے پردہ اٹھ گیا

فرانس اور سوئنررلينڈ کي سرحد پر زمين کي گہرائي ميں واقع پارٹيکل فزکس کي سب سے بڑي اور مہنگي تجربہ گاہ کو کئي لوگ خدا کي تلاش کرنے والي ايک ليبارٹري کے طور پر بھي ديکھتے ہيں - اس تجربہ گاہ ميں کام کا آغاز 2008ء ميں ہوا تھا جس ميں اب تک دنيا بھر سے دس ہزار سے زيادہ سائنس دان حصہ لے چکے ہيں- اس ليبارٹري ميں زيادہ تر گاڈ پارٹيکل پر تحقيق ہوتي رہي ہے جسے تخليق کائنات کا مرکزي کردار سمجھاجاتا ہے-

جوہري طبعيات کي سب سے بڑي اور جديد تجربہ گاہ  ايل ايچ سي کے سائنس دانوں نے کہا ہے کہ انہيں اپنے طويل تجربات کے دوران ايسے شواہد ملے ہيں جن سے گاڈ پارٹيکل کي موجودگي کا اشارہ ملتا ہے-

گاڈ پارٹيکل يا خدائي صفات کے حامل ذرات کي امکاني موجودگي پر سائنس دانوں کو دو الگ الگ ٹيميں ايک عرصے سے کام کررہي تھيں- 13 دسمبر کو ايک پريس کانفرنس ميں سائنس دانوں نے اپني بريفنگ ميں کہا ہے کہ ماہرين کي ايک ٹيم کو کائنات کے سب سے چھوٹے ذرے کي موجودگي کے شواہد ملے ہيں - اس ذرے کے بارے ميں کہا جاتا ہے کہ کا ئنات کے بننے ميں اس کا کليدي کردار ہے-

تخلیق کائنات کے راز سے پردہ اٹھ گیا

گاڈ پارٹيکل کي موجودگي کا انکشاف  پارٹيکل فزکس کے ماہرين کے ليے بڑي اہميت رکھتا ہے کيونکہ ان کا کہناہے کہ اس سے کائنات کي تخليق کے سربستہ راز سےپردہ اٹھانے ميں مدد مل سکتي ہے- 

 اطالوي سائنس دان فابيولا گيانوٹي ، جو تحقيقي  ٹيم  اٹلس سے منسلک ہيں، کہناہے کہ توانائي کے انتہائي کم سطحوں پر گاڈ پارٹيکل کي موجودگي کے کچھ شواہد حاصل ہوئے ہيں- ان تجربات کے دوران حاصل ہونے والے اعدادوشمار کا تفصلي جائزہ ليا جارہا ہے جس کے حتمي نتائج اگلے سال جاري کيے جائيں  گے-

کائنات ميں آپ کو ان گنت چيزيں، ان کے دل فريب رنگ اور کرشمے دکھائي ديتے ہيں- جب کہ لاتعداد چيزيں تو ايسي ہيں جو انساني آنکھ سے اوجھل ہيں- انسان اپنے شعور کے ابتدائي دور سے يہ جاننے کي جستجو کررہا ہے کہ  کائنات کس طرح بني تھي اورچاند ستارے اور کہکشائيں کيسے وجود ميں آئيں-

بہت عرصہ پہلے  سائنس دانوں نے يہ معلوم کرلياتھا کہ کائنات ميں موجود ہر چيز اس مختصرترين اکائي پر قائم ہے جسے ايٹم کہاجاتا ہے- ہر چيز کا ايٹم تين اجزا سے مل کربناہے جسے اليکٹران، نيوٹران اور پروٹان کہا جاتا ہے- مگر ان سب کي اصل ايک ہے-

سائنس دانوں کا کہناہے کہ ايٹم از خود وجود ميں نہيں آئے- بلکہ انہيں ايک قوت نے انہيں اکھٹا ہونے ميں مدد دي- يہ قوت اس ذرے ميں ہے جسے گارڈ پارٹيکل  کہاجاتا ہے- يعني خدائي صفات رکھنے والا ذرہ-

تخلیق کائنات کے راز سے پردہ اٹھ گیا

جديد جوہري  طبعيات کا يہ نظريہ سب سے پہلے 1964ء ميں برطانيہ کي  ايڈن برگ يونيورسٹي کے ايک سائنس دان پيٹر برگ  ہيگزنے پيش کيا- اور انہي کے نام پر اس تصوراتي ذرے کو ہيگز بوسن کا نام ديا گيا-

اس نظريے ميں کہا گيا ہے کہ ہر وہ چيز جس کا کوئي حجم ہے، چاہے وہ ٹھوس ، مائع يا گيس ہے-اس کے اندر ’گاڈ پارٹيکل‘ موجودہے- کيونکہ گارڈ پارٹيکل ميں ہي وہ توانائي اور کشش موجود ہے جو چيزوں کو اسي طرح اپني جانب کھينچ  ليتي ہے جسے کسي مقبول ليڈر يا اسٹار کي مقناطيسي کشش لوگوں کو اپني جانب متوجہ کرليتي ہے- اور ان کے گرد ايک مجمع لگ جاتا ہے- سائنس دان کہتے ہيں کہ ايٹم کي مثال بھي اسي مجمع کي سي ہے، جسے گارڈ پارٹيکل نے اکھٹا کررکھاہے-

سائنس دانوں کا کہناہے کہ تقريباً 15 ارب سال قبل کائنات ايک بہت بڑے گولے کي شکل ميں تھي - جو اپني اندروني قوت کے دباۆ سے پھٹ کر بکھر گيا- پھر کئي کروڑ سال تک کائنات ميں صرف توانائي بکھري رہي اور پھر رفتہ رفتہ درجہ حرارت کم ہونے کے بعدوہ سورج چاند ستاروں اور دوسري اشکال ميں ڈھل گئي- مگر تشکيل کے اس عمل ميں گاڈ پارٹيکل نے مرکزي کردار ادا کيا - اب وہ کئي برسوں سے اپنے اس نظريے کو ثابت کرنے کے ليے تجربات کررہے ہيں-

تخلیق کائنات کے راز سے پردہ اٹھ گیا

گارڈ پارٹيکل کے نظريے کي تصديق کے ليے دنيا کي سب سے مہنگي اور سب سے بڑي تجربہ گاہ 10 ارب ڈالر کي لاگت سے فرانس اور سوئٹزر لينڈ کي سرحد پرزير زمين قائم کي گئ تھي -جسے لارج ہائيڈرون کولائيڈر يا ايل ايچ سي کہاجاتا ہے- يہ ليبارٹري تقربياً27 کلوميٹر لمبي سرنگ ميں واقع ہے اور زمين کي سطح سے اس کي گہرائي574 فٹ ہے- يہاں کام کا آغاز ستمبر  2008ء ميں ہوا تھا اور اس لبيارٹري ميں کيے جانے والے تجربات ميں دنيا کے ايک سو سے زيادہ ممالک کے سائنس دان کام کرتے رہے ہيں، جن ميں پاکستان بھي شامل ہے-

چند ماہ پہلے اسي تجربہ گاہ نے روشني سے بھي تيز رفتار ذرے نيوٹرينو کودريافت کرکے آئن سٹائن کے اس شہرہ آفاق نظريے کو غلط ثابت کردياتھا کہ اس کائنات کي کوئي چيز روشني کي رفتار کو نہيں پہنچ سکتي-

گاڈ پارٹيکل کي موجودگي کے شواہد اکٹھے کرنے کے ليے سائنس دانوں کي ٹيموں نے  اٹلس اور سي ايم ايس کے نام سے  الگ الگ  تجربات کيے-

برطانيہ کي ليور پول يونيورسٹي  ميں پارٹيکل فزکس کي ايک سائنس دان ڈاکٹر تارا شيرس کا کہناہے کہ گارڈ پارٹيکل کي تصديق يہ ثابت کرتي ہے کہ ہم نے کائنات کي تخليق کا راز پاليا ہے-


متعلقہ تحريريں:

مينڈک زلزلے سے پيشگي آگاہ ہوجاتے ہيں