• صارفین کی تعداد :
  • 4206
  • 2/15/2012
  • تاريخ :

پھپھڑوں کے کينسر کي تشخيص ميں پيش رفت

پھپھڑوں کا کینسر

ماہرين کے ايک جائزے کے مطابق دنيا بھر ميں  پھيپھڑوں کے کينسر کي وجہ سے  ہر سال پندرہ لاکھ افراد موت کے منہ ميں چلے جاتے ہيں-ايک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال  تقريباً چودہ لاکھ پاکستانيوں ميں اس موذي مرض کي تشخيص ہوتي ہے - طبي سائنس اور تحقيق سے منسلک کئي امريکي تحقيقي ادارے کوئي ايسا طريقہ ِ علاج ڈھونڈنے کي کوشش کررہے ہيں جس سے اس موذي مرض کي جلد  تشخيص ہونے ميں مدد مل سکے-تاکہ بروقت علاج سے مريض کو موت کے لقمہ اجل بننے سے بچايا جاسکے-

اس سلسلے ميں ايک نئي مشين تيار کي گئي ہے جو سانس ميں موجود مختلف مختلف کيميائي مادوں کا پتا لگاتي ہے- ڈاکٹر پيٹرمازون کہتے ہيں کہ ہم سب کے سانس ميں کيميائي مادے موجود ہوتے ہيں- ليکن جن لوگوں کو کينسر ہوتا ہے ان کے سانس ميں موجود کيميائي  مادے مختلف ہوتے ہيں-

ڈاکٹر پيٹر مازون کينسر کے منسلک سانس ميں کيميائي مادوں پر تحقيق کرنے والي  ٹيم کے سربراہ تھے-  انہوں نے  رياست اوہائيو کے شہر کليولينڈ کے کليولينڈ کلينک ميں 200 سے زائد افراد کے سانسوں کا تجزيہ کيا- جس سے معلوم ہوا کہ ان ميں سے 92 افراد پھيپھڑوں کے کينسر  ميں مبتلا تھے جبکہ کئي ايک  ميں اس مرض کے نماياں امکانات موجودتھے-

ان کا کہناتھا کہ ہميں معلوم ہوا کہ کسي بھي انسان کے سانس کا تجزيہ کرکے اس ميں پھيپھڑوں کے کينسر کي 80 سے 85 فيصدتک درست تشخيص کرنا ممکن ہے-

ڈاکٹر مازون کا کہناہے کہ کا کہنا ہے کہ سانس کے تجزئيے سے انساني جسم ميں کينسر کے بارے ميں خاصي معلومات اکٹھي کي جا سکتي ہيں- مثال کے طور پر آخري مراحل والے کينسر کے مريضوں کے سانس کي نوعيت ان مريضوں سے مختلف تھي جن کا کينسر ابتدائي مرحلے ميں تھا-

ليکن ماہرين کہتے ہيں کہ عام لوگوں کے ليے سانس کے ٹيسٹ کي سہولت مہيا کرنے سے پہلے اس پر ابھي مزيد کام کي ضرورت ہے-

مستقبل  ميں يہ ٹيسٹ مريضوں کے ليے عام چيک اپ کے دوران استعمال کيا جا سکے گا تاکہ ابتدائي مراحل ميں کينسر کي تشخيص ممکن بنائي جا سکے-

ماہرين کا اندازہ ہے کہ سانس کے تجزئيے کے اس ٹيسٹ کےساتھ ساتھ کيٹ سکين جيسے ديگر ٹيسٹوں کي مدد سے ڈاکٹرز  مريضوں ميں معمولي اور مہلک ٹيومرز  کي تشخيص بھي کر سکيں گے، جس سے مريض کا علاج جلد شروع کرنا ممکن ہو سکے گا-


متعلقہ تحريريں :

فزيوتھراپي طريقہ علاج