• صارفین کی تعداد :
  • 577
  • 3/17/2012
  • تاريخ :

 ہندوستان کے سينئر صحافي محمداحمدکاظمي کي گرفتاري، موساد کا کھيل

محمد احمد کاظمی

ہندوستان کے سينئر صحافي محمد احمد کاظمي کي گرفتاري بلا شبہ صہيوني حکومت کے ايما پر عمل ميں آئي ہے اور قرائن و شواہد سے بھي يہ بات ثابت ہے کہ کاظمي جيسے ايک پيشہ ورصحافي کو اس کيس ميں جان بوجھ کر پھانسا گيا ہے-

ايک ايسے کيس ميں جو بذات خود مشکوک ہے- محمد احمد کاظمي ايک حقيقت پسند صحافي کي حثيت سے جو کچھ سپرد قلم کرتے رہے ہيں اسکا ايک ايک لفظ نشتر بن کر غاصب صہيوني حکومت اور اس ہمنواؤ ں کے قلوب کو چھلني کرتا رہا ہے اور امريکہ کي چالوں اور سازشوں کو بے نقاب کرکے عوام تک حقائق منتقل کرنا، دنيا کي سب سے بڑي تسلط پسند طاقت کو للکارنے کے مترادف ہے.اور وہ بھي ايسے ماحول ميں جہاں مغرب نواز ميڈيا کا طوطي بولتا ہے- اطلاعات کے مطابق مغرب سے وابستہ اور مغرب نواز ميڈيا محمد احمد کاظمي کي گرفتاري سے متعلق جس انداز ميں خبريں دے رہا ہے وہ ايک سوچي سمجھي سازش کا غمازہ ہے کہ جس پر غور و خوض کي ضرورت ہے بالکل اسيطرح جس طرح دلي بم دہماکے کے فورا بعد، اور ايک سنجيدہ شخصيت کے بقول، صرف 15 منٹ کے اندر اسرائيل نے اسلامي جمہوريہ ايران کو اس واقعہ کا ذمہ دار قرار دينا شروع کرديا تھا-غور طلب بات يہ کہ پندرہ منٹ کے اندر صہيوني حکام اس واقعے سے مطلع بھي ہوجاتے ہيں اور ان يہ بھي معلوم ہوجاتا کہ اس واقعے ميں ايران کا ہاتھ ہے- بم دھماکے اسرائيل کے اندر بھي ہوتے ہيں ليکن صہيوني حکومت ان دھماکوں ايران کا نام نہيں ليتي، اس لئے کہ اس سے اس کي سبکي ہوگي کہ ايران کے ہاتھ اتنے لمبے ہيں وہ صہيوني حکومت کي خود ساختہ قلمرو کے اندر اثر ونفوذ رکھتا ہے-ہندوستان کا سارا آزاد ميڈيا اس واقعے تعلق سے محمد احمد کاظمي کو بے قصور سمجھتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ محمد کاظمي کو اسرائيلي مظالم کے خلاف بولنے اور لکھنے سزادي جاري ھے کہ جسے کس قيمت پر برداشت نہيں کيا جاسکتا- البتہ امريکہ اور اسرائيل کے خلاف مظالم پر بولنے اور لکھنے والے صحافي اور تجزيہ کار ہندوستان ميں کم نہيں ہيں، ليکن ان کي نسبت ايک فرق يہ ہے کہ محمد احمد کاظمي ايراني ميڈيا کے لئے بھي رپورٹنگ کرتے ہيں- دلي ميں صہيوني حکومت کے سفارتخانے کي جس گاڑي پر مبينہ بم دھماکہ ہوا، اس ميں لگي آگ کو بجھتے تو سب نے ديکھا اور ہندوستاني ميڈيا بھي اس کي فلم دکھائي ليکن اس مشکوک حملے ميں زخمي ہونے والي اسرائيلي خاتون اور کار ڈرائيور کي معمولي سي بھي جھلک نظر نہيں آئي اور بال کي کھال نکالنے والے ہندوستاني ميڈيانے، ايک بار بھي زخميوں کي تصوير لينے يا ان کا انٹرويو کرنے کي زحمت گورا نہيں کي علاوہ ازيں اور بھي کئي ايسي باتيں ہيں جو اس واقعے کے مشکوک ہونے پر دلالت کرتي ہيں-اس ميں دو رائے نہيں کہ حاليہ چند برسوں ميں تل ابيب اوردہلي کے درميان رابطے بہت بڑھے ہيں اور صہيوني حکومت کي بدنام زمانہ جاسوس تنظيم موساد کو سرزمين ہند پر اپني سرگرمياں دکھانے کا موقع مل گيا ہے- بلاشبہ دہلي ميں واقع نام نہاد صہيوني سفارتخانے کي گاڑي پر مشکوک حملہ موساد کا ہي کارنامہ ہے اور اس ميں کسي مسلمان صحافي کو ملوث قرار دينا کہ جس کے ايران کے ساتھ پيشہ ورانہ بنيادوں پر رابطے ہوں، صہيوني ذہنيت کي عکاسي کرتا ہے-البتہ اس بيچ ہندوستاني خفيہ اداروں اور سيکورٹي اہلکاروں کا کردار بھي سامنے رہنا چاہيے کہ جن کے پيکر پر مسلم دشمني دھبے ايک دم نماياں ہيں-