• صارفین کی تعداد :
  • 3582
  • 2/13/2012
  • تاريخ :

مسجد النبي ميں نماز

بسم الله الرحمن الرحیم

مسجد النبي ميں نماز

قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ (ص):

صَلاٰةٌ فِي مَسْجِدِي ھَذَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللّٰہِ عَشَرَةَ آلاٰ فِ صَلاٰةٍ فِيغَيْرِہِ مِنَ الْمَسَاجِدِاظلاَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ فَاظ•ِنَّ الصَّلاٰةَ فِيہِ تَعْدِلُ مِائَةَ اَلْفِ صَلاٰةٍ-

رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا:

”‌ميري مسجد ميں نماز دوسري مسجدوں ميں پڑھي جانے والي دس ہزار نمازوں کے برابر ھے سوائے مسجد الحرام کے کہ

اس ميں پڑھي جانے والے نماز کا ثواب ايک لاکھ نماز کے برابر ھے “-

جنت کا باغ

قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ (ص):

مَا بَيْنَ قَبْرِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ،وَمِنْبَرِي عَلَي تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ -

رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا:

”‌ميري قبر اور ميرے منبر کے درميان جنت کے باغوں ميں سے ايک باغ ھے اور ميرا منبر جنت کے دريچوں ميں سے ايک دريچہ کے اوپر ھے “-

حضرت فاطمہ (ع) پرسلام

يزيد ابن عبد الملک نے اپنے باپ سے سنا کہ اس کے دادا کھتے تھے کہ ميں حضرت فاطمہ زھرا (ع) کي خدمت ميں حاضرهواآپ (ع)نے مجھے سلام کيا اور اس کے بعد دريافت کياکہ تم کس لئے يھاں آئےهو؟ميں نے عرض کي،برکت کي درخواست کرنے -

قَالَتْ:اَخْبَرَنِي اَبِي وَھُوَ ذَا ھُوَ اَنَّہُ مَنْ سَلَّمَ عَلَيْہِ وَعَلَيَّ ثَلاٰثَہَ اَيَّامٍ اَوْجَبَ اللّٰہُ لَہُ الْجَنَّةَ-

حضرت فاطمہ سلام اللہ عليھا نے فرمايا:

”‌ميرے بابا نے مجھے خبر دي ھے کہ : جو شخص ان (ص) پر اور مجھ پر تين روز سلام کرے خدا وند عالم اس پر جنت واجب کر ديتا ھے “-

قُلْتُ لَھَا:فِي حَيَاتِہِ وَحَيَاتِکِ قَالَتْ نَعَمْ وَ بَعْدَ مَوْتِنَا-

”‌ميں نے حضرت (ع) سے پوچھا :ان کي اور آپ (ع) کي حيات ميں ؟ فرمايا: ھاں اور ھماري موت کے بعد بھي “-

ائمہ (ع) پر سلام

قََالَ اَبُو جَعْفَرٍ(ع)،وَنَظَرَ النَّاسَ فِي الطَّوَافِ قَالَ:

اُمِرُوا اَنْ يَطُوفُوا بِھَذَا ثُمَّ يَاْتُونَافَيُعَرِّفوُنَا مَوَدَّتَھُمْ ثُمَّ يَعْرِضُوا عَلَيْنَا نَصْرَھُمْ“-

امام محمد باقر (ع) نے، اس وقت جب کہ آپ لوگوں کو طواف کرتے هوئے ديکھ رھے تھے فرمايا:

”‌ان کو حکم ديا گيا ھے کہ يھاں (کعبہ کے گرد) طواف کريں اور اس کے بعد ھمارے پاس آئيں اور اپني دوستي اور محبت و نصرت و مدد کا ھم سے اظھار کريں اور اسے ھمارے سامنے پيش کريں “-

شھيدوں پر سلام

عَنْ اَبِي عَبْدِ اللّٰہِ (ع) قَالَ:

اظ•ِنَّ فَاطِمَةَ عليھا السلام کَانَتْ تَاْتِي قُبُورَ الشُّھَدَاءِ فِي کُلِّ غَدَاةِ سَبْتٍ فَتَاْتِي قَبْرَ حَمْزَةَ وَ تَتَرَحَّمُ عَلَيْہِ وَتَسْتَغْفِرُ لَہُ-

امام جعفرصادق (ع) نے فرمايا:

”‌حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ عليھا: ھر سنيچر کي صبح کوشھيدا کي قبروں پر آتيں پھر جناب حمزہ کي قبر پر آتي تھيں اور ان کے لئے رحمت وبخشش کي دعا کر تي تھيں “ -

ائمہ (ع) کي زيارت

قَال الرضا(ع):

اظ•ِنَّ لِکُلِّ اِمامٍ عَہْداً في عُنُقِ اَوْلِيائِہِ وَشِيعَتِہِ

وَاِنَّ مِنْ تَمامِ الوَفاءِ بالعَھْدِ وَحُسْنِ الادءِ زِيارَةُ قُبُورِھِمْ فَمَنْ زارَھُم رَغْبَةً في زيارَتِھِمْ وَ تَصْديقاً بِما رَغبوا فيہِ کانَ ا َئِمَّتُھُم شُفَعائَھُمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ-

امام علي رضا (ع) نے فرمايا:

”‌ھر امام (ع)کاعھدان کے دوستوں اور چاہنے والوں کي گردن پر ھے کہ اس عھد کي مکمل وفا ان کي قبروں کي زيارت ھے پس جو شخص عشق و محبت کے ساتھ اور اس کي تصديق کے ساتھ جس کي طرف وہ رغبت کرتے ھيں ان کي قبروں کي زيارت کرے تو ان کے ائمہ (ع) بھي قيامت ميں اپنے ان زائروں کي شفاعت کريں گے “-