• صارفین کی تعداد :
  • 4054
  • 2/13/2012
  • تاريخ :

"علم " بنظر امام صادق

امام جعفر صادق

ہم نے ديکھا کہ امام جعفر صاد ق نے ادب کي کس طرح تعريف کي اور اب يہ ديکھنا ہے کہ انہوں نے علم کو کس پيرائے ميں بيان کيا اور آپ کا عقيدہ تھا کہ احکام دين کے نفاذ کے بعد ايک مسلمان کيلئے علم والوں سے بڑھ کر کوئي چيز ضروري نہيں ہے جعفر صادق کي مذہبي ثقافت ميں عرفان چوتھا رکن ہے البتہ آ عرفان کو واجبات ميں سے نہيں سمجھتے ليکن علم و ادب کو واجبات کا جزو سمجھتے ہيں اور يہ بات واضح ہے کہ يہ ديني واجبات ميں سے نہيں بلکہ يہ مسلمانوں کي انفرادي اور اجتماعي زندگي کے واجبات ميں شمار ہوتا ہے -

جعفر صادق اس بات سے اگاہ تھے کہ علم و ادب نہ صرف يہ کہ شيعہ مذہب کي ثقافت کي تقويت کا باعث بنيں گے بلکہ دوسري قوموں ميں مسلمانوں کي تقويت کا باعث بھي ہونگے اور اسلامي دنيا ميں علم و ادب نے اس قدر ترقي کي کہ چوتھي صدي ہجري اسلامي دنيا ميں علم و ادب کے سنہري دور کہلايا اور يورپ والوں نے اسلامي علم سے کافي فائدہ اٹھايا جعفر صادق سے سوال کيا گيا کہ متعدد علوم ميں سے کوسنے علم کو دوسروں پر ترجيح حاصل ہے آپ نے فرمايا کوئي علم دوسرے علوم پر قابل ترجيح نہيں البتہ علوم سے استفادہ کرنے کے موارد ميں فرق پايا جاتا ہے جس کے نتجے ميں انسان کيلئے لازم ہے کہ بعض علوم کي تحصيل ميں جلد کرے اور زيادہ سے زيادہ فائدہ اٹھائے اور آج کے دور ميں (عہد جعفر صادق ميں ) دو علوم سے زيادہ فائدہ اٹھانا چاہيے ايک علم دين اور دوسرا علم طب ‘-

جعفر صادق کي علم دين سے زيادہ تر فقہ مراد تھي اور اپ کے کہنے کا مقصد يہ تھا کہ آپ کے زمانے ميں علم قانون اور طب سے زيادہ فائدہ اٹھايا جائے آپ نے فرمايا ايک دن ايسا آئے گا جب انسان ان علوم سے بھي فائدہ اٹھائے گا جن سے في الحال عملي طور پر کوئي فائدہ نہيں اٹھا رہا اور يہ بات محال ہے کہ علم انسان کيلئے سود مند نہ ہو مختصر يہ کہ انسان زمانے کي مناسبت سے علوم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جعفر صادق کا عقيدہ تھا کہ انسان نے دنيا ميں اپني زندگي کے طويل عرصے ميں صرف ايک مختصر عرصے کو علم کيلئے مخصوص کياہے اور زيادہ تر علوم سے دور رہا ہے اور دو چيزوں نے انسان کو علوم سے دور رکھا ہے -

پہلي چيز مربي اور استاد کا نہ ہونا جو اسے علوم حاصل کرنے کا شوق دلائے دوسري انسان کي کاہلي چونکہ علم کو سيکھنا تکليف کے بغير نا ممکن ہے لہذا انسان فطرتا سہل پسند ہونے کي بنا پر علم سے دور بھاگتا ہے -

فرض کيا اس دنيا ميں بني نوع انسان نے دس ہزار سال گزارے ہيں تو انسان نے اس طويل عمر ميں صرف ايک سو سال تحصيل علم کي طرف توجہ دي ہے اور اگر اس عرصے سے زيادہ علوم کي تحصيل پر صرف کرتا تو آج کچھ علوم کے عملي فوائد سے بہر مند ہوتا -

يہاں اس نکتے کي طرف توجہ بے محل نہيں کہ پہلے زمانے کے سکالرز نے عبرانيوں کے کيلنڈر سے حساب لگا کر اس دنيا کي عمر 4800 سال متعين کي تھي ليکن اب سکالرز نے اپنا خيال تبديل کر ليا کيونکہ پہلے دنيا وجود ميں آئي اور پھر انسان کي خلقت ہوئي -

ليکن جب امام جعفر صادق نے اس کي مثال دنيا چاہي تو فرمايا فرض کيا انسان نے اس دنيا ميں د س ہزار سال زندگي بسر کي ہے تو اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ دنيا اور نوع بشر کي خلقت کے بارے ميں عبرانيوں کے کيلنڈر سے متفق نہيں تھے -

اگرچہ ايک مثال ‘ دليل شمار نہيں کي جا سکتي ليکن مثال دينا اس کے تعين کرنے کے مترادف ہے اور اگرچہ جعفر صادق کا يہ عقيدہ نہ ہوتا کہ بني نوع انسان کي عمر 4800 سال سے زيادہ ہے تو آپ ہر گز دس ہزار سال عمر کے بارے ميں گفتگو نہ کرتے بلکہ اس سے کم عمر کي مثال لاتے تين ہزار سال کي مثال ديتے ہم يقينا کہہ سکتے کہ زمين کي خلقت کے بارے ميں جعفر صادق کي معلومات اپنے ہم عصروں سے زيادہ تھيں کيونکہ بعض اوقات ان کي گفتگو سے پتہ چلتا تھا کہ وہ تخليق کے آغاز کي کيفيت سے مطلع ہيں ايک دفعہ اپنے شاگردوں سے فرمايا يہ بڑے بڑے پتھر جو آ پہاڑوں پر ديکھ رہے ہيں شروع ميں مائع حالت ميں تھے اور بعد ميں يہ مائع ٹھنڈا ہو کر موجودہ صورت اختيار کر گيا -

اس نظريئے کي اہميت کو ثابت کرنے کيلئے ( جو ساڑھے بارہ سو سال پہلے پيش کيا گيا تھا ) اتنا کہنا کافي ہے کہ فرانس کے انقلاب کے آغاز اور اٹھارہويں صدي عيسوي کے اختتام تک يورپ کے سکالرز اس بارے ميں تذبذب کا شکار تھے کہ آيا زمين شروع ميں ايک مائع سيارہ تھي يا نہيں ؟ اور اس سے ايک صدي پہلے پورے يورپ کا کوئي ايسا سکالر نہ تھا جو يہ کہتا کہ شايد زمين شروع ميں ايک مائع سيارہ تھي - اس زمانے ميں يہ تصور پايا جاتا تھا کہ زمين اج جس حالت ميں دکھائي ديتي ہے پہلے بھي اسي شکل ميں موجود تھي -

جو کچھ جعفر صادق نے بني نوعي انسان کي تحصيل علوم کے سلسلہ ميں کاموں کا ذکر کيا ہے - حقيقت کے عين مطابق ہے اور آج انسانوں کا مطالعہ کرنے والے سکالرز کا کہناہے کہ جس زمانے سے انسان نے دو پاğ پر چلنا شروع کيا ہے اسے پانچ ہزار سال يا چار ہزار سال ہوئے ہيں اس سے پہلے ہميں يہ توقع نہيں کرني چاہيے انسان نے علوم کي طرف توجہ کي ہو گي کيونکہ چار ہاتھ اور پاğ سے چلنے والے انسان کيلئے يہ بات محال تھي کہ تحصيل علم کيلئے آلہ تيار کرتا اور پھر صنعت سازي کرتا تاکہ اس راستے وہ علوم تک پہنچتا -

ليکن اگر انسان پانچ ہزار سال يا چار ہزار سال بعد بھي جبکہ وہ دو پاğ پر چلتا رہا تھا اور اسکے دو ہاتھ کام کرنے کيلئے ازاد تھے ‘ آلہ بنا سکتا تھا اور اس کے ايک لاکھ سال بعد جبکہ انسان نے آگے سے استفادہ کرنا شروع کيا اور اگر اسکے بعد کے صرف ايک لاکھ سال کے دوران ہي علوم سے دلچسپي دکھاتا تو اج انساني زندگي کے تمام مسائل اور شايد موت کا معمہ بھي حل ہو جاتا -

ليکن ان لاکھوں سالوں کے دوران مجموعي اعتبار سے انسان نے صرف ايک ہزار پانچ سو سال ہي علوم کي طرف توجہ مبذول کي ہے اور اس مختصر عرصہ ميں بھي انسان کي علوم کي طر ف توجہ کبھي کم اور کبھي زيادہ رہي ہے ايک بات جو ہماري نظر ميں نا قابل ترديد ہے وہ يہ ہے کہ ڈکارٹ جسے فوت ہوئے تين صدياں بيت گئي ہيں وہ پہلا شخص ہے جس نے علمي تحقيقي کي بنياد ڈالي اور کہا کہ علمي حقيقت کو جاننے کيلئے جسم کو چھوٹي حصوں ميں تقسيم کرنا چاہيے اور اسکے بعد اسے مزيد چھوٹے چھوٹے حصوں ميں تقسيم کرتے ہوئے اتنے چھوٹے حصے بنانے چاہيں کہ جو چيز حاصل ہو مزيد اس کي تقسيم نہ ہو سکے پھر اس چھوٹے سے جسم کي تحقيق کرنا چاہيے اور اسکي خصوصيات دريافت کرنا چاہيے تاکہ يہ معلوم ہو سکے کہ فزکس اور کيمياء کے لحاظ سے اسکي حالت کيسي ہے ؟ اور اگر ايک جسم کے چھوٹے سے چھوٹے حصے کے خواص معلوم ہو جائيں تو اس پورے جسم کے خواص معلوم کرنا کوئي مشکل نہيں -

عصر حاضر ميں علمي ترقي نہ ہوتي -

يہاں اس بات سے اگاہي ضروري ہے کہ سترھويں صدي عيسوي کے بعد ٹيکنالوجي اور صنعتوں کي توسيع کي وجہ سے ڈکارٹ کا نظريہ کاميابي کي شاہراہ پر گامزن ہوا - ڈاکرٹ سے 22 صدياں پہلے يوناني حکيم ذيم قراطيس نے يہ نظريہ پيش کيا ليکن امام جعفر صادق نے ذيم قراطيس کے نظريئے کي تشريح کرتے ہوئے کہا کہ اشياء کے خواص ہم اس وقت معلوم کر سکتے ہيں جب ہم کسي چيز کے چھوٹے سے ٹکڑے پر تحقيق کريں اور اس کے خواص سے ہم پورے جسم کے خواص تک پہنچ سکتے ہيں -

جس طرح ہم دنيا کے سمندروں کے پاني پر تحقيق نہيں کر سکتے ليکن اگر ايک سمندر کے پانيکے ايک قطرے پر تحقيق کريں تو ہم اس سارے سمندر کے خواص معلوم کر سکتے ہيں اگر صنعتي ترقي نہ ہوتي اور سائنس دانوں کو اجسام کو چھوٹے سے چھوٹے حصوں ميں تقسيم کرنے کے ذرائع ميسر نہ آتے تو ذيم قرطيس اور جعفر صادق کے قول کي مانند ڈکارٹ کا قول بھي تھيوري حد تک محدود رہتا -

اگر آج جب ہم سيکنڈ کا کروڑواں حصہ ايک ملي ميٹر کا کروڑواں حصہ معلوم کر سکتے ہيں تو يہ صرف صنعتي ترقي کا کمال ہے -

بشکريہ : الحسنين ڈاٹ کام

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان