• صارفین کی تعداد :
  • 3173
  • 2/13/2012
  • تاريخ :

جعفر صادق باني مکتب عرفان

امام جعفر صادق

کچھ مسلمان عرفا اور مورخين کا کہنا ہے کہ امام جعفر صادق نے اپنے والد گرامي محمد باقر کے حلقہ درس ميں عرفان کي تعليم بھي حاصل کي تھي -

" تذکرة الاوليا ء " کا مصنف شيخ عطار اسي گرو کے لوگوں سے ہے جب کہ پہلي صدي ہجري ميں عرفان کا وجود ہي نہ تھا اور اگر تھا بھي تو اس نے مکتب کي شکل اختيار نہيں کي تھي شايد عرفاني تفکرات اس زمانے ميں موجود ہوں اور بعض اسلامي مفکرين اسے زبان پر لائے ہوں -

ليکن پہلي صدي ہجري ميں کوئي عرفاني مکتب موجود نہ تھا جس ميں خاص طور پر عرفان کي قسم پر بحث کي جائے اور ايک پيريا مرشد يا غوث ايسا پايا جاتا ہو جو اپنے مريدوں کو اردگرد جمع کرے اور انہيں عرفان کي تعليم دے - دوسرا يہ کہ عرفان افکار کي تجلي کي ايک قسم ہے جس ميں کلاس کي مانند نہيں پڑھا جاتا - اور مرشد يا قطب اپنے مريدوں کو درس نہيں ديتا بلکہ ان سے عمل چاہتا ہے اور کہتے ہيں کہ درس عشق کو قلم ‘ کاغذ اور نوٹ بک کے ذريعے نہيں سيکھا جا سکتا - (بشوئي اوراق اگر ہمدرس مائي - کہ درس عشق در دفتر نباشد ) عرفان دوسري صدي سے وجود ميں آيا يا اس زمانے ميں مکتب کي صورت اختيار کر گيا اور اس سے قبل مکتب نہ تھا جيسا کہ ہميں معلوم ہے تذکرة الاوليا چند مشہور کتابوں ميں سے ايک ہے اور بعض فضال کے نزديک اسلامي دنيا کي معتبر کتابوں ميں سے ايک ہے ليکن اس کتاب ميں بعض ايسي باتيں بيان کي گئي ہيں جن کے غلط ہونے ميں کوئي شک نہيں ہے -

مثلا يہ بات کہ با يزيد بسطامي ‘ جو ايک مشہور عارف ہو گزرا ہے اس نے امام جعفر صادق کے حضور ميں درس تلمذ تہہ کيا ہے - يعني ان کا شاگرد ہو گزرا ہے اس نے امام جعفر صادق سے عرفان بھي سيکھا تھا - تذکرة الاولياء کے مطابق جب وہ علوم حاصل کر چکا اور عرفان ميں داخل ہوا تو اس نے عارف کامل بننے کيلئے ضروري سمجھا کہ دنيا کے بڑے عرفا کي خدمت ميں پہنچے - لہذا وہ بسطام سے نکل پڑا اور تيس سال تک بھوک کو برداشت کرنے اور دوسري تکاليف اٹھانے کے بعد دنيا کے بڑے عرفا کي خدمت ميں حاضر ہوا -

اس دوران ميں اس نے ايک سو تيرہ عرفا کا قرب حاصل کيا جس ميں سب سے آخري جعفر صادق تھے با يزيد بسطامي ہر روز جعفر صادق کي خدمت ميں حاضر ہوتا اور ان کي باتيں غور سے سنتا ان کے نصائح پلے باندھتا اور پوري دل جمعي کے ساتھ ان کي تعليم سنتا - ايک دن جعفر صادق نے اسے کہا " اے يزيد ‘ وہ کتاب جو تمہارے سر کے اوپر طاق ميں ہے مجھے لا کر دو " بايزيد نے کہا آپ کس طاق کے بارے ميں فرماتے ہيں -

جعفر صادق نے فرمايا ايک زمانہ ہو گيا ہے تم يہاں آئے ہو اور ابھي تک تم نے طاق نہيں ديکھا با يزيد بسطامي نے کہا ميں نے آپ کے علاوہ يہاں کسي کو نہيں ديکھا کيونکہ صرف آپکو ديکھنے کيلئے آتا ہوں جعفر صادق نے يہ بات سن کر فرمايا اے با يزيد تمہاري تعليم کا عرصہ پورا ہو گيا ہے اور اب تم بسطام واپس جا سکتے ہو وہاں جا کر لوگوں کو تعليم دو - با يزيد اپني جگہ سے اٹھا اور واپس بسطام پہنچ کر لوگوں کو وعظ و نصيحت کرنے ميں مشغول ہو گيا شايد تذکرة الاولياء کے مصنف نے اس روايت کو درست مجھ کر لکھا ہے ليکن بائيو کرونولوجي يعني واقعہ کا تاريخ کے لحاظ درست ہونا ) کي رو سے صحيح نہيں ہے اور اگر تذکر‘ الاوليا ء کے مصنف نے اسے خود نہيں گھڑا تو صرور يہ کسي دوسرے مصنف کي جعلي روايت ہے جس نے اسے بغير تحقيقي کے نقل کيا ہے کيونکہ امام جعفر صادق دوسري صدي ہجري کے پہلے نصف حصے ميں پڑھاتے تھے اور ان کي تاريخ وفات بھي 148 ہجري ہے جبکہ با يزيد بسطامي تيسري صدي ہجر ميں گزرے ہيں اور ان کي تاريخ وفات 261ہجري لکھي گئي ہے

بايزيد بسطامي کي تاريخ وفات کے بارے ميں اختلاف پايا جاتا ہے ليکن اس ميں شک نہيں کہ وہ تيسري صدي ہجري ميں ہو گزرے ہيں - اور اسي وجہ سے وہ امام جعفر صادق کي خدمت ميں حاضر نہيں ہو سکتے تھے ليکن عرفاني تعليمات کي امام جعفر صادق کے دروس ميں موجودگي سے کوئي بھي انکار نہيں کر سکتا -

امام جعفر صادق کے دروس ميں عرفان کے وجود سے ان کي روحاني شخصيت ہمارے لئے پر کشش بن جاتي ہے جو ہميں بتاتي ہے کہ ذوق کے لحاظ سے آپ گو نا گوں تجليات کے مالک تھے جس عرفان کي ----- دوسري صدي ہجري ميں مشرق ميں ابتداء ہوئيا ور اب تک موجود ہے وہ ايک ايسي چيز ہے جو تخيل فکر اور اپنے آپ ميں گم ہونے سے زيادہ آگے نہيں بڑھتا -

اگرچہ عرفان کے اثرات عارف پر اثر انداز ہوتے ہيں اور اسے خوش اخلاقي و مہربان بنا ديتے ہيں ليکن خود عرفان ايک روحاني خليہ ہے جسکا مادي اور سائنسي علوم سے کوئي تعلق نہيں ہے ايي صورت ميں جبکہ امام جعفر صادق ايک سائنس دان تھے اور مسلمانوں ميں پہلے انسان تھے جنہوں نے تيھوري کو عملي صورت دي اور کسي بھي فزکس اور کيمياء کے نظريہ کو جب تک خود پرکھ نہ ليا - قبول نہيں کيا اس طرح انہوں نے ٹيسٹ کے ذريعے کسي بھي نظريئے کے درست ہونے پر يقين کيا آج کے فزکس دان يا کيميا دن جن ميں سے ايک جعفر صادق بھي تھے کو عرفان سے کوئي دلچسپي نہ ہونا چاہيے تھيکيونکہ فزکس اور کيميا کے تجربات کے ذريعي اسے نہيں سمجھا جا سکتا بلکہ عرفان اپنے نفس کو کنٹرول کرنے کے بڑي مشق کے بعد حاصل ہوتا ہے جعفر صادق جو مسلمانوں ميں پہلے فزکس دان اور کيميا دان تھے اصولا انہيں عرفان سے رغبت نہيں ہونا چاہيے تھي ليکن وہ اس قدر عرفان سے دل چسپي رکھتے تھے کہ زمحشري جو ايک مشحور عالم تھا اپني کتاب " ربيع الابرار " ميں امام جعفر صادق کے علمي درجے کي غير معمولي توصيف کرنے کے بعد آپ کو عرفان ميں سب سے آگے سمجھتا ہے -

تذکرة الاولياء کا مصنف " عطار " جو خود مشہور عارف ہے جعفر صادق کو عرفان کي ابتداء کرنے والوں ميں سے قرار ديتا ہے " تذکرة الاولاياء ‘ ‘کي بعض روايات تاريخي لحاظ سے مرتب نہيں اور کتاب کا مصنف تصنيف کے جذبے سے سر شار اور عرفا کا عاشق تھا لہذا اس نے بعض کے بارے ميں نا دانستہ طور پر مبالغے سے کام ليا ہے اگر وہ غور کرتا تو ہر گز مبالغے سے کام نہ ليتا کيونکہ وہ جانتا تھا کہ مبالغے سے کلام کي وقعت کم ہو جاتي ہے اور اگر تاريخ ميں مبالغے سے کام ليا جائے تو اسے تاريخ نہيں کہا جائے گا جو قلم ز محشري کے ہاتھ ميں تھا ہم اسے ايک مورخ کا قلم کہہ سکتے ہيں اور جو قلم تذکرة الاولياء کے مصنف کے ہاتھ ميں ہے اسے ايک عاشق کا قلم شمار کر سکتے ہيں -

بہر حال اسلامي عرفا اور مورخين ميں سے بعض کا عقيدہ ہے کہ جعفر صادق اسلامي دنيا کے پہلے عارف يا پہلے عرفا ميں سے ايک ہيں اگر ايسا ہے تو کيا جعفر صادق جيسا عارف ايسے طلباء کو جو مسلمان نہ تھے اپنے درس ميں بيٹھنے اور درس حاصل کرنے کي اجازت دے سکتا ہے کيونکہ چند کتابيں اس بات کي گواہ ہيں کہ کچھ ايسے طلباء بھي امام جعفر صادق کے درس ميں شريک ہوتے تھے جو صابئي تھے - صابئين ايک ايسي قوم تھے جن کا مذہب يہودي اور عيسائي مذہب کي درمياني صورت تھي اور توحيد پرست شمار ہوتے تھے -

کچھ صابئين مشرک بھي تھے اور جب اسلام پھيلا تو وہ گروہ جو مشرک تھا اپنے آپ کو توحيد پرست کہلانے لگا تاکہ مسلمانوں کے ہمراہ زندگي گزار سکيں کيونکہ جيسا کہ ہميں معلوم ہے مسلمان ان فرقوں کے لوگوں کو جو توحيد پرست ہوتے تھے اہل کتاب کہتے تھے ان کو کسي قسم کي تکليف نہيں پہنچاتے تھے -

صابئين کي سکونت صران ميں تھي جو جنوبي بين النہرين کے مغرب ميں واقع ہے قديم يورپي تاريخ ميں جس کا نام "کارہ " ہے صابئين کا وہ گروہ جو موحد تھا انکے ہاں رواج تھا کہ بچے کو پيدائش کے بعد غسل ديتے اور اس کا نام رکھتيتھے ان کي اصطلاح ميں اس عمل کو تعميد کہا جاتا ہے -

بعض يورپي محققين جن کا نظريہ دائرةالمعارف الاسلامي کتاب ميں منعکس ہوا ہے ان کا کہنا ہے کہ صبائي ‘ صبع سے مشتق ہے (يعني صاد - با - عين ) جس کے معني پاني ميں غوطہ لگانا يا غسل کرنا ہے کيونکہ صبائي پادري کے پروکار ‘ نومولود کو تعميد کے دوران پاني ميں غوطہ ديتے تھے - زمانے کے ساتھ ساتھ لفظ صابئي سے عين گر گيا اور اس کي موجودہ شکل بن گئي -

وہي يورپي محققين کہتے ہيں ‘ صبائين ‘ يحيي کو جو معمد (يعني غسل دينے والا کے نام سے مشہور ہے اپنا پيغمبر جانتے ہيں -

تذکرة الاولياء کا مصنف کہتا ہے کہ تمام فرقے امام جعفر صادق کے در س ميں حاضر ہوتے تھے - شيخ ابوالحسن خرقاني کہتا ہے مسلمان اور کافر جعفر صادق کے درس ميں حاضر ہوتے تھے ان کے علم و فضل کے دستر خوان سے بہرہ مند ہوتے تھے -

ہميں نہيں معلوم کہ کس طرح جعفر صادق جيسا عارف انسان غير مسلم طلباء کو اپنے درس ميں حاضر ہونے کي اجازت دے سکتا تھا - يا يہ کہ چونکہ وہ ايک وسيع النظر انسان تھے اور علم کو سب کيلئے چاہتے تھے - اس لئے انہوں نے موافقت کي کہ جو کوئي بھي علم دوست ہو ان کے حلقہ درس ميں حاضر ہو سکتا تھا اگرچہ وہ غير مسلم ہي کيوں نہ ہو يہ بات تسليم شدہ ہے جعفر صادق کے شاگردوں ميں سے بعض ايسے بھے تھے جو صابئي تھے اور بعض يورپي محققين جن کے نظريات دائرة المعارف الاسلامي ميں ثبت ہيں - نے لکھا ہے کہ جابر بن حيان جو جعفر صادق کے مشہور شاگردوں ميں سے ايک تھا وہ صابئي قوم سے تعلق رکھتا تھا - صابئي طلباء جو جعفر صادق کے حلقہ درس ميں حاضر ہوتے تھے- نہايت ذي فہم ہوتے اور تحصيل علم کيلئے کافي تکاليف اٹھاتے تھے انہوں نے علمي ميدان ميں خاصي پيش رفت کي ‘ گويا جعفر صادق کا حلقہ درس ان کيلئے ايک ايسي يونيورسٹي بن گيا تھا جس نے صابئي لوگوں کے علم و ثقافت کي بنياد ڈالي -

جب ہم صابئي قوم کي جعفر صادق سے پہلے اور بعد کے دور کي تاريخ کا موازنہ کرتے ہيں تو ہم محسوس کرتے ہيں کہ يہ موازنہ گويا ظلمت کے ساتھ نور کا موازنہ ہے -

امام جعفر صادق سے پہلے صابئي ايک بدوي اور پسماندہ قوم تھے جن کي معلومات بدوğ کيمعلومات سے زيادہ نہيں ہوتي تھيں - حتي کہ وہ صابئي جو موحد شمار ہوتے تھے ان کي معلومات بھي صحرانشين قبائل سے زيادہ نہيں ہوتي تھيں - ليکن جعفر صادق کے دور کے بعد صابئي قوم ايک ثقافت کي وارث بن گئي اور اس قوم ميں اتنے قابل سائنس دان پيدا ہوئے جنہوں نے طب ‘ فزکس و کيمياء ‘ انجينئرنگ ميں ساري دنيا ميں نام پيدا کيا اور آج ہم ان کے نام دائرة المعارف جيسي کتابوں ميں پڑھتے ہيں -

جعفر صادق کي يونيورسٹي کے سبب صابئي پسماندہ قوم ايک متمدن قوم بن گئي اور اس متمدن معاشرے سے ايسے سائنس دان اور اديب پيدا ہوئے جن کے کارناموں سے دنيا مستفيد ہوئي اس کے ساتھ جعفر صادق کي يونيورسآٹي صابئي قوم کے باقي رہنے کا موجب بني جو قوم اپنے آپ کو نہيں پہچانتي اور اپني تاريخ سے مطلع نہيں ہوتي اگرچہ اس قوم ميں قابل لوگ ہوں ليکن ان کي اپني ثقافت نہ ہو تو وہ قوم مٹ جاتي ہے -

مگر وہ قوم جو تاريخ رکھتي ہو اور اپنے آپ کو پہچانتي ہو اور اس ميں قابل افراد بھي پائے جاتے ہوں اور اس کے ساتھ وہ اپني ثقافت بھي رکھتي ہو تو وہ قوم نہيں مٹتي جس طرح صابئي نہيں مٹے اور ابھي تک باقي ہيں اگرچہ ان کي تعداد پہلے کي مانند نہيں ہے ليکن ابھي تک ان کا کچھ حصہ اپنے قديم رہائشي قطعات پر زندگي بسر کر رہا ہے-

شيخ ابوالحسن خرقاني بھي زمحشري اور عطار نيشا پوري کي مانند جعفر صادق کا بہت احترام کرتا ہے اور انہيں اسلامي دنيا ميں عرفا کا پيشوا سمجھتا ہے شيخ ابوالحسن خرقاني کو ايک تاريخي محقق بھي تسليم کر سکتے ہيں کيونکہ انہوں نے عرفان کي بجياد کے بارے ميں تحقيق کي اور اس بات کا کھوج لگايا کہ عرفان اسلام سے قبل بھي مشرق ميں موجود تھا - ليکن وہ اسلام سے قبل ايران ميں عرفان کي جڑوں کو نہيں ڈھونڈ سکے -

کيونکہ شيخ ابوالحسن خرقاني نے زرد شتي مذہب کے بارے ميں زيادہ تحقيق نہيں کي - انہيں ايران ميں عرفان کي بنياديں تلاش کرنے کيلئے زردشتي مذہب کو مد نظر رکھنا چاہيے تھا -

آج ہميں معلوم ہے کہ عرفان اسلام سے پہلے ايران ميں چند بنيادوں پر استوار تھا اور ان ميں سے دو بنياديں دوسروں سے زيادہ اہميت کي حامل تھيں ايک وہ عرفان جو زردشتي مذہب سے وجود ميں آيا اور دوسرا وہ عرفان جو مکتب اسکندريہ سے ايران ميں پہنچا -

شيخ ابوالحسن خرقاني زردشتي مذہب کي بنياد کے بارے ميں زيادہ تحقيق نہيں کر سکے کيونکہ انہوں نے اس مذہب کو درخوراعتنا نہيں سمجھا جبکہ چوتھي صپدي کے دوسرے نصف حصے اور پانچويں صدي ہجري کے نصف حصے کے دوران جو شيخ خرقاني کي زندگي کا حصہ ہے اب تک ايران کے بعض خطوں کے لوگ پہلوي ساساني زبان ميں گفتگو کرتے تھے ليکن مسلمان تھے اور کچھ لوگ جو پہلوي زبان ميں گفتگو کرتے تھے اور شيخ کي پيدائش کي جگہ کے نزديک رہتے تھے يہ محال ہے کہ شيخ نے انہيں نہ ديکھا ہو اور انکي زبان نہ سني ہو - وہ يہوديوں اور عيسائيوں کے مذہب کو اچھي طرح جانتا تھا - ليکن زردشتي مذہب کي ماہيت سے مطلع نہيں تھا - بہر حال اسلام سے قبل عرفان کے بارے ميں اس کي تحقيق قابل توجہ ہے -

فرانسيسي مستشرقين کي وسيع تحقيقات جو سترھويں صدي عيسوي سے ليکر موجودہ دور تک پھيلي ہوئي ہيں - ہندوستان کي قديم کتابوں کا ترجمہ اور خاص طور پر ادويہ کي کتابيں ثابت کرتي ہيں کہ قديم ادوار ميں ہندوستان اور ايران کے درميان گہرے فکري اور ثقافتي روابط تھے - اور ہر دو ممالک کي ثقافت پر ان روابط کا گہرا اثر تھا - سترھويں صدي عيسوي کے بعد يورپي مستشرقين نے جان ليا کہ زردشتي مذہب ميں ہندي افکار بھي پائے جاتے ہيں اس ميں شک و شبہ کي کوئي گنجائش نہيں کہ زردشتي عرفان نسبتا کچھ زيادہ ہي ہندي افکار سے ملتا جلتا ہے -

البتہ زردشتي مذہب اور ہندوğ کا مذہب دو مختلف چيزيں ہيں -زردشتي مذہب ميں دو خداğ اور ہندوğ ميں تين کا وجود ان دو ميں فرق ڈالتا ہے زردشت مذہب والوں نے جب ہندوğ کے افکار کو جانليا تو وہ جہاں بھي ہوتے ہندوğ کے تين کے تصور سے پرہيز کرتے - انہوں نے اپنے مذہب کي بنياد دو کے تصور پر رکھي کيونکہ ان کا عقيدہ تھا کہ دنيا کي بنياد اضداد پر رکھي گئي ہے اور ہر چيز کے دو قطب يعني منفي اور مثبت ہيں -

اگر شيخ ابوالحسن خرقاني اسلام سے قبل کے ادوار کے زردشتي اور مکتب اسکندريہ کے عرفان ميں فرق کر سکتے تو وہ آساني سے سمجھ سکتے تھے کہ زردشتي عرفان تين کے تصور سے وجود ميں آيا ہے ليکن وہ عرفان جس کي بنياد امام جعفر صادق نے رکھي وہ توحيدي عرفان ہے اور اس ميں دو يا تين کا ذرا بھي تصور نہيں پايا جتا ‘ اور گہرائي ميں جائے بغير ہي يہ عرفان انسان کو تزکيہ نفس اور روح کي باليدگي کي جانب لے جاتا

ہے يہ اس قدر بلند ہے کہ نہ تو جعفر صادق کے زمانے ميں اور نہ از کے بعد عام لوگوں کي اس تک رسائي ہو سکي ہے جبکہ بعد کے ادوار ميں عرفان چند مکاتب کا حامل بن گيا ليکن اس کے باوجود بھي جس عرفان کي جعفر صادق نے بنياد ڈالي تھي وہ عام لوگوں کي دسترس سے باہر رہا -

جعفر صادق کا عرفان نہ تو ہندوğ اور عيسائيوں جيسا تين خدئاوں کا تصور رکھتا ہے نہ ہي زردشتيوں کي مانند دو خداğ کے تصور پر مبني ہے اور نہ ہي بعد کے ادوار ميں عرفان ميں مبالغہ آرائي کي کيفيت سے دو چار ہے-

بعد ميں جب عرفان مکاتب وجود ميں آئے تو ان مکاتب کے بعض بانيوں نے عرفاني فکر ميں اس قدر مبالغہ سے کام ليا کہ ان پر کفر کے فتوے لگائے گئے اور يہ بھي ديکھا گيا کہ ان کي مبالغہ آرائي کے نتيجے ميں ان کے پيروکار تک بھي ان سے منحرف ہو گئے بعض عرفا تو اپنے آپ کو خداوند کے برابر سمجھنے لگے -

از زمحشري کي ان سے نفرت بيجا نہيں تھي البتہ زمحشري ‘ امام جعفر صادق اور انکے پيروکاروں کے علاوہ دوسرے عرفاء سيبھي نفرت کرتا تھا - مرتضي فرہنگ جو ايران کے دانشوروں ميں سے ايک ہے - کا کہنا ہے کہ بعض کا عرفان ميں نے ايک ايسے پتھر سے زيادہ پايا جو کسي کو نقصان نہ پہنچا سکے - ليکن خود مرتضي فرہنگ بھي عرفاني ذوق رکھتا تھا اس نے اپني بعض تصانيف ميں عرفان کا دفاع بھي کيا ہے ليکن جعفر صادق کا عرفان مبالغے سے مبرا تھا نہ صرف يہ کہ شيعہ مذہب کے عرفا نے اس کي پيروي کي بلکہ اہل سنت و جماعت کے عرفا کے ايک گروہ نے جعفر صادق سے عرفان کا درس حاصل کيا حتي کہ جعفر صادق کے دو سو سال گزر جانے کے بعد عباسي خلفاء کے مرکز بغداد ميں سني المذہب جعفر صادق کي پيروي کرتے تھے -اسلام ميں عرفان کا يہ باني ايک عباسي خليفہ کے ہاتھوں قتل ہو گيا تھا -

جعفر صادق کا عرفان ‘ خداوند تعالي پر توکل اور اس کے احکامات کي پروي ہے آپ نے اس کے ساتھ ساتھ دنيوي امور ميں بھي غفلت نہيں برتي تاکہ زندگي کا نظم و ضبط تعطل کا شکار نہ ہو - " عطار نيشا پوري " تذکرة الاولياء ميں لکھتا ہے کہ با يزيد بسطامي تيس سال تک بڑے بڑے عرفا کي حضور ميں حاضري کيلئے بيابانوں ميں ٹھوکريں کھاتا اور بھوک برداشت کرتا رہا - آخر کار وہ جعفر صادق کے حضور ميں حاضر ہوا اسے اس بات کا علم نہيں تھا کہ جعفر صادق با يزيد کے ترک دنيا پر اور تيس سال بيابان ميں بھوک برداشت کرنے پر خوش نہيں ہيں اگر با يزيد بسطامي کي جعفر صادق کے حضور ميں حاضر ہونے کي روايت صحيح ہے تو عرفان کے باني نے اسے ضرور تنبيہہ کي ہو گياور کہا ہو گا کہ کيوں تيس سال زندگي بيابانوں ميں بسر کي اور بيوي فرزندوں کے بارے ميں اپنے فرائض سے غافل رہے کيونکہ جعفر صادق عرفان دنيا کے ترک کرنے کے حق ميں نہيں اور کہتا ہے کہ ہر ايک کو چاہيے کہ اپنے دنيوي امور کو اخروي امور کے ساتھ منظم کرے -

جعفر صادق کے بعد عرفاني مکاتب نے انا للہ و انا اليہ راجعون سے يہ مراد ليا ہے کہ آدمي مرنے کے بعد خدا سے وابستہ ہو جاتا ہيا ور خدا بن جاتا ہے وہ زندگي کے دوران خدا کيوں نہيں بن سکتا مرنے کے بعد آدمي کے خدا بن جانے کے عقيدے سے يہ نظريہ پيدا ہوا کہ چونکہ آدمي خدا بن کر زندہ جاويد اور تمام چيزوں سے آگاہ ہو جاتا ہے لہذا اس دنيا کے حالات کو اچھي طرح ديکھ سکتا ہے وہ اپنے قرابت داروں کو ديکھتا اور انکي مشکلات کو حل کر سکتا ہے - مرنے کے بعد زندگي کا عقيدہ صرف مسلمانوں ميں ہي نہيں بلکہ يہ عقيدہ تمام قديم مذاہب ميں پايا جاتا ہے ہم گذشتہ مذاہب ميں سے دو مذاہب کے عالوہ کسي تيسري مذہب کو نہيں پاتے جس ميں مرنے کے بعد زندگي کا تصور نہ ہو - حتي کہ وہ مذاہب جن ميں مردے کو جلاتے اور اس کے باقيات دريا ميں بہاد ديتے تھے - ان کا بھي عقيدہ تھا کہ وہ مردہ دوسري دنيا ميں زندہ ہے صرف مانوي مذہب اور باطني فرقہ جو اسماعيلي فرقے کي ايک شاخ ہے ان دو کا عقيدہ تھا کہ مرنے کے بعد آدمي ہميشہ ہميشہ کيلئے ختم ہو جاتا ہے ان دونوں کے پيروکار آخرت پر بھي ايمان نہيں رکھتے تھے -

ليکن حسن بن صباح کے بعد باطني فرقے کے پيشوا متوجہ ہوئے کہ ان کے پيروکاروں کو مرنے کے بعد معاد کي زندگي جزا اور سزا کا معتقد ہونا چاہيے - تاکہ وہ ان ميں سے ہر ايک کے اندر ايک پوليس ہو جو اسے برے کاموں کے ارتکاب سے منع کرے ان دونوں فرقوں کے علاوہ تمام اديان ميں وحداني يا باطني پوليس کا وجود موجود تھا اور وہ معاد کے قائل تھے -

ان ميں سے بعض ميں مثلا قديم مصر ميں عقيدہ تھا کہ مرنے کے بعد انسان کے اعمال کي جزاو سزا ملنا شروع ہو جاتي ہے اور بعض ميں ان کي زندگي کي موت اور اس دوسري دنيا ميں اعمال کي سزا و جزا ميں فاصلہ پايا جاتا ہے يہاں تک کہ وحشي قبائل ميں بھي مرنے کے بعد کي زندگي کا عقيدہ موجود ہے - اور وہ بھي اس بات کو ماننے کيلئے تيار نہيں ہيں کہ انسان مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہيں ہوتا -

ڈاکٹر لاي وينک اسٹون جو دريائے نيل کے منابع کا دريافت کرنے والا ہے جس نے انيسويں صدي عيسوي ميں اپنے سياحت ناميا ور انکشافات کے مجموعے کو انگلستان کي شاہي حکومت کي جغرافيہ کي تنظم کو تحفتہ پيش کيا جتنے عرصہ وہ مرکزي افريقہ ميں رہا ‘ وہ ہر قبيلہ ميں گيا اور اس نے مشاہدہ کيا کہ قبائل کے لوگ اپنے مردہ اجداد کي زندگي کے معتقد ہيں اور ان ميں بعض قبيلے امور زندگي ميں اپنے مردہ اجداد کے ارادہ کو موثر سمجھتے ہيں - اور افريقہ کے قابل ميں سے کچھ لاي وينک اسٹون نے مرکزي افريقہ ميں ديکھا اور سنا اور اسي طرح دوسري لوگوں نے دوسري علاقوں ميں مشاہدہ کيا کہ کوئي قبيلہ جتنا پسماندہ ہو گا اس کا عقيدہ مرنے کے بعد کي زندگي کے بارے ميں اتنا ہي پختہ ہو گا اس کا يہ مطلب ہر گز نہيں کہ جو قوميں ترقي يافتہ اور متمدن ہيں ان ميں موت کے بعد کي زندگي کا نظريہ نہيں پايا جاتا بلکہ آج ايک امريکي اور فرانسيسي بھي موت کے بعد زندگي کا قائل ہے ليکن اس کا عقيدہ سياہ فام سے مختلف ہے -

سيام فام اس بات کا قائل ہے کہ موت کے بعد کي زندگي اور اس دنيا کي زندگي ميں ذرا بھي فرق نہيں ہو گا جبکہ ايک امريکي يا فرانسيسي يہ گمان کرتا ہے کہ موت کے بعد کي زندگي ميں بھي وہ اسي طرح غذا کھائے گا ‘ لباس پہنے گا اور پکچر ديکھنے کيلئے سينما جائے گا اسي لئے بعض مفکرين کہتے ہيں کہ موت کے بعد زندگي کا عقيدہ انسان کے فطري عقائد ميں سے ايک ہے اگرچہ بيالوجي کے مظاہر اور اعضائے انساني کے ٹائم ٹيبل کے نظام سے اس کا کوئي تعلق نہين مثلا جيسا کہ بھوک اور پياس جانداروں کي زندگي کا خاصہ ہے -

بہر کيف چونکہ موت کے بعد زندگي کا عقيدہ قديم ترين اداوار ميں بھي موجود تھا اور شايد يہ عقيدہ اسلام سے نسل در نسل انسانوں تک پہنچتا رہا ہو کہ اتنا پختہ ہو گيا کہ انساني فطرت کا حصہ بن گيا اور صرف وہ آدمي جو معاشرے ميں نہ رہا ہو اور متمدن يا وحشي تہذيب کے عقائد اس تک نہ پہنچے ہوں اس عقيدے سے مبرا ---- ہو سکتا ہے تمام مذاہب جو موت کے بعد زندگي کے معتقد ہيں ان ميں معاد کي بنياد اسي فطري عقيدے پر رکھي گئي ہے ہر وہ مذہب جس ميں معاد پر اعتقاد پايا جاتا ہے اس نے اس فطري عقيدے سے فائدہ اٹھا کر انسانوں ميں وجداني يا باطني پوليس پيدا کي ہے قديم مصر ميں يہ عقيدہ تھا کہ اگر کوئي شخص دوسرے کا مال چوري کرے گا تو دوسري دنيا (مغربي دنيا ) ميں وہ ہميشہ کيلئے تاريکي ميں زندگي بسر کرے گا اور سورج کي روشني اس تک نہيں پہنچے گي حتي کہ وہ ايک چراغ سے بھي فائدہ نہيں اٹھا سکے گا -

زرد شتي مذہب ميں عقيدہ تھا کہ دوسري دنيا ميں چنوند (بروزن در بند ) ايک پل ہے جو گنہگار ہو گا وہ اس پل پر سے نہيں گزر سکے گا اور وہيں گر جائے گا - مشرق کے عرفاني مکتب فکر نے مسلمانوں کے موت کے بعد زندگي کے فطرت اور مذہبي عقيدہ سے فائدہ اٹھايا اور اپنے پيروکاروں کي روح کي پرورش کيلئے راستہ ہموار پايا بس انہيں اس بات کي ضرورت پيش نہ آئي کہ وہ اپنے پيروکاروں کي روح کي پرورش ابتداءسے کريں اور اس ابتداء ميں ايک عرصہ صرف کريں پھر کہيں جا کر ان کے پيروکار اس بات کو سمجھيں کہ آدمي موت کے بعد زندہ رہتا ہے اور انہيں ايسے کاموں کي طرف شوق دلائيں جن کي وجہ سے وہ مرنے کے بعد اعلي مقام پر فائز ہو سکيں - يہ کام عرفان کي پہلي سيڑھي تھي ليکن عرفاء دوسري صدي ہجري کے خاتمہ پر اس سے بلند مرتبے تک پہنچ گئے اور عرفان کي بنياد اس پر رکھي کہ انسان اسي دنيا ميں بلند ترين مرتبے تک پہنچ گئے اور عرفان کي بجياد اس پر رکھي کہ انسان اسي دنيا ميں بلند ترين مرتبے تک پہنچ گئے اور عرفان کي بنياد اس پر رکھي کہ انسان اسي دنيا ميں بلند ترين مرتبے تک پہنچ جائے اور جو چيز اس فکر کو وجود ميں لائي وہ موت کے بعد زندگي کا عقيدہ تھا ہم کہہ سکتے ہيں کہ اگر مسلمان يا دوسري اقوام موت کے بعد زندگي کي معتقد نہ ہوتيں تو عرفان وجود ميں نہ آتا اس لئے کہ عرفان کے وجود ميں آنے کا کوئي راستہ نہ تھا - عارفوں نے کہاہے يہ انسان جو مرنے کے بعد بدون شک و ترديد زندہ رہتا ہے اور موت لباس کي تبديلي کے علاوہ کچھ بھي نہيں پھر کيوں نہ انسان اسي دنيا ميں روح کي تکميل کے اعلي ترين مرتبے تک نہ پہنچے اور اپنے آپکو ملکوت تک نہ پہنچائے چہ جائيکہ وہ صبر کے تاکہ موت کے بعد کامل انسان کے اعلي مرتبے پر فائز ہو -

عرفان کے متعدد مکاتب فکر کا آخري ہدف يہ رہا ہے کہ انسان اسي دنيا کي زندگي ميں اپنے آپکو ملکوت تک پہنچائيا ور جب ہم عرفان کے مفہوم کي وضاحت کرتے ہيں تو اس نتيجے پر پہنچتے ہيں کہ عرفان کا مقصد يہ ہے کہ انسان اسي دنيا ميں اور موت سے پہلے اپنے آپ کو خدائي مرتبے تک پہنچائے ليکن جعفر صادق کے عرفان ميں يہ موضوع نہيں پايا جاتا اور انہوں نے کہا کہ انسان کو اس دنيوي زندگي ميں خدائي کے مرحلے تک پہنچ جانا چاہيے - يہ عقيدہ جعفر صادق کے بعد کے عرفاني مکاتب فکر کي پيدوار ہے اور دو چيزيں عرفاني مکاتب فکر ميں اس عقيدہ کو وجود ميں لائيں ايک يہ کہ آدمي موت کے بعد بھي زندہ رہے گا اور دوسرا وحدت وجود کا نظريہ -

وحدت وجود کا نظريہ جو جعفر صادق کے بعد مشرق ميں دو بڑے عرفاني مکاتب فکر کي بنياد بنا- اس ميں کوئي شک نہيں کہ يہ نظريہ مشرق کي پيدوار ہے اور ہندوستان و ايران سے اٹھا اور پھر مشرق سے يورپ گيا وہاں اس نظريئے کے بہت سے حامي پيدا ہوئے -

جعفر صادق وحدت وجود پر يقين نہيں رکھتے تھے اور مخلوق کو خالق سے جدا سمجھتے تھے جو لوگ وحدت وجود کے حامي تھے وہ کہتے تھے کہ خدا اور جو کچھ اس نے خلق کيا ہے. ميں کوئي فرق نہيں مگر يہ کہ صرف حالت کا فرق ہے يعني شکل و لباس وغيرہ کا تفاوت ہے -

عام جامد اشياء درخت ‘ دوسرے جاندار يہي خدا ہے کيونکہ شروع ميں خدا کے علاوہ کچھ نہ تھا اور چونکہ جہان کا آغاز و انجام نہيں ہے يہ چيزيں بھي خدا کے بغير وجود ميں نہيں آ سکتيں اور چونکہ خدا کے علاوہ کوئي چيز نہ تھي اور نہ ہے - لہذا جمادات درختوں اور جانوروں کا خمير خدا نے اپني ذات سے اٹھايا ہے پس اسي لئے خداوند عالم اور جو کچھ اس نے پيدا کيا ہے ماہيت کے لحاظ سے ان دو ميں کوئي فرق نہيں ہے -

بشکريہ : الحسنين ڈاٹ کام

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان