• صارفین کی تعداد :
  • 3466
  • 2/8/2012
  • تاريخ :

سورۂ بقره کي آيات  نمبر 13-11 کي تفسير

بسم الله الرحمن الرحیم

  سان و عام فہم سلسلہ وار تفسير کے نئے غاز " کلام نور " کے ساتھ حاضر ہيں انساني معاشرے ميں مختلف فکر کے لوگ پائے جاتے ہيں اور ايمان و عقائد کے لحاظ سے ان کي پہچان نہ ہو تو انسان معاشرت کے حقوق و فرائض صحيح طور پر ادا نہيں کرسکتا - قرن حکيم چونکہ ہدايت و رہنمائي کي ايک کامل اور جامع کتاب ہے اس لئے خداوند متعال نے اپني اس کتاب کے غاز ميں ہي عقيدہ ؤ عمل کے اعتبار سے لوگوں کو تين گروہوں ميں تقسيم کرکے ہر ايک کي خصوصيات بيان کردي ہيں کہ مومنين ، کافرين اور منافقين کے درميان پہچان کے لئے ايک انسان کو کن باتوں پر توجہ دينا چاہئے ؟ چنانچہ پرہيزگار مومنين اور انتہاپسند کافرين کا ذکر کرنے کے بعد معاشرے کے خطرناک ترين گروہ منافقين کي خصوصيات بيان کرتے ہوئے خداوند عالم فرماتا ہے کہ منافقين اللہ اور يوم خرت پر ايمان کے دعويدار ہيں مگر يہ لوگ نہ اللہ پر ايمان رکھتے نہ روز قيامت پر، بہ زعم خود وہ خدا کو اور اس کے مومن و ديندار بندوں کو دھوکہ دينے کي کوشش کرتے ہيں ليکن انہيں نہيں معلوم وہ خود اپنے پ کو دھوکہ دے رہے ہيں ان کے قلوب بيماري ميں مبتلا ہيں اور اللہ بھي ان کے اس مرض ميں اور اضافہ کرکے ان کو دردناک عذاب سے دوچار کرديتا ہے اسکے بعد سورۂ بقرہ کي گيارہويں اور بارہويں يات ميں خدا نے انکي ايک اور خصوصيت بيان کي ہے کہ وہ معاشرے ميں خراب کارياں کرتے ہيں اور خودکو "اصلاح پسند" کہتے ہيں ارشاد ہوتا ہے: " وَ اِذَا قِيلَ لَہُم لَا تُفسِدُوا فِي الاَرضِ قَالُوا اِنّمَا نَحنُ مُصلِحُونَ اَلَا ِانّہُم ُہمُ المُفسِدُونَ وَلکِن لّا يَشعُرُونَ"( يعني ) جس وقت ان ( منافقين ) کو روئے زمين پر تخريب کاري سے روکا جاتا ہے کہتے ہيں: ہم لوگ تو بلاشبہ " اصلاح پسند " ہيں ياد رکھئے يہ لوگ تخريب کار ہيں ليکن وہ اتنا شعور بھي نہيں رکھتے -جي ہاں ! منافقين اپنے نفس کے فريب ميں پڑکر بہ زعم باطل، خود کو " مصلح قوم " کي فہرست ميں قرار ديتے ہوئے اپنے لئے " قومي امتياز و اعتبار " کے بھي متمني ہوتے ہيں اور اس سے ان کے جھوٹے ہونے کا پتہ چلتا ہے ورنہ منافقين کے ادعائے ايمان ميں ان کے جھوٹے ہونے کے ساتھ ، دشمنوں تک جھوٹي خبريں پہنچانے کا عنصر بھي پوشيدہ ہے جس سے خداوند عالم پہلے ہي پردہ اٹھاچکا ہے چنانچہ اس مقام پر ان کے " تخريب کار " يا " مُفسِد فِي الاَرض" ہونے پر زور ديا گيا ہے ظاہر ہے منافقين کي تمام جہالتوں کا اصل راز ان کا يہي " مفسد" اور خرابکار ہونا ہے جس کے سبب ان کي " فکر" وہم و خيال ميں اور ان کا " عمل " غضب و شہوت ميں اسير ہوجاتا ہے اسي لئے وہ قرني يات کي تلاوت و تفسير اور نبي (ص) و امام (ع) کے اقوال و ارشادات يا علما ؤ صالحين کے امر بالمعروف اور نہي عن المنکر کي دعوت و ہدايت پر کان نہيں دھرتے ان کے پاس بس ايک ہي جواب ہوتا ہے کہ ہم تو " اصلاح پسند " ہيں اور اصلاح چاہتے ہيں حالانکہ قرن نے ان کو " مفسدين " ميں قرار ديا ہے اور قرن ميں " افساد " يا تخريب کاري " اصلاح" کے مقابلے ميں استعمال ہوئي ہے سورۂ شعراء کي يت ايک سو باون ميں ہے : " اَلّذِينَ يُفسِدُونَ فِي الاَرضِ وَ لَا يُصلِحُونَ " يہ وہ لوگ ہيں جو فساد پھيلا رہے ہيں ان کا کام اصلاح نہيں ہے ، سورۂ اعراف ميں خدا حکم ديتا ہے : " لَاتُفسِدُوا فِي الاَرضِ بَعد اِصلَاحِہَا " ( يت 56 ) دنيا ميں فساد نہ پھيلاؤ جبکہ اس کي اصلاح کردي گئي ہے - چنانچہ " افساد" ہر قسم کي خرابي، برائي اور بدعنواني کا نام ہے جيسے " اصلاح" ہرطرح کي درستي کو کہتے ہيں جھوٹے پروپيگنڈے،افواہيں ، شکوک و شبہات اسلام اور اسلامي نظام کے خلاف سازشيں، جھگڑے ، فساد ، بدنظمي اور دہشت گردي کي مانند انساني زندگي ميں ايجاد کي جانے واي ہر برائي "افساد " کے مصاديق ميں شمار ہوتي ہے جو منافقين کے خصوصيات ميں سے ہے - عزيزان محترم! يت ميں لفظ " انّما" کا استعمال بتاتا ہے کہ منافقين نہ صرف يہ کہ خود کو "اصلاح پسند" کہتے بلکہ " اصلاح پسندي " کو اپنے اندر منحصر سمجھتے ہيں حتي اس سلسلے ميں قسم کھانے سے بھي تکلف نہيں کرتے سورۂ توبہ يت ايک سو سات ميں خدا فرماتا ہے :" وَ لَيَحلِفُنّ اِن اَرَدنَا اِلّا الحُسني" اور قسميں کھائيں گے کہ سوائے بھلائي کے ہم کوئي اور نيت نہيں رکھتے ليکن " لايشعرون " انہيں اتنا بھي شعور نہيں ہے - در اصل " صحيح تفکر" اور " صحيح عمل " مومنين کي پہچان ہے اور يہ ايمان کے دوبنيادي رکن ہيں اور منافق ان دونوں سے محروم ہوجاتا ہے اور حق کو باطل،کفر کو ايمان اور افساد کو اصلاح سمجھنے لگتا ہے - قرن نے منافقين کي بداعماليوں کا مختلف مقامات پر مختلف يات و سور ميں ذکر کيا ہے خاص طور پر سورۂ منافقوں اور سورۂ توبہ ميں منافقين کي سرشت و فطرت کو پوري طرح نماياں کرديا گيا ہے کہ دشمنان اسلام سے جہاد کے مواقع پر ميدان سے فرار کرجاتے ہيں کہ مجاہدين کے جذبۂ شہادت کو کمزور کرديں يا انفاق و خيرات کے مرحلے ميں مومنين کے جذبۂ اخلاص کا مذاق اڑاتے ہيں کہ يہ سب بيوقوفي کے کام ہيں اس معمولي سي رقم يا امداد سے کيا ہونے والا ہے ؟ دوسري طرف دشمنوں کے ساتھ ساز باز اور خوں ريزي سے اجتناب کي مانند نعرے لگاکر معاشرے کي بھلائي کا ڈھونگ رچنا اور مسلمانوں کو خدا و رسول کے احکام سے بھاگنے کي راہ دکھانا ان کا اصل ہدف و مقصد ہے چنانچہ سورۂ بقرہ کي تيرہويں يت ميں خدا فرماتا ہے : " وَ اِذَا قِيلَ لَہُمُ امِنُوا کَمَا امَن النّاسُ ، قَالُوا اَنُؤمِنُ کَمَا امَنَ السّفَہَاءُ اَلَا اِنّہُم ہُمُ السّفَہَاءُ وَ لَکِن لّا يَعلَمونَ " ( يعني) جس وقت ان ( منافقين) سے کہا جاتا ہے کہ تم لوگ بھي تمام لوگوں کي مانند ايمان لے ؤ تو وہ ( غرور و تکبر سے) کہتے ہيں : ( کيا کہنا) کيا ہم بھي ( جاہلوں اور) بے وقوفوں کي مانند ايمان لے ئيں ؟ ! ياد رکھئے ! يہ لوگ خود بيوقوف ہيں ليکن ان کو اس کا علم نہيں ہے - خداوند عظيم نے بظاہر مہاجرين و انصار کي تکريم ميں منافقين کو متوجہ کيا کہ جسطرح دوسرے تمام مسلمان ايمان لائے ہيں تم بھي دل سے ايمان لے ؤ خالي زباني باتيں کرنے سے کوئي فائدہ نہيں ہے زبان و دل ميں يک رنگي و ہم ہنگي لازم ہے تو قرن کي اس دعوت پر وہ بھي کھل گئے کہ ہم سے يہ توقع نہ کيجئے کہ ہم بھي بے وقوفوں کي مانند ايمان لے ئيں گے اور اپنے اچھے اور برے سے نکھيں بند کرليں گے دراصل ان کي نگاہ ميں وحي کي باتيں افسانہ اور غيب پر ايمان بے وقوفي کي چيز تھي وہ خود کو روشنفکر اور مسلمانوں کو بے عقل کہا کرتے تھے - جواب ميں خدا فرماتا ہے کہ يہ لوگ خود عقل و خرد سے محروم ہيں اگرچہ اس کا انہيں علم نہيں ہے ظاہر ہے منافقين کي يہ باتيں ان کي عقليں ، کينہ ؤ عناد ميں اسير و مقيد ہوجانے کے سبب تھيں وہ خود کو دوسروں سے بالاتر سمجھتے اور حقارت کي نگاہ سے ديکھتے تھے کہ يہ لوگ کس قدر بے وقوف ہيں جو وحي و رسالت کي ہر بات ساني سے باور کرليتے ہيں اور حور و جنت کي مانند خوش کن باتيں سنکر دشمنان دين کے خلاف جہاد و قرباني کےلئے بے چون و چرا تيار ہوجاتے ہيں خدا و رسول کي يہ اندھي اطاعت نہيں تو اور کيا ہے يہ لوگ سفيہ يعني اپنے فائدے اور نقصان سے ناواقف ہيں !! عقل و فہم سے بے بہرہ ہيں ! دنيوي عيش و طرب اور مادي لذت و شہوت ميں گرفتار انسانوں کو " دينداري " اور " خرت طلبي " بے وقوفي اور بے خردي نظر تي ہے جبکہ توحيدي نقطۂ نگاہ ميں " ماديت" اور " دنيا پرستي " بے عقلي اور سفاہت ہے - سورۂ بقرہ کي يت ايک سو تيس ميں خدا فرماتا ہے : " وََ من يّرغَبُ عَن مّلّتِ اِبراہيمَ اِلّا مَن سَفِہَ نَفسَہ "

اور کون ہے جو دين ابراہيم (ع) سے دوري پسند کرےگا مگر يہ کہ وہ محض بے وقوف ہو، معلوم ہوا : نفاق کے ثار صرف افراد تک محدود نہيں رہتے ، پورے معاشرے کو فساد ميں مبتلا کرديتے ہيں جبکہ منافق خود کو " مفسد " کے بجائے " مصلح " اور اصلاح پسند سمجھتا ہے چنانچہ عوام و خواص ہر ايک کو منافق کي اس کيفيت سے واقف اور ہوشيار رہنا چاہئے تا کہ ہم منافق کي اصلاح پسندي! کا شکار نہ ہوں -

·   اہل دين و ايمان کي تحقير و توہين منافقين کا طريقہ اور وطيرہ ہے کيونکہ وہ بزعم خود، اپنے کو دوسروں سے زيادہ عاقل و ہوشيار اور برتر و بہتر خيال کرتے ہيں- جبکہ تحقير و تمسخر خود ايک سفاہت اور بے عقلي کي نشاني ہے اہل عقل منطقي باتيں کرتے ہيں دوسروں کي توہين نہيں کرتے -

·  خدا منافقين کو اسي دنيا ميں رسوا کرديتا ہے اور انکا حقيقي چہرہ معاشرے ميں نماياں ہوجاتا ہے -

بشکريہ آئي آر آئي بي

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان