• صارفین کی تعداد :
  • 3475
  • 2/8/2012
  • تاريخ :

سورۂ بقره کي آيات  نمبر 7-6  کي تفسير

بسم الله الرحمن الرحیم

خداوند حکيم کي حمد و ستائش اور حامل وحي و قرآن رسول، محمد مصطفي صلي اللہ عليہ و آلہ و سلّم اور ان کے اہلبيت کريم پر درود و سلام کے ساتھ " کلام نور " ليکر حاضر ہيں- چونکہ خدائے عظيم کي کتاب قرآن کريم پورے عالم بشريت کي ہدايت و رہنمائي کا وسيلہ ہے اور آغاز کلام ميں ہي خدا نے " ہديً لِّلمُتّقِين" کے ذريعے اعلان کيا تھا يہ کتاب پرہيزگاروں کي ہدايت کرتي ہے اس لئے ضروري تھا کہ مقصود قرآن کي وضاحت کردي جائے کہ کيوں خدا نے قرآن سے استفادہ کو پرہيزگاروں سے مخصوص کيا ہے کفار و مشرکين ، منافقين اور غير متقي مسلمانوں کے سلسلے ميں قرآن کا کيا کردار ہے؟ کيا يہ قرآن ان کي ہدايت کے لئے نہيں آيا ہے؟ چنانچہ کافروں کے سلسلے ميں اس غلط فہمي کي وضاحت کرتے ہوئے سورۂ بقرہ کي چھٹي آيت ميں خدا فرماتا ہے : انّ الّذِينَ کَفَروا سَوَاءٌ عَلَيہِم ءَ اَنذَرتَہُم اَم لَم تُنذِرہُم لَايُؤمِنُونَ ( يعني ) وہ لوگ کہ جنہوں نے کفر اختيار کررکھا ہے ان کو ( عذاب خدا سے ) خبردار کريں يا خبردار نہ کريں ان کے لئے ايک ہي جيسا ہے ( وہ لوگ ) ايمان نہيں لائيں گے -ظاہر ہے جو لوگ ضد اور مخالفت پر کمربستہ ہوں اور طے کرچکے ہوں کہ ہم خداؤ رسول کي بات نہيں مانيں گے قرآن ان کي ہدايت و رہنمائي کيسے کرسکتا ہے حق باتيں بھي ان کے دل و دماغ کي گرہيں نہيں کھول سکتيں اور جب تک کوئي کھلے دل سے بات نہ سنے اس پر موعظت و نصيحت کا اثر کيسے مرتب ہوسکتا ہے ؟" انذار " يعني خدا کے قہر و عذاب سے ڈرانا اور خبردار کرنا انبياء عليہم السلام کي نبوت و رسالت کا ايک بنيادي محور ہے ، ہدايت و رہنمائي کے لئے آمادہ و تيار انسانوں کي فلاح و نجات ميں وحي و قرآن کا ايک اہم کردار ہے مگر کفر جس وقت غفلت و فراموشي کے بجائے کينہ ؤ دشمني کي صورت اختيار کرليتا ہے تو انذار سے فائدہ نہيں ہوتا، وہ کافر جو غفلت و جہالت کے سبب خدا ؤ رسول (ص) کا منکر ہے تبليغ و انذار کے ذريعے حق قبول کرليتا ہے ليکن جب کفر حق کي مخالفت پر اتر آئے تو ايمان نہيں لاتا آيت ميں اسي طرح کے کافروں کا تعارف کرايا گيا ہے کہ ان کو خدا سے ڈرائيں يا نہ ڈرائيں دونوں صورتيں ايک ہي جيسي ہيں ان پر انذار کا اثر نہيں ہوگا اور يہ لوگ ايمان نہيں لائيں گے - سورۂ شعراء کي آيت ايک سو چھتيس ميں بھي اسي کي طرف اشارہ ہے حضرت ہود (ع) کي موعظت و نصيحت کے جواب ميں قوم عاد نے کہا تھا:" سَوَاءٌ عَلَينَا اَوَعَظتَ اَم لَم تَکُن مّنَ الوَاعِظِينَ " آپ وعظ و نصيحت کريں يا وعظ کرنے والوں ميں نہ رہ کر وعظ و نصيحت ترک کرديں ہمارے لئے يکساں ہے - يعني ہم آپ کي بات ماننے کو تيار نہيں ہيں اپنے باپ دادا کي روش پر ہي چليں گے -بظاہر آيت ميں " کفر" تقوے کے مقابلے ميں استعمال ہوا ہے کہ اہل تقوي قرآن سے ہدايت پاتے ہيں اور اہل کفر ہدايت نہيں پاتے ايمان ان سے دور رہتا ہے يا يوں کہئے کہ کفر، ايمان ميں رکاوٹ بنارہتا ہے اور جس طرح تقوے ميں عشق و بندگي کي مانند حسن انتخاب موثر ہے کفر ميں بھي " غلط انتخاب " يعني دشمني اور نفرت و حسد و غيرہ مؤثر ہے اللہ نے ہدايت و گمراہي کے دورا ہے پر ہر انسان کو اختيار ديا ہے کہ وہ اپني راہ خود منتخب کرے ورنہ سب کو راہ ہدايت پر چلنے کے لئے وہ مجبور کرسکتا تھا اور سب کے سب ايمان لے آتے ليکن اللہ مجبوري کا ايمان نہيں چاہتا کيونکہ جو بات دل ميں نہ اترے وہ ايمان ہي نہيں ہے - آيت ميں " لايؤمنون " سے اسي بات کي طرف اشارہ ہے کہ کفار ، ايمان لاسکتے ہيں مگر انہوں نے اپني خواہش کے تحت ايمان سے دوري اختيار کررکھي ہے اپنا سرمايۂ فطرت لٹاکر توفيق ايمان سے محروم ہوئے ہيں اس لئے ايمان نہيں لائيں گے -اور اب سورۂ بقرہ کي ساتويں آيت ، ارشاد ہوتا ہے : " خَتَمَ اللہُ عَلَي قُلُوبِہِم وَ عَلَي سَمعِہِم وَ عَلي اَبصارِہِم غِشوَۃٌ وَ لَہُم عَذَابٌ عَظِيمٌ " خداوند عالم نے ان کے دلوں پر مہر لگادي ہے اور کانوں کو( بند کرديا ہے ) اور آنکھوں پر بھي پردے ڈالدئے ہيں اور ان سب کے لئے ( جہنم کا ) بڑا ہي عظيم عذاب ہے -گويا آيت ميں کافروں کے ہدايت نہ پانے کا راز بيان کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے کہ کفار کي حق دشمني اور غلط کاري کے سبب اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگادي ہے کہ وہ حق کو حق سمجھنے کي قوت کھوبيٹھے ہيں کان بند کردئے ہيں تو وہ حق کي آواز سننے سے محروم ہوگئے ہيں اور آنکھوں پر پردے ڈال دئے ہيں تو وہ حق کو ديکھنے کي صلاحيت ضايع کرچکے ہيں اور چونکہ علم ايمان کا مقدمہ ہے اور ان کے علم و ہدايت کے چشمے بند ہيں وہ ايمان سے بے بہرہ ہيں - البتہ يہاں آيت ميں دل ، کان اور آنکھ سے مراد وہي دل و گوش و چشم باطني ہيں نہ کہ انساني جسم ميں موجود قلب و گوش و چشم ، اور يہ باطني قلب و سمع و نظر ہواؤ ہوس ، بغض و عناد اور کينہ ؤ حسد کےپردے پڑجانے سے بيکار ہوجاتے ہيں اور کفر کي يہي وہ حالت ہے جو ناقابل ايمان و ہدايت ہوجاتي ہے ورنہ علم غفلت و جہالت کي آنکھيں کھولنے کےلئے ہي ہے اور بہت سے غير متعصب کفار، اسلام و ايمان کي دولت سے سرشار ہوکر تقرب کي بلند منزلوں پر فائز ہوتے رہے ہيں آدمي کا صحيفۂ حيات جب تک ہدايت کي راہ ممکن ہو اور توفيق توبہ ؤ استغفار سلب نہ ہوئي ہو، بند نہيں ہوتا ورنہ کوئي يہ سوال کرسکتا تھا کہ خدا نے ہي جب سمجھنے سننے اور ديکھنے کي قوتوں پر تالا لگاديا ہو تو کفار کا اپنے کفر ميں کيا قصور ہے ؟ اسي سوال کا جواب خدا نے سورۂ مومن کي 35 ويں آيت ميں ديا ہے ارشاد ہوتا ہے: " کَذلِکَ يَطبَعُ اللہُ عَلي کُلّ قَلبِ مُتَکَبّرٍ جَبّارٍ" اللہ تعالي اسي طرح ہر مغرور و سرکش کے دل پر مہر لگا ديتا ہے-يہ الہي آيتوں کے خلاف کفار کے تکبر اور ظلم و سرکشي کا انجام ہے ؛اسي طرح سورۂ نساء کي آيت 155 ميں خدا فرماتا ہے : " بَل طَبَعَ اللہُ عَلَيہَا بِکُفرِہِم " بلکہ اللہ نے ان کے کفر کے سبب ان کے دلوں پر مہر لگادي ہے -گويا کہ کفر کي يہ منزل دلوں پر مہر لگائے جانے سے مقدم ہے ، يعني الہي ہدايت و آگہي کے مقابلے ميں ضد ، کينہ ؤ دشمني ، آباؤ اجداد کي اندھي تقليد ، تکبر اور سرکشي کے تحت انسان نے کفر سے کام ليا اور اللہ نے جب ديکھا کہ قلب ميں ايمان و آگہي کے قبول کرنے کي گنجائش ختم ہوچکي ہے تو ہميشہ کے لئے مہر لگادي اور آدمي سمجھنے ، سننے اور ديکھنے کي قوتوں سے محروم ہوگيا -تمام توفيقات سلب کرلي گئيں -

معلوم ہوا

·  کفر و عناد انسان کو مردہ و بے جان کرديتا ہے يہاں تک کہ آدمي کسي پتھر اور لکڑي کي مانند موعظت و نصيحت سے متاثر ہونے کي قوت کھوديتا ہے -

· اگر لوگ حق کو ماننے کي صلاحيت سے محروم ہوجائيں تو نبيوں اور رسولوں کي تبليغ بھي بے اثر ہوجاتي ہے جيسے کسي بنجر زمين ميں يا کيچڑ ميں بارش کے باوجود پھول نہيں کھلتے بلکہ گندگي اور بڑھ جاتي ہے -

·  البتہ چونکہ کسي کو کسي کے دل کا حال معلوم نہيں ہے دين و مذہب کي تبليغ علما ؤ دانشور کا فريضہ ہے الہي قدرت کے تحت کبھي کبھي خس و خاشاک ميں بھي پھول کھل اٹھتے ہيں اصلاح کي کوشش کرنا اسلامي فريضہ ہے -

· جو شخص حق کو حق سمجھ کر غفلت و دشمني سے کام ليتا ہے اللہ اس کے چشم و دل و گوش پر پردے ڈال ديتا ہے اور يہ بھي ايک قسم کا الہي عذاب ہے -

·   اللہ نے انسان کو عقل و شعورسے نوازا ہے ليکن اگر اس سے صحيح استفادہ نہ کيا جائے تو يہ قوتيں چھين ليتا ہے -

بشکريہ آئي آر آئي بي

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان