• صارفین کی تعداد :
  • 2776
  • 2/7/2012
  • تاريخ :

ديني جمہوريت اور ڈيموکريسي ( حصّہ پنجم )

ایران

بندگي خدا اور عوام پر خاص توجہ

ديني جمہوريت کي نئي مثال نے بشريت کے سامنے ايک نيا راستہ پيش کيا ہے جس ميں، انفرادي يا جماعتي استبداد اور صاحبان دولت و ثروت اور غارتگروں کے نفوذ سے قائم ہونے والے نظاموں کي برائيوں ، مادہ پرستي اور گناہوں ميں غرق ہونے اور معنويت و دينداري سے دوري سے انسان کو نجات مل جاتي ہے اور خدا پرستي اور عوامي بنياد کے درميان تضاد عملي طور پر غلط ثابت ہو جاتا ہے- يہ نيا اسوہ اور نمونہ، اپنے رشد، اپنے دوام ، اپنے استحکام اور اپنے اہداف کے حصول کے ساتھ بذات خود، ان تمام نظاموں کے بطلان کي محکم دليل ہے جنہوں نے ہيومنزم ( انسان کو محور قرار دينے والے مکتب فکر) کے نام پر لوگوں کو خدا اور دينداري سے دور کيا اورجمہوريت کے نام پر انسانوں کومختلف شکلوں ميں اپنے پنجہ اقتدار ميں جکڑ ليا ہے- اسلام کي ثقافت ميں بہترين انسان وہ ہيں جو لوگوں کے لئے مفيد ہوں- ديني جمہوريت، عوام کو دھوکہ دينے والي رياکار ڈيموکريسيوں کے برخلاف بغير احسان جتائے، خلوص کے ساتھ عوام کي خدمت کرنے والا نظام ہے- اس نظام ميں عوام کي خدمت ايک فريضے کے عنوان سے پاکدامني اور ايمانداري کے ساتھ انجام پاتي ہے-

جمہوريت کا تقدس

عوام کي آزادي، ان کي آراء پر اعتماد اور حقيقي جمہوريت ، ہمارے لئے مقدس ہے- کيوں؟ لبرلزم کے فلسفے کي وجہ سے نہيں بلکہ اس لئے کہ خداوند عالم نے جو ہمارا مالک ہے، فرمايا ہے کہ " النّاس کلّھم احرار" تمام انسان آزاد ہيں- "لاتکن عبد غيرک وقد جعلک اللہ حرّا" خداوندعالم نے يہ فرمايا ہے- امير المومنين فرماتے ہيں تو اس کا مطلب بھي يہ ہے کہ خدا نے فرمايا ہے- پيغمبر فرماتے ہيں، اس کا مطلب بھي يہ ہے کہ خدا نے فرمايا ہے- صرف الفاظ ان کے ہيں- خليفہ دوم نے بھي اپنے گورنر سے، جو اسي ماحول ميں تھا، کہا " استعبدتم النّاس و قد خلقھم اللہ احرارا" يعني تم نے لوگوں کو اپنا غلام بنا رکھا ہے جب کہ خدا نے انہيں آزاد پيدا کيا ہے- يہ حقيقي جمہوريت کي منطق اور بنياد ہے- آزادي کا اہم ترين مصداق يہ ہے کہ انسان اپني قسمت اور مستقبل کا خود فيصلہ کرے- يہ جمہوريت کي بنياد ہے-

بندگي خدا اور عوام پر خاص توجہ

ديني جمہوريت کي نئي مثال نے بشريت کے سامنے ايک نيا راستہ پيش کيا ہے جس ميں، انفرادي يا جماعتي استبداد اور صاحبان دولت و ثروت اور غارتگروں کے نفوذ سے قائم ہونے والے نظاموں کي برائيوں ، مادہ پرستي اور گناہوں ميں غرق ہونے اور معنويت و دينداري سے دوري سے انسان کو نجات مل جاتي ہے اور خدا پرستي اور عوامي بنياد کے درميان تضاد عملي طور پر غلط ثابت ہو جاتا ہے- يہ نيا اسوہ اور نمونہ، اپنے رشد، اپنے دوام ، اپنے استحکام اور اپنے اہداف کے حصول کے ساتھ بذات خود، ان تمام نظاموں کے بطلان کي محکم دليل ہے جنہوں نے ہيومنزم ( انسان کو محور قرار دينے والے مکتب فکر) کے نام پر لوگوں کو خدا اور دينداري سے دور کيا اورجمہوريت کے نام پر انسانوں کومختلف شکلوں ميں اپنے پنجہ اقتدار ميں جکڑ ليا ہے- اسلام کي ثقافت ميں بہترين انسان وہ ہيں جو لوگوں کے لئے مفيد ہوں- ديني جمہوريت، عوام کو دھوکہ دينے والي رياکار ڈيموکريسيوں کے برخلاف بغير احسان جتائے، خلوص کے ساتھ عوام کي خدمت کرنے والا نظام ہے- اس نظام ميں عوام کي خدمت ايک فريضے کے عنوان سے پاکدامني اور ايمانداري کے ساتھ انجام پاتي ہے-

جمہوريت کا تقدس

عوام کي زادي، ان کي راء پر اعتماد اور حقيقي جمہوريت ، ہمارے لئے مقدس ہے- کيوں؟ لبرلزم کے فلسفے کي وجہ سے نہيں بلکہ اس لئے کہ خداوند عالم نے جو ہمارا مالک ہے، فرمايا ہے کہ " النّاس کلّھم احرار" تمام انسان زاد ہيں- "لاتکن عبد غيرک وقد جعلک اللہ حرّا" خداوندعالم نے يہ فرمايا ہے- امير المومنين فرماتے ہيں تو اس کا مطلب بھي يہ ہے کہ خدا نے فرمايا ہے- پيغمبر فرماتے ہيں، اس کا مطلب بھي يہ ہے کہ خدا نے فرمايا ہے- صرف الفاظ ان کے ہيں- خليفہ دوم نے بھي اپنے گورنر سے، جو اسي ماحول ميں تھا، کہا " استعبدتم النّاس و قد خلقھم اللہ احرارا" يعني تم نے لوگوں کو اپنا غلام بنا رکھا ہے جب کہ خدا نے انہيں زاد پيدا کيا ہے- يہ حقيقي جمہوريت کي منطق اور بنياد ہے- زادي کا اہم ترين مصداق يہ ہے کہ انسان اپني قسمت اور مستقبل کا خود فيصلہ کرے- يہ جمہوريت کي بنياد ہے-

اردو خامنہ اي ڈاٹ ئي ڑ

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

ديني جمہوريت اور ڈيموکريسي