• صارفین کی تعداد :
  • 2287
  • 2/7/2012
  • تاريخ :

ديني جمہوريت اور ڈيموکريسي ( حصّہ سوّم )

ایران

حکومتي اہلکاروں کي اصلاح کي روش

 آج وہ بہترين چيز جو ملک کے حکام کي راہ و روش اور رفتار و کردار کي اصلاح کي بنياد اور معيار بن سکتي ہے، ديني جمہوريت ہے- امير المومنين عليہ الصلواۃ و السلام مالک اشتر سے فرماتے ہيں" اياک و المن علي رعيتک باحسانک او التزيد فيما کان من فعلک او ان تعدھم فتتبع موعدک بخلفک فان المن يبطل الاحسان والتزيد يذھب بنور الحق والخلف يوجب المقت عند اللہ و الناس" فرماتے ہيں کہ " نہ لوگوں پر يہ احسان جتاۆ کہ ہم نے يہ کام تمھارے لئے کئے ہيں يا کرنا چاہتے ہيں، نہ ہي جو کام کئے ہيں ان کے بارے ميں مبالغہ کرو، مثلا چھوٹا کام کرکے اس کو بڑا بتاۆ، اور نہ ہي يہ کرو کہ وعدہ کرو اور عمل نہ کرو-" اس کے بعد فرماتے ہيں کہ " اگر احسان جتايا تو تمھارا نيک عمل ضائع ہوجائے گا، مبالغہ نور حق کو ختم کر دے گا يعني وہ تھوڑي سي صداقت جو پائي جاتي ہے وہ بھي لوگوں کي نگاہوں ميں ختم ہو جائے گي اور اگر وعدہ خلافي کي تو "يوجب المقت اللہ والناس" يہ لوگوں کي نگاہ ميں بھي اور اللہ کے نزديک بھي، گناہ ہے- اللہ تعالي فرماتا ہے کہ "کبر مقتا عنداللہ ان تقولوا ما لا تفعلون" اور " انصف اللہ و انصف الناس من نفسک ومن خاصۃ اھلک ومن لک فيہ ھوي من رعيتک" يعني اپنے ساتھ، اپنے دوست احباب اور رشتے داروں کے ساتھ ، عوام کے ساتھ اور خدا کے ساتھ انصاف کرو؛ يعني ان کے ساتھ کسي امتياز سے کام نہ لو- يعني پارٹي بازي، کسي کے لئے خصوصي امتياز کا قائل ہونا، کوئي کمپني يا مالي آمدني کا مرکز، کچھ خاص لوگوں کو اس لئے دينا کہ وہ اس حاکم کے دوست احباب اور رشتے دار ہيں- يہ سب وہ کام ہيں جو جمہوريت کے خلاف ہيں- "و ليکن احب الامور اليک اوسطھا في الحق و اعمھا في العدل و اجمعھا لرضي الرعيۃ " وہ کام کرو جو افراط و تفريط سے پاک ہوں اور عوام کے تعلق سے وسيع سطح پر عدل و انصاف سے کام لو اور عام لوگوں کي خوشي اور ان کي رضامندي زيادہ سے زيادہ حاصل کرنے کي فکر ميں رہو، اس فکر ميں نہ رہو کہ کچھ خاص لوگ، جن کے پاس دولت و طاقت ہے، وہ تم سے خوش ہوں- اس کے بعد فرماتے ہيں" فان سخط العامۃ يجحف برضي الخاصۃ" يعني اگر صاحبان دولت و طاقت کي خوشنودي حاصل کي اور عوام کو ناراض کيا تو عوام کي ناراضگي خواص يعني صاحبان دولت و طاقت کي خوشنودي کو سيلاب کي طرح بہا  لے جائے گي- " و ان سخط الخاصۃ يغتفر مع رضي العامۃ" صاحبان دولت و طاقت کي خوشي کا خيال نہ رکھا تو وہ تم سے ناراض ہوں گے؛ تو ان کو ناراض ہوجانے دو- اگر عوام تم سے راضي اور خوش ہيں اور تم نے ان کے لئے کام کيا تو انہيں (يعني صاحبان دولت و طاقت کو) ناراض رہنے دو-" يغتفر" يہ ناراضگي بخشي ہوئي ہے-

اردو خامنہ اي ڈاٹ آئي آڑ

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

رہبر كى اطاعت كى حدود