• صارفین کی تعداد :
  • 1742
  • 2/7/2012
  • تاريخ :

محمد (ص) بيسويں صدي ميں

محمد (ص)

يورپ نے بيسويں صدي ميں اسلام و محمد(ص) کامقابلہ کرنے کےلئے سلمان رشدي مرتد کا سہاراليا جواس کے ماتھے پرکلنک کا ٹيکہ بن گيا -آزادي بيان کے بہانے سلمان رشدي مرتد کے دفاع ميں مغرب کے موقف سے واضح ہوجاتا ہےکہ مغرب کے اسلام مخالف موقف ميں کسي طرح کي تبديلي نہيں آئي ہے -ايک مشرقي مرتد جس نے برطانيہ ميں تعليم حاصل کي تھي اس کي جانب سے مغرب کي زبان ميں اسلام و پيغمبر اسلام(ص) کي توہين مسلمانوں کے لئے ناقابل برداشت تھي-

بيسويں صدي عيسوي ميں ايک نہايت اہم بات جو سامنے آئي وہ بعض مغربي سياحوں اور دانشوروں کا اسلام کي طرف رجحان اور اسلام لے آنا تھا- ريلکہ نامي سياح نے انيس سو دس ميں مصر وتونس کا سفرکرنے سے بہت پہلے ہي اسلام کي طرف اپنے رجحان کا اظہار کرديا تھا انيس سو سات ميں جب ان کي اھليہ مصر کي سير کرکے واپس آئيں تو اپنے ھمراہ مصوري کے اھم آثار لائيں اور اسي سال ريلکہ نے "ندائے محمد"کے عنوان سے ايک نظم کہي اس نظم ميں انہوں نے محمد (ص) امي اور پاک طينت باديہ نشين قرار ديا ہے جن کو فرشتہ وحي نے شہود ذات احديت تک پہنچايا ہے ان کے اشعار بعثت کے بارے ميں مسلمانوں کے اشعار کي طرح ہيں -جب ريلکہ نے خود مصر اور الجزائر کا دورہ کيا تواپني بيوي کے نام خطوط ميں اسلام سے اپني دلچسپي، محبت اور رجحان کا اظہار کيا - انہوں نے انيس سوبارہ ميں دوبارہ بغور قرآن کا مطالعہ کيا اور اسپين ميں ايک مسجد کو کليسا ميں بدلے جانے پر شہزادي تاکسيس کو ايک درد بھرا خط لکھا جس ميں عقيدہ توحيد کي بناپر اسلام کي تعريف کي - انہوں نے لکھا کہ اسلام ميں بنيادي عقيدہ توحيد کا ہے جبکہ عسيائيت خدا کو خوبصورت کيک کي طرح ٹکڑے ٹکڑے کرديتي ہے - اس کے کچھ دنوں بعد وہ عيسايت سے مکمل طرح سے بيزار نظر آنے لگے- ان کے ايک خط ميں ملتا ہے کہ "ميں اس وقت قرآن کا مطالعہ کر رہا ہوں قرآن کا لہجہ اسي سے خاص اور بے مثال ہے اور يہ آواز  ميرے سارے وجود ميں سرايت کرگئي ہے - محمد بلافصل اور مظہر حقيقت ہيں وہ ايک دريا کي مانند ہيں جو پہاڑوں سے نکل کر خداے يکتا کي طرف جاتا ہے ايسا خدا جس سے ہر صبح حيرت انگيز طرز پر ہمکلام ہوا جا سکتا ہے اور اس کے لۓ مسيح نام کے کسي ٹيلي فون رابطے کي بھي ضرورت نہيں ہے -

ريلکہ نے انيس سو بيس ميں لکھاہے کہ ميں نے ايک زمانے ميں قرآن حفظ کرنے کي کوشش کي اس کام ميں ميں نے کوئي خاص پيشرفت نہيں کي تاہم جوبات ميرے سمجھ ميں آئي وہ يہ تھي کہ قرآن پڑھنے سے انسان کو ايسي توانائي حاصل ہوتي ہے جس سے اسے آسمانوں اور خدا کي بارگاہ کا راستہ ملتا ہے ايسا خدا جو لايزال ہے -

محمد (ص) کے بارے ميں انجام پانے والے سنجيدہ علمي کاموں ميں شہرہ آفاق اسلام شناس آن ماري شيمل کي کتاب ہے محترمہ آن ماري شيمل کو اسلامي عرفان سے بہت زيادہ دلچسپي تھي انہوں نے محمد (ص) کے بارے ميں مغربي طرز فکر پر تنقيد کرتے ہوے عرفان اسلامي کے ذريعے انہيں پہچنوانےکي کوشش کي - آن ماري شيمل نے اپني کتاب ' دين اسلام کے عرفاني پہلووں " ميں لکھا ہے کہ مغرب ميں جوبھي اسلام پر تحقيقات کرتا ہے محمد (ص) کے بارے ميں يورپ کي روايتي تصوير سے آشنا ہوتا ہے جو نفرت اور دشمني کي صديوں ميں بنائي گئي تھي اور عالم عيسائيت ميں جس کا رواج تھا ليکن اس کے باوجود محمد (ص) کي ٹھوس عرفاني اور معنوي صفات کو ديکھ کر جنہيں اھل تصوف نے ان کي طرف منسوب کيا ہے حيران و ششدر رہ جاتا ہے - يہ وہ شخصيت ہے جسے ايک عام يورپي باشندہ مکار سياست دان شہوت پرست اور اگر بہت زيادہ خوش فہمي ميں گرفتار ہوکر سوچيں تو ايک بدعت گذار سمجھتا ہے جس نے عيسائيت ميں بدعتيں پھيلائي ہيں وہ لکھتي ہيں کہ محمد (ص) و اسلام کے بارے ميں جديد ترين تحقيقات ميں جہاں محمد (ص) کي صداقت اور مذھبي نظريات پر تاکيد کي گئي ہے محمد کي نسبت ان کے پيرووں کے عشق عرفاني کي تصوير کشي نہيں کي گئ ہے -

قابل ذکر ہے جديد يورپ ميں محمد کو پہچاننے کي سنجيدہ کوششيں کي جارہي ہيں اور جديد محققين معتدل فضا ميں يہ کام کر رہے ہيں انہيں قرون وسطي کے غير منطقي روے پر افسوس بھي ہے اور وہ منطقي روش سے اس اسلام و پيغمبر (ص) کي ذات کا جائزہ لے رہے ہيں اميد کہ ان کے لئے حقيقت واضح ہوگي اور وہ اس حقيقت کے ساے ميں دوسروں کے لئے بھي مفيد واقع ہونگے -

مصنفہ: مينو صميمي

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں :

سترھويں صدي عيسوي ميں محمد(ص)  يورپيوں کے آثار ميں