• صارفین کی تعداد :
  • 7316
  • 2/4/2012
  • تاريخ :

مستقبل ميں خلائي مخلوق سے ہمارے رابطے (حصّہ سوّم )

خلائی مخلوق

سنہ 1997 ميں اسي قسم کے ايک پيغام نے يہ ثابت کرديا تھا کہ اس کوچھپانا ناممکن ہے-

ڈاکٹر شوسٹک کہتے ہيں ’ہم اس سگنل کو ديکھ رہے تھے اور انتظار کر رہے تھے کہ سرکاري طور پر اس کے بارے ميں کيا کہا جاتا ہے- کسي نے فون کرکے دريافت کرنا گوارہ نہيں کيا اور اگر کسي نے کيا تو وہ تھي صرف ميڈيا-‘

تو کيا کسي قسم کي منصوبہ بندي موجود ہے جس کے تحت اگر سگنل موصول ہوتا ہے تو کس کو آگاہ کيا جائے؟

ڈاکٹر شوسٹک کا کہنا ہے کہ ايسا کوئي منصوبہ موجود نہيں ہے- ’اگر سگنل موصول ہوتا ہے تو اس کا اعلان کرديا جائے-

’ہو سکتا ہے کہ مختصر سا سگنل موصول ہو جس ميں کہا جائے ’ہيلو زمين پر رہنے والو‘- يا پھر نہايت پيچيدہ سا پيغام-‘

عالمي تنظيم اقوامِ متحدہ کا ايک دفتر ويانا ميں ہے اور سيٹي نے اس دفتر سے سگنل ملنے پر کيا لائحہ عمل اپنانا چاہيے جاننے کے ليے رابطہ کيا تو اس دفتر کا جواب تھا ’انہيں نہيں معلوم‘-

في الوقت منصوبہ بندي ايريزونا سٹيٹ يونيورسٹي کے پال ڈيوس پر چھوڑي گئي ہے- ان کا کہنا ہے کہ انہيں نہيں معلوم کہ کس قسم کا سگنل موصول ہوتا ہے اور اس سگنل کو سمجھنے ميں سال يا پھر دہائياں لگ سکتي ہيں-

سيٹي کے ريسرچرز کا کہنا ہے کہ سگنل کا جواب ضرور دينا چاہيے- ليکن جواب ميں کيا کہا جائے اس پر کوئي متفق نہيں-

’جواب ديتے وقت ان کي پسند اور ناپسند کا خيال رکھنا ہو گا جن کے بارے ہمارے پاس معلومات نہيں ہيں- ہاں اگر کوئي چيز ہم ميں اور ان ميں مشترک ہے تو وہ ہے رياضي اور طبيعات-

ليکن سيٹي کا کہنا ہے کہ جو بھي جواب بھيجنا ہے اس پر عالمي طور پر اتفاق ہونا ضروري ہے-

  ہماري کائنات کا مستقبل کيا ہو گا - کيا واقعي طور پر ايک دن ايسا آۓ گا جب ہم کسي اور کائنات کي مخلوق سے رابطے ميں ہونگے - نئي مخلوق کيسي ہو گي اور اس کے ساتھ ہمارے دوستانہ تعلقات ہونگے يا يہ تعلقات دشمني پر مبني ہونگي ؟ يہ سب  ہنوز قياس آرائياں ہيں جو سائنسي حلقوں ميں ہوتي رہي ہيں اور مستقبل ميں بھي ايسي باتيں اور  بحثيں ہوتي رہيں گے -

ختم شد۔

شعبۂ تحرير  و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

آنسو کا بہنا اور ميڈيکل سائنس کا باہمي تعلق ( حصّہ چہارم )