• صارفین کی تعداد :
  • 7160
  • 2/3/2012
  • تاريخ :

مستقبل ميں خلائي مخلوق سے ہمارے رابطے (حصّہ دوّم )

خلائی مخلوق

کئي دہائيوں سے ہم خلاء ميں جان بوجھ کر يا حادثاتي طور پر سگنل بھيج رہے ہيں اور خلائي مخلوق کي جانب سے ديے گئے سگنل يا براڈکاسٹ کو سننے کي کوشش کر رہے ہيں- ليکن اگر خلائي مخلوق کي جانب سے بھيجا گيا سگنل ہميں مل جاتا ہے تو کيا ہم نے کوئي منصوبہ بندي کي ہوئي ہے؟

اگر خلائي مخلوق کي جانب سے کوئي سگنل بھيجا جاتا ہے تو وہ سگنل سيٹي يعني سرچ فار ايکسٹر ٹيرسٹيئل انٹيلجنس کو موصول ہو گا-

سيٹي چند درجن ريسرچرز پر مشتمل ہے جو دنيا بھر ميں پھيلے ہوئے ہيں اور اس اميد ميں ہيں کہ ان کو خلاء سے کوئي سگنل موصول ہو گا- سيٹي کو اکثر فنڈز کي کمي کا سامنا ہوتا ہے اور ان کا مذاق بھي اڑايا جاتا ہے-

وہ دنيا کي سب سے بڑي ريڈيو دوربين سے آنے والے سگنلز اور کسي غير معمولي چيز پر نظر رکھتے ہيں-

سيٹي کا آغاز 1959 ميں مخص ايک شخص سے ہوا جس کے پاس ايک دوربين تھي اور آج کل کمپيوٹرز کے ذريعے خلاء سے ممکنہ سگنل پر نظر رکھي جاتي ہے-

ليکن اس وقت کيا ہو گا جب ان ريسرچرز کو خلائي مخلوق سے سگنل موصول ہو جاتا ہے؟

کچھ کا کہنا ہے کہ حکومت اس کو راز ہي ميں رکھنے کي کوشش کرے گي جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ دنيا ميں ايک کہرام برپا ہو جائے گا-

’يہ کہنا بالکل احمقانہ ہے کہ حکومت اس کو چھپانے کي کوشش کرے گي ورنہ لوگ پاگل ہو جائيں گے- جب 1900 کے اوائل ميں کہا گيا تھا کہ مريخ پر نہريں موجود ہيں تو لوگوں ميں افراتفري نہيں پڑي تھي- لوگوں نے کہا کہ شائد خلائي مخلوق موجود ہے-‘

انہوں نے کہا کہ اگر ايک کمپيوٹر کسي قسم کے سگنل کے بارے ميں متنبہ کرتا ہے تو اس سگنل کي تصديق کے ليے دنيا ميں موجود ديگر دوربينوں سے رجوع کيا جائے گا اور اس مرحلے ميں ايک ہفتہ لگ سکتا ہے- ’اس دوران لوگ اپنے عزيز و اقارب کو فون کرکے ضرور بتائيں گے-

جاری ہے

شعبۂ تحرير  و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

آنسو کا بہنا اور ميڈيکل سائنس کا باہمي تعلق ( حصّہ سوّم )