• صارفین کی تعداد :
  • 2190
  • 2/3/2012
  • تاريخ :

بسم اللہ  الرحمن الرحيم  کہنے کي اہميت (حصّہ سوّم )

بسم اللہ  الرحمن الرحیم

 2-  خدا کي عام اور خاص رحمت

مفسرين کے ايک گروہ کا يہ خيال ہے کہ صفت " رحمان "  خدا کي عام رحمت  کي طرف اشارہ ہے جس ميں دوست و دشمن ، مومن و کافر و نيکي کرنے والے اور برا‏‏ئي کرنے والے سب شامل  ہيں - اس ليۓ ہميں معلوم ہے کہ بارش اللہ کي رحمت ہے جو ہر جگہ پر سب کے ليۓ ہوتي ہے -  ہر کسي کو غذا ملتي ہے اور دنيا کے تمام انسان دنيا کي تمام نعمتوں اور لذتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہيں - يہ خدا کي رحمت عام ہي تو ہے جس نے تمام کائنات کو اپني لپيٹ ميں ليا ہوا ہے اور ہر کوئي اس سے بہرہ مند ہو رہا ہے -

 “رحيم ”‌‌  پروردگار کي خاص رحمت کي طرف اشارہ ہے جو مطيع ، صالح اور فرمانبردار لوگوں کے ليۓ ہے - يہ اس ليۓ ہے کہ يہ لوگ اپنے نيک اعمال  کي بدولت اس کے اہل ہوۓ اور خدا کي خاص بخشش اور رحمت سے بہرہ مند ہوۓ - اس خاص رحمت ميں بدکاروں اور آلودہ لوگوں کا کوئي حصّہ نہيں رکھا گيا ہے - (2)

3- “بسم الله ”‌‌ کے فکري اور اخلاقي اثرات

انساني فکر کي تکميل کے ليۓ قرآن واحد کتاب توحيد ہے - اس کتاب کي ہر سورہ اللہ کي طرف سے انسان کے ليۓ ايک عظيم تحفہ ہے اور اس کي  ہر سورہ بسم اللہ سے شروع ہوتي ہے ( سورہ توبہ کے علاوہ ) -

 " بسم اللہ " کے ساتھ شروع ہونے والے کام کي غير معمولي اہميت

اسلامي روايات ميں اس آيت قرآني کو اس قدر اہميت دي گئي ہے کہ اسے بھي  “اسم اعظم الهي ”‌‌ ميں بيان کيا گيا ہے -

تمام اماموں نے بھي بسم اللہ کي اہميت پر بڑا زور ديا ہے اور معصوم اماموں نے جو کچھ “بسم الله الرحمن الرحيم ”‌‌ کے بارے ميں کہا اور ان ميں جو کچھ ہم تک پہنچ پايا وہ درج ذيل ہے -

1-  معصوم امام کسي بھي کام کو بسم اللہ کے بغير شروع نہيں کرتے تھے -

2-  تاکيد کيا کرتے تھے کہ غذا کو بسم اللہ سے شروع کيا جاۓ اور اگر  ايک سے زيادہ تعداد ميں غذا تناول کرني ہوں تو ہر ايک کے ليۓ الگ سے " بسم اللہ "  پڑھي جاۓ - اگر  "بسم اللہ "  کہنا بھول جائيں تو زبان سے “بسم الله علي اوله و آخره ”‌‌ کہہ ديا جاۓ - يہ باتيں کھانا کھانے کے آغاز ميں بسم اللہ کي اہميت کو بہت حد تک واضح کرتي ہيں - (4)

حوالہ جات

2- برگرفته از: تفسير نمونه، ناصر مکارم شيرازي، ج 1، ص 02-32.

3- “قلت لابي عبدالله(عليه السلام) کيف اسمي علي الطعام قال فقال اذا اختلفت الانيه فسم علي کل اناء قلت فان نسيت ان اسمي قال تقول بسم الله علي اوله و آخره؛ به حضرت صادق(عليه السلام) گفتم: چگونه نام خداوند را بر طعام بگويم؟ فرمود: وقتي چند ظرف غذاي مختلف هست براي ]خوردن از[ هر کدام “بسم الله ”‌‌ بگو. پرسيدم: اگر فراموش کنم؟ فرمود: مي‌گويي: “بسم الله علي اوله و آخره. ”‌‌ الکافي، ج 6، ص 592.

4- مستدرک الوسائل، ج 71، ص 8.6

 شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان