• صارفین کی تعداد :
  • 2372
  • 2/3/2012
  • تاريخ :

بسم اللہ  الرحمن الرحيم  کہنے کي اہميت (حصّہ دوّم )

بسم اللہ  الرحمن الرحیم

حضرت نوع  (صلي الله عليه وآله) نے سخت و عجيب طوفان ميں اپنے ساتھيوں کو حکم ديا کہ وہ جب بھي خطرناک حالات سے دوچار ہوں تو منزل مقصود تک پہنچنے کے ليۓ اور مشکلات پر قابو پانے کي غرض سے ضروري ہے کہ  کشتي کو چلاتے ہوۓ اور ٹھہراتے ہوۓ " بسم اللہ "   پڑھيں -

:[ و قال ارکبوا فيها بسم الله مجراها و مرساها؛ (هود41) "

 ترجمہ : اور نوح نے کہا: کشتي ميں سوار ہو جاؤ اللہ ہي کے نام سے اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے-

بالاخر انہوں نے اس پرخطر سفر کو کاميابي کے ساتھ مکمل کيا اور صحيح و سالم کشتي سے اترے -

اسي طرح سليمان نبي (صلي الله عليه وآله) ملکہ سبا کو لکھے گۓ خط کے شروع ميں بسم اللہ لکھتے :

انّه من سليمان و انه بسم الله الرحمن الرحيم (نمل30)

“يہ خط سليمان  کي طرف سے ہے اور يوں ہے : بخشنے والے اور مہربان خدا کے نام سے شروع ”‌‌

اسي طرح سے قرآن کي ايک سورہ کے علاوہ تمام سورتوں کا آغاز بسم اللہ سے ہوتا ہے تاکہ انسان ہدايت پا کر سعادت مند ہو اور شروع سے آخر تک کامياب رہے -

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کو کسي بھي غير خدا سے منہ پھير کر ہر عمل کو توحيد کا پابند رہتے ہوۓ انجام دينا چاہيۓ - بسم اللہ پڑھ کر دوسرے تمام بتوں اور  فاني طاقتوں کي نفي کرے تاکہ اسے اس کام ميں ثواب اور کاميابي نصيب ہو -

ہر کام کے شروع ميں  “بسم الله الرحمن الرحيم ”‌‌  کي اہميت کے حوالے سے ہم چند دلائل يوں بھي دے سکتے ہيں -

1- " اللہ "  جامع ترين نام ہے

 “بسم الله “ ميں اللہ کا لفظ شامل ہے جو خدا تعالي کا ايک جامع نام ہے - اس ليۓ اگر خدا کے ناموں پر تحقيق کي جاۓ تو قرآن اور تمام دوسرے اسلامي منابع يہ ظاہر کرتے ہيں کہ  خدا کے ناموں ميں سے ہر ايک  ، خدا کي  صفات ميں سے کسي خاص حصّے کو ظاہر  کرتا ہے جبکہ وہ تنھا نام جو خدا کي تمام صفات اور کمالات الہي کي طرف اشارہ کرتا ہے وہ  لفظ " اللہ " ہے -

شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان