• صارفین کی تعداد :
  • 897
  • 2/3/2012
  • تاريخ :

دور حاضر ميں  اقبال کے فلسفہ خودي کي اہميت ( حصّہ ششم )

اقبال لاہوری

سوويت يونين کا شيرازہ بکھرنے کے بعد دنيا ميں واحد سپر پاور امريکہ ہي رہ گئي اور اس نے بڑي عياري کے ساتھ مسلم حکمرانوں کے خلاف نيا ميدان جنگ کھول ديا اور ڈاکٹر کنيز يوسف کے تجزيے کے مطابق امريکہ واحد سپر پاور کي حيثيت سے اپنے عسکري اور اقتصادي عزائم کي تکميل کے ليۓ درج ذيل تين محاذوں پر مصروف اور سرگرم عمل ہے -

1- افکار کي جنگ

2- معاشي مرکزيت کي جنگ

3- دہشت گردي کے خلاف جنگ

امريکہ نے  گيارہ ستمبر 2001 ميں ورلڈ ٹريڈ سينٹر کي تباہي سے بہت قبل اپنے عزائم کي تکميل کے ليۓ تہذيبوں کے درميان ٹکراؤ کے متعلق پروپيگنڈہ  کرنا شروع کر ديا تھا اور يوں اس نے بڑي چالاکي سے دہشت گردي کے واقعے کا ڈرامہ رچا کر اسلامي ممالک کے وسائل پر قبضہ کرنا شروع کر ديا اور اس کے پس پردہ اسلام کي غلط تصوير کو   دوسرے مذاھب کے لوگوں کے سامنے پيش کرنا شروع کر ديا -

   مسلم ملکوں کے دانشور حضرات ہميشہ سے  مغرب ميں اسلام کے بارے ميں پاۓ جانے والے مغالطوں کو دور کرنے کي کوشش ميں مصروف نظر آتے ہيں  جس کا اثر يہ ہوا کہ مغربي ملکوں ميں اسلام کے متعلق آگاہي آنے سے اسلام بڑي تيزي کے ساتھ پھيل رہا ہے اور بہت سارے لوگ مشرف  بہ اسلام ہوۓ ہيں - اس ضمن ميں اقبال کي مثاليں بھي پيش کي جا سکتي ہيں جنہوں نے اب سے بہت پہلے اس جدوجہد ميں حصہ ليا تھا - حضرت اقبال نے نکلسن کے نام اپنے ايک خط ميں امن اور انسانيت کے بارے ميں اسلام کي حقيقي تعليمات کو بڑے مؤثر پيراۓ ميں بيان کيا ہے - اقبال کا نقطہ نظر يہ ہے کہ ايسي تمام جنگيں مردود ہيں جن کا مقصد محض کشور کشائي اور توسيع پسندي ہو - ان کے نزديک انسانيت کے نصب العين کي راہ ميں سب سے بڑي رکاوٹ نسل و رنگ کا عقيدہ ہے جس کي اسلام نے بڑي شدت سے مخالفت کي ہے لہذا جو لوگ انسانيت سے محبت رکھتے ہيں ان کا فرض ہے کہ شيطان کي اس اختراع کے خلاف جہاد کريں -

اقبال اس حقيقت کو بھي مانتے ہيں کہ دوسري قوموں کي طرح بعض مسلمان سپہ سالاروں نے بھي غلطياں کيں اور مذہب کے پردے ميں ذاتي خواہشات کي تکميل کي حالانکہ کشور کشائي اور ملک گيري ابتداۓ اسلام کے مقاصد ميں داخل نہيں تھي مگر اسلام کي بنيادي تعليم دنيا کے تمام انسانوں کے ساتھ برابري  ، امن اور بھائي چارے کا درس ديتي ہے -

شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان