• صارفین کی تعداد :
  • 554
  • 2/1/2012
  • تاريخ :

دور حاضر ميں  اقبال کے فلسفہ خودي کي اہميت ( حصّہ دوّم )

اقبال لاہوری

ميں کيا ہوں ؟

اور مجھ ميں ميرا ہے ہي کيا ؟

يعني

 " کي ميرے وچ ميرا "

اور اس طرح بندے کو اپنے عجز اور کمزوري کا حقيقي ادراک ہوجاتا ہے جو کہ بندہ کے ليے اپنے رب کے سامنے عاجزي و تذلل کا باعث بنتا ہے اور يوں بندہ اپنے رب کے سامنے عاجز ہوکر جھکتا چلا جاتا ہے اور ايسے ميں جب بندہ اپني کمزوري و عاجزي کا اعتراف کرتے ہوئے جتني عاجزي سے جھکتا چلا جاتا ہے اتني ہي وہ صمد ذات اپني عظمت و رفعت اور شان کي معرفت و ادراک کے دروازے اس پر کھولتي چلي جاتي ہے اور پھر اسي معرفت شان معبوديت کے صدقے رب تعاليٰ اپنے بندے کو مقام عبديت پر فائز کرتا ہے-

لہذا جب بندے کو رب کي شان معبوديت اور اپنے مقام عبديت کا علم ہوجاتا ہے تو اسے رب کي عظمت اور اپني حقيقي عاجزي کا ادراک ہوجاتا ہے تو پھر وہ بندہ اپني رضا، رب کي رضا ميں گم کرديتا ہے- وہ اپنے ہر عمل ميں رب تعاليٰ کي رضا، اس کي منشاء اور اس کے اذن کا طالب رہتا ہے- جب بندہ اس مقام پر پہنچتا ہے تو رب تعاليٰ اس کو شان عبوديت عطا کرتا ہے پھر وہ بندے کو وہ بھي عطا کرتا ہے جو اس کي (يعني رب کي ) اپني رضا ہوتي ہے اور وہ بھي عطا کرتا ہے جو خود بندے کي رضا ہوتي ہے اور يہي وہ مقام کہ جہاں پر آکر اقبال عليہ رحمہ کي روح ٹرپ اٹھي اور وہ تڑپ کر بول اٹھے کہ -

خودي کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدير سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تيري رضا کيا ہے

شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان