• صارفین کی تعداد :
  • 1570
  • 2/1/2012
  • تاريخ :

دور حاضر ميں  اقبال کے فلسفہ خودي کي اہميت

اقبال لاہوری

فلسفہ خودي درحقيقت اقبال کي  فلاسفي کا بنيادي نقطہ  ہے -  دنيا کے بہت سے محققين  و دانشوروں نے  اقبال کے فلسفہ خودي پر بڑي تفصيل کے ساتھ روشني ڈالي ہے ليکن يہ فلسفہ اتنا گہرا ہے کہ اب بھي اس  پر مزيد تحقيق کي ضرورت ہے تاکہ اس کے اندر  پوشيدہ رموزو اسرار کو دور حاضر کے انسان کے ليۓ اجاگر کيا جا سکے - اس  تحرير ميں مصنف نے اقبال کے فلسفہ خودي کو دور حاضر کي ضروريات  کي روشني ميں بيان کرتے ہوۓ  آج  کي مادي دنيا ميں انسان کے حقيقي وقار کو حاصل کرنے کي اہميت پر زور ديا  ہے -

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے پيغام و فکر کا مرکز ان  کا  " فلسفہ خودي " ہے  -

اقبال کے پيغام اور فکر کا مرکزي نقطہ ان کا تصور " خودي  " ہے- يہ وہي تصور خودي ہے کہ جس نے اقبال کي شخصيت کو بقاء دوام بخشا اور ملت اسلاميہ کا عروج  اسي ميں مضمر ہے  -

بقول اقبال !

خودي کے ساز سے ہے عمر جاوداں کا چراغ

خودي کے سوز سے روشن ہيں امتوں کے چراغ

خودي کيا ہے ؟

 خودي  درحقيقت خود سے آگاہي ہے -  اقبال کے  اس پيغام کي اصل حديث نبوي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ہے کہ

مَنْ عَرَفَ نَفْسَه فَقَدْ عَرَفَ رَبَّه.

’’جس نے اپنے آپ کو پہچان ليا- اس نے اپنے رب کو پہچان ليا‘‘-

گويا خودي کا يہ تصور خود شناسي سے شروع ہوکر بندے کو خدا شناسي تک لے جاتا ہے اور اس سفر ميں بندہ کو بقاء و دوام تب نصيب ہوتا ہے کہ جب بندہ اپني خودي کي حقيقت کو پہچان کر خود اپني ہي خودي ميں گم ہونے کي بجائے اپني خودي کو خدا شناسي ميں گم کرديتا ہے تب بندہ مقام فنا سے مقام بقا پر فائز ہوجاتا ہے - يعني انسان کا شعوري سفر اپنے احساس نفس سے اپني معرفت اور پہچان کي حقيقت کے ساتھ جتنا آگے بڑھے گا اسے اتنا ہي اپنے رب کي معرفت حاصل ہوگي انسان جتنا اپني ذات پر غور کرتا ہے، اپني حقيقت کو پہچانتا ہے اتنا ہي اسے اپنے رب کي معرفت حاصل ہوتي ہے اور يہ معرفت اس کو رب کي محبت ميں فنايت پر مجبور کرتي ہے گويا جب بندہ اپني خودي کو پہچانتا ہے تو وہ اس نتيجے پر پہنچتا کہ حقيقت ميں وہ کيا ہے ايسے ميں پھر وہ يہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے -

شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان