• صارفین کی تعداد :
  • 18699
  • 1/18/2012
  • تاريخ :

جديد شاعري ميں کربلا کا تذکرہ

محرم الحرام

کربلا ، امام حسين "ع" ، حسينيت اور مصائب کربلا ، بلا تفريق مسلک و مذھب ہماري زندگيوں کا لازمي جزو بن چکے ہيں - ان الفاط اور اصطلاحات کا استعمال نہ صرف واقعہ کربلا اور نواسہ رسول حضرت امام حسين "ع" کي مظلوميت کے حوالے سے زبان زد خاص و عام ہے بلکہ زبان و ادب ميں بھي اس کو انتھائي اہم حيثيت حاصل ہے - اردو ادب چاہے وہ نثر کي صورت ميں ہو يا نظم  ميں ، واقعہ کربلا کا استعارہ اس کو ايک نئي زندگي عطا کرنے کا باعث بنا -

 حقيقت يہ ہے کہ واقعہ کربلا کے بعد سب سے پہلے کوفہ و شام کے اسيروں نے نثرونظم ميں اپنے جذبوں اور حوصلوں کا اظہار کيا - ان کے تاريخي خطبے آج بھي ارباب فکرونظر کو اپنے مدمقابل سجدہ ريز پاتے ہيں -

برصغير ميں اردو زبان جس وقت ابھي اپني منزليں طے کر رہي تھي بعض علاقائي بوليوں ميں اور لوک روايتوں ميں واقعہ کربلا کا ذکر کثرت سے ملتا ہے -سرائيکي ، سندھي ، پنجابي جيسي علاقائي زبانوں کے علاوہ کئي ايک دوسري زبانوں ميں بھي واقعہ کربلا اپني تمام تر مظلوميت کے ساتھ لکھنے ، سننے اور پڑھنے والوں کو گريہ و زاري پر اکساتا رہا -

اردو زبان ميں صنف مرثيہ کے باقاعدہ وجود ميں آنے سے پہلے دوہے ، دہے ، نوحے وغيرہ پڑھے جاتے تھے - دکھني ، اردو ميں چو مصرع مرثيوں کا رواج تھا ، شمالي ھندوستان ميں بھي مرثيے کي مختلف شکليں موجود تھيں -

مير ضمير اور ميرخليق کے بعد انيس و دبير نے مرثيے کي صنف کو ايسي ترقي دي اور اپنے شعري کمالات کي ايسي دھاک بٹھائي کہ ان کے بعد پھر کسي کو ايسي بلندي نصيب نہ ہوئي - مرثيہ پر اردو ادب ميں جو کام ہوا وہ ہمارے مد نظر نہيں ہے بلکہ اردو ادب ميں کربلا کے استعارے اور "سيد الشھداء امام حسين عليہ السلام" کي پاکيزہ شخصيت کو جديد شاعري ميں جس طرح استعمال کيا گيا ہے اس پر مختصر روشني ڈالنے کي کوشش کريں گے -

دنيا کي ہر چھوٹي زبان کو واقعہ کربلا نے جلا بخشي ، بقول قيصر بارہوي :

شاعر کسي خيال کا ہو يا کوئي اديب

واعظ کسي ديار کا ہو يا کوئي خطيب

تاريخ بولتا ہے جہاں کوئي خوش نصيب

اس طرح بات کرتا ہے احساس کا نقيب

ديکھو تو سلسلہ ادب مشرقين کا

دنيا کي ہرزبان پہ قبضہ حسين کا

محرم الحرام

اردو ادب کے معروف تنقيد نگار اور اديب پروفيسر گوپي چند نارنگ لکھتے ہيں :

" راہ حق پر چلنے والے جانتے ہيں کہ صلواۃ عشق کا وضو خون سے ہوتا ہے اور سب سے سچي گواھي خون کي گواھي ہے - تاريخ کے حافظے سے بڑے بڑے شہنشاہوں کا جاہ و جلال شکوہ و جبروت ،شوکت و حشمت سب کچھ مٹ جاتا ہے ليکن شہيد کے خون کي تابندگي کبھي ماند نہيں پڑتي بلکہ کبھي کبھي تو جب صدياں کروٹ ليتي ہيں اور تاريخ کسي نازک موڑ پر پہنچتي ہے تو خون کي سچائي  پھر آواز ديتي ہے اور اس کي چمک ميں نئي معنويت پيدا ہو جاتي ہے " -

جب جب خير و شر اور حق و باطل کي آميزش و پيکار ميں معاشروں کو نئے مطالبات اور نئي ہولناکيوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے يا جبر و استبداد ، ظلم و بے مہريوں کا کوئي نيا باب وا ہوتا ہے تو معاشرے يادوں کے قديم دفينوں کي طرف متوجہ ہوتے ہيں اور تاريخي روايتوں نيز ثقافتي لاشعور کے خزينوں سے حرکت و حرارت کا نيا سازوسامان لے کر فکروعمل کي نئي راہوں کا تعين کرتے ہيں -

کربلا کے لق و دق صحرا ميں سيدالشہداء نے جو تاريخ رقم کي ہے وہ ہر دور ميں حق پرستوں کے لئے مشعل راہ بني رہے گي -

واقعہ کربلا ميں انساني فکروعمل کے لاتعداد گوشے پنہاں ہيں ان کو کبھي حق و باطل ايثار و قرباني اور حريت و آزادي کے نام سے دائمي اقدار ميں شمار کيا جاتا ہے تو کبھي فرات ، پياس ، قتل ، لاوارثي ، سجدہ ، نيزہ ، سرفروشي ، بلندنطري اور شام غريباں جيسي علامتوں کے ذريعے شاعري کو معراج عطا کرنے کي کوشش کي جاتي ہے -

جديد اردو ادب ميں يا دوسرے الفاظ ميں جديد رثائي ادب ميں حرف غم و الم کي بات اور آنسووں کي رواني نہيں بلکہ اعلي انساني اقدار اور بلند ترين اخلاقي اقدار کي ترجماني بھي نظر آتي ہے اور بلاشبہ کربلا ہي ہے جس نے جہاد و قرباني ، ثبات و استقامت اور محنت و وفاداري کا جذبہ عطا کيا ہے - جن شاعروں نے کربلا سے متاثر ہو کر رثائي ادب تخليق کيا ہے ان ميں يہ اقدار پوري طرح جلوہ گر نظر آتي ہيں اور اردو شعراء کے اشعار کي ايک بڑي  تعداد کو اگر واقعات کربلا کے پس منظر ميں نہ ديکھا جائے تو بالکل نامفہوم ہو کر رہ جاتے ہيں -

ذوق نے شايد اسي وجہ سے کہا تھا :

لکھوں جو ميں کوئي مضمون ظلم چرخ بريں

تو کربلا کي زمين ہو مري غزل کي زمين

شايد يہ کہنا غلط نہ ہو کہ اردو ادب ميں استعارے کي شاعري کو کربلائيت نے ہي مقبوليت عطا کي - اگر کربلا کا تصور نہ ہوتا تو اردو غزل کا يہ شعر کہاں سے آتا ؛

اس دشت ميں اے سيل سنبھل کر ہي قدم رکھ

ہر سمت کو ياں دفن مري تشنہ لبي ہے -

يا اسي طرح يہ شعر ؛

لٹنے والوں کو وفا کا يہ سبق ياد رہے

بيڑياں پاوں ميں ہوں اور دل آزاد رہے -

دبير سيتا پوري کا يہ شعر بھي قابل غور ہے :

ستمگرو ! نہ ستم کرتے کرتے تھک جانا

ہمارے صبر کي حد جنگ کربلا تک ہے -

محرم الحرام

موجودہ دور کے نامور شاعر افتخار عارف کے کلام ميں بھي کربلا کا شعري استعارہ نہايت منفرد ہے - وہ کربلا کي تعليمات کو نئے سماجي انساني مفاہيم ميں استعمال کرتے ہيں - ايسا محسوس ہوتا ہے کہ افتخار عارف کے تخليقي وجدان کو کربلا کے کرداروں سے گہري انسيت ہے اور وہ انداز بيان بدل بدل کر حق و حقيقت کے اس واقعہ کو انساني اذہان تک پہنچانے کيلئے کوشاں ہيں ، مثلا :

وہي پياس ہے وہي دشت ہے وہي گھرانا ہے

مشکيزے سے تير کا رشتہ پرانا ہے

صبح سويرے رن پڑنا ہے اور گھمسان کا رن

راتوں رات چلا جائے جس جس کو جانا ہے -

ايک اور جگہ کہتے ہيں :

خلق نے ايک منظر نہيں ديکھا بہت دنوں سے

نوک سناں پہ سر نہيں ديکھا بہت دنوں سے

خاک اڑانے والے لوگوں کي بستي ميں

کوئي صورت گر نہيں ديکھا بہت دنوں سے

افتخار عارف کا يہ شعر تو اپني مثال آپ ہے ؛

سپاہ شام کے نيزے پہ آفتاب کا سر

کس اہتمام سے پروردگار شب نکلا

پاکستان کي معروف شاعرہ پروين شاکر کربلا کے کرداروں کي مظلوميت کا آج کي مظلوميت سے کس طرح موازنہ کر رہي ہيں ؛

جلے ہوئے راکھ خيموں سے کچھ کھلے ہوئے سر

ردائے عفت اڑھانے والے

بريدہ بازو کو ڈھونڈتے ہيں

بريدہ بازو کہ جن کا مشکيزہ

ننھے حلقوم تک اگرچہ پہنچ نہ پايا

مگر وفا کي سبيل بن کر فضا سے ابتک چھلک رہا ہے

برہنہ سر بيبياں

ہواوں ميں سوکھے پتوں کي سرسراہٹ پہ

چونک اٹھتي ہيں

نگاہ تخيل ديکھتي ہے

چمکتے نيزوں پہ سارے پياروں کے سر سجے ہيں

کٹے ہوئے سر

شکستہ خوابوں سے کيسا پيمان لے رہے ہيں

کہ خالي آنکھوں ميں روشني آتي جا رہي ہے

پروين شاکر اپنے خدا سے آرزو کرتے ہوئے کہتي ہيں :

پہروں کي تشنگي پہ بھي ثابت قدم رہوں

دشت بلا ميں روح مجھے کربلائي دے -

پاکستان کے ايک اور شاعر احمد نديم قاسمي کا خراج تحسين ملاحظہ ہو ؛

يہ شہادت ہے اس انسان کي آب حشر تلک

آسماں سے صدا آئے گي انساں انساں -

اسي مقام پر ياس يگانہ کا يہ شعر نہ لکھا جائے تو بات نامکمل رہ جائے گي ؛

ڈوب کر پار اتر گيا اسلام

آپ کيا جانيں کربلا کيا ہے -

مجيد امجد نے بھي کيا خوب کہا ہے :

سلام ان پہ تہہ تيغ بھي جنہوں نے کہا

جوتيرا حکم ، جو تيري رضا ، جو تو چاہے -

ان کا يہ انداز بھي منفرد ہے :

وہ شام صبح دو عالم تھي جب بہ سرحد شام

رکا تھا آکے ترا قافلہ ، ترے خيام

متاع کون و مکاں تجھ شہيد کا سجدہ

زمين کرب و بلا کے نمازيوں کے امام

يہ نکتہ تو نے بتايا جہان والوں کو

کہ ہے فرات کے ساحل سے سلسبيل اک گام

سوار مرکب دوش رسول ، پور بتول

چراغ محفل ايماں ترا مقدس نام -

مسز نيازي نے اپنے مجموعے "دشمنوں کے درميان شام" کا انتساب امام حسين عليہ السلام کے نام کيا -

خواب جمال عشق کي تعبير ہے حسين ع

شام ملال عشق کي تصوير ہے حسين ع

مصطفي زيدي نے کربلا کے شہيدوں کو يوں خراج عقيدت پيش کيا ہے :

دلوں کو غسل طہارت کے واسطے جا کر

کہيں سے خون شہيدان نينوا لاو

شہرت بخاري يوں کہتے ہيں :

پھر کوئي حسين آئے گا اس دشت ستم ميں

پرچم کسي زينب کي ردا ہو کے رہے گي

جي مارنا پروانوں کا ايمان بنے گا

روشن پھر شمع وفا ہو کے رہے گي

عہد حاضر کے معروف شاعر احمد فراز کا سلام بھي دلوں کو گرما ديتا ہے :

اے مرے سربريدہ ، بدن دريدہ

سدا ترا نام برگزيدہ

ميں کربلا کے لہو لہو دشت ميں تجھے

دشمنوں کے نرغے ميں ، تيغ در دست ديکھتا ہوں

ميں ديکھتا ہوں

کہ تيرے سب رفيق ، سب ہمنوا، سبھي جانفروش

اپنے سروں کي فصليں کٹا چکے ہيں

گلاب سے جسم اپنے خوں ميں نہا چکے ہيں

ہوائے جانکا کے بگولے

چراغ سے تابناک چہرے بجھا چکے ہيں

مسافران رہ وفا لٹ لٹا جا چکے ہيں

اور اب فقط تو

زمين کے اس شفق کدے ميں

ستارہ صبح کي طرح

روشني کا پرچم لئے کھڑا ہے

يہ ايک منظر نہيں

اک داستاں کا حصہ نہيں

اک واقعہ نہيں

يہيں سے تاريخ اپنے تازہ سفر کا آغاز کر رہي ہے

يہيں سے انسانيت

نئي رفعتوں کو پرواز کر رہي ہے

ميں آج اسي کربلا ميں بے آبرو ، نگوں سر،شکست خوردہ، خجل کھڑا ہوں

جہاں سے ميرا عظيم ہادي

حسين کل سرخرو گيا ہے

ميں جاں بچا کر ، فنا کے دلدل ميں جاں بلب ہوں

وہ جاں لٹا کر

منارہ عرش چھو گيا ہے -

شکيب جلالي لکھتے ہيں :

ساحل تمام گرد ندامت سے اٹ گيا

دريا سے کوئي آ کے پياسا پلٹ گيا

مظفر حنفي نے کيا خوبصورت منظر کشي کي ہے :

چاہتا يہ ہوں کہ دنيا ظلم کو پہچان جائے

خواہ اس کرب و بلا کے معرکے ميں جان جائے

محسن نقوي نے کربلا اور امام حسين ع کے بارے ميں بہت کچھ کہا ہے ليکن درج ذيل اشعار ميں انکي انفراديت انسان کو اپني سو متوجہ کرتي ہے ؛

ملي نہ جن کي جبيں کوپئے سجود جگہ

ان ہي کے پاک لہو سے ہے باوضو مٹي

اقبال ساجد کہتے ہيں

تو نے صداقتوں کا نہ سودا کيا حسين

باطل کے دل ميں رہ گئي حسرتـ خريد کي

امير مينائي کے بقول

جو کربلا ميں شاہ شہيداں سے پھر گئے

کعبہ سے منحرف ہوئے قراں سے پھر گئے

گلزار بخاري نے کيا خوب کہا ہے

کسي سے اب کوئي بيعت طلب نہيں کرتا

کہ اہل تخت کے زہنوں ميں ڈر حسين کا ہے  

ہم اپنے مضمون کا اختتام سيد آل رضا کے ان اشعار سے کرتے ہيں جن ميں گويا مقصد حسين عليہ السلام مکمل تفصيل سے بيان کيا گيا ہے :

قافلہ آل محمد کا سوئے شام چلا

لے کے کچھ خونوں سے لکھا ہوا پيغام چلا

روندتا پيروں سے ہر گردش ايام چلا

ہاتھ بندھوائے لئے خدمت اسلام چلا

اک سفر ختم ہے اک اور سفر کرنا ہے

کربلا فتح ہوئي شام کو سر کرنا ہے

اس مضمون ميں اقبال و جوش جيسے  شعراء کے اشعار کا ذکر اس وجہ سے نہيں ہوا چونکہ ان کا تذکرہ اکثر ہوا کرتا ہے اور يوں بھي اختصار مد نظر تھا -

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان