• صارفین کی تعداد :
  • 653
  • 12/29/2011
  • تاريخ :

دور حاضر ميں  پيش آنے والي  تبديلياں (تيسرا حصّہ)

کتابیں

محمد بشير مالير کوٹلوي خوب لکھ رہے ہيں- 2007ء ميں 23 افسانوں کا مجموعہ ’’چنگارياں‘‘ منظرِ عام پر آيا- ’زندہ در گور‘،’قسم‘ ، ’بدبو‘، ’خريدار‘ ايسي کہانياں ہيں جو قاري کو جھنجھوڑتي ہيں-

نئے عنوانات اور نئے موضوعات کو ليے ہوئے 2006ء ميں پرويز شہر يار کا افسانوي مجموعہ ’’بڑے شہر کا خواب‘‘ کے نام سے شائع ہوا- اس ميں بيانيہ انداز حاوي ہے مگر ڈرامائي زور بھي ہے- ’’نيا سورج نيا سويرا‘‘،’’جہيز کي آگ‘‘ اور’’ انوکھا انتقام‘‘ ياد گار کہانياں کہلانے کي مستحق ہيں-

احمد صغير کے نئے افسانوي مجموعہ ’’درميان کوئي تو ہے‘‘(2007ء) ميں تازگي اور تازہ کاري ہے- ’’فصيل شب ميں جاگتا ہے کوئي‘‘ نکسل واد پر لکھي با معني کہاني ہے- ’’تعفن‘‘ اور ’’سوانگ‘‘ عہد حاضر کي حسّيت اور آگہي کا بھر پور اظہار کرتي ہيں-

’’دو سو قدم کا ڈر‘‘ميں نذير احمد يوسفي نے مسلمانوں کي زبوں حالي اور ان ميں پروان چڑھ رہے عدم تحفظ کے احساس کو خوبي سے اُجاگر کيا ہے- 18طچ افسانوں کے اس مجموعہ ميں ’’اِن کاوءنٹر‘‘، ’’رائي کا پربت‘‘، ’’زمين تنگ ہے‘‘ اور ’’نصف شب کا منظر‘‘ قابلِ رشک افسانے ہيں-’’نيو کي اينٹ‘‘ ميں موضوعاتي اور اسلوبياني، دونوں سطحوں پر نيا پن ہے- جس کي بنا پر مذکورہ مجموعہ ميں کہاني کي ايک مربوط صورت گري موجود ہے جو عصري تقاضوں سے اُبھرتي ہے اور ايک منطقي ربط اور تسلسل ميں کہاني کو پروتي ہے- ’’حيرت فروش‘‘ کي تقريباً تمام کہانياں تھيم اور برتاوء کے اعتبار سے اپني لگ شناخت رکھتي ہيں- غضنفر کے اسلوب ميں علاقائي اور مقامي اثرات، دوسري زبانوں اور بوليوں کے بعض عناصر اس طرح نفوذ کر گئے ہيں کہ اس سے اردو افسانے کي لفظيات ميں اضافہ ہو ا ہے-

اقبال مہدي کے 22طچ افسانوں کا مجموعہ ’’تم نے جفا کي تو صنم مدتوں کے بعد‘‘ اہم مجموعہ قرار ديے جانے کے لائق ہے- وہ شاعرانہ طور پر کم لفظوں ميں بات کرتے ہوئے اچانک افسانے کي فضا کو بدل ديتے ہيں- گجرات کے لرزہ خيز واقعہ پرمبني افسانہ ’’کيوں گردشِ مدام سے گھبرانہ جائے دل‘‘ اپنے برتاوء کے اعتبار سے بھي بہت اہم ہے-

صديق عالم کے افسانوي مجموعہ ’’ليمپ جلانے والے‘‘(2008ء) ميں ايک خاص طرح کي کشادگي ہے- وہ نئے طريقے سے بات کرنے کا ہُنر جانتے ہيں- واقعہ کي تلاش انھوں نے قرب و جوار کے ماحول سے کي ہے مگر اس طرح کہ اس ميں عالمي منظر نامہ سمٹ آتا ہے- مجموعہ ميں شامل بارہ کہانيوں ميں ’’آخري ميم‘‘ اور’’بنجا من کا فليٹ‘‘ نہايت چست درست افسانے ہيں-

’’ميٹھا زہر‘‘ مشتاق احمد واني کا افسانوي مجموعہ ہے- 2008ء ميں شائع ہونے والے اس مجموعہ ميں بارہ افسانے شامل ہيں- ’’جنم بھومي کے آنسو‘‘، ’’افراتفري ميں کھڑا آدمي‘‘اور ’’دوہري مار‘‘ اُن کي ہُنرمندي اور ادراکيت کا ثبوت ديتے ہيں چونکہ انھيں کہاني Developeکرنے کا طريقہ آتا ہے اس ليے بات کو نہايت موثر انداز ميںپيش کرتے ہيں-

2006ء ميں نعيم کوثر کے چودہ افسانوں کا مجموعہ ’’اقرار نامہ‘‘ منظر عام پر آيا- موجودہ صورت کو نعيم کوثر نے اس مجموعہ ميں کچھ اس خوبي سے پينٹ کيا ہے کہ قاري تلملا اُٹھتا ہے - اُس کے سامنے عالمگيريت اور صارفيت کا متضاد چہرہ رونما ہوتا ہے-

اقبال مجيد نے ’’آگ کے پاس بيٹھي عورت‘‘ کو اس طرح پيش کيا ہے کہ وہ پريم چند، راشد الخيري يا عصمت چغتائي سے الگ نظر آتي ہے- ہم سب جانتے ہيں کہ افسانہ نگاري کي تکنيک اچانک نہيں بدلتي ہے کچھ اسباب ضرور ہوا کرتے ہيں- ’’انگارے‘‘ ميں مروجہ تکنيک يکايک بدلي تو پہلي جنگ عظيم کے خاتمہ کے اثرات تھے- جديديت اور ما بعد جديديت کے پيش نظر بدلنے کے فطري اسباب ہيں اور اب اکيسويں صدي ميں تکنيک کا بدلنا فطري طور پر لازم ہے اور اس کے اثرات ہميں اقبال مجيد کي تيرہ کہانيوں کے اس مجموعے ميں نظر آتے ہيں-اتفاق ہے کہ بدلتے مظاہر کا عکس ہميں بنگال کے افسانوں ميں کچھ زيادہ نظر آرہا ہے مثال کے طور پر فيروز عابد کي کہاني ’’سب کچھ اندر ہے‘‘کلکتہ کي بھاگتي ہوئي زندگي کو قيد کرتي ہے- منظر ميں ايک ايسا ملٹي اسٹوري رہائشي کامپليکس اُبھرتا ہے جس ميں تمام سہولتيں مہيا ہيں- جِم ہے، بازار ہے، سوئمنگ پول ہے، ہسپتال ہے- يہ ہے ، وہ ہے- سُنتے سُنتے اچانک اُس کے منھ سے نکل جاتا ہے کہ کيا شمشان گھاٹ بھي اس کے اندر ہے-

تحرير : پروفيسر صغير افراہيم

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان