• صارفین کی تعداد :
  • 7419
  • 12/29/2011
  • تاريخ :

آنسو کا بہنا اور ميڈيکل سائنس کا باہمي تعلق ( حصّہ سوّم )

آنسو بہانا

گريہ اور بن بادل برسات:

کچھ لوگ رونے کو بارش سے تشبيہ ديتے ہيں اور خوب ديتے ہيں کہ اس سے دلچسپ نتائج اخذ کئے جا سکتے ہيں-!

1- بادل کي برسات موسم کي محتاج ہے جب کہ دل کي برسات کا کوئي موسم نہيں بلکہ يہ تو اندر کے موسم پر منحصر ہے- دل کي اداسي اور نرمي پر دلالت کرتي ہے- 

دل تو اپنا اداس ہے ناصر

شہر کيوں سائيں سائيں کرتا ہے

2- بادل کي برسات گرمي ماحول کي وجہ سے ہوتي ہے کہ ضروري ہے بخارات بنيں اور بادل ہوں اور پھر برسيں- جبکہ من کي برسات گرمي جذبات و ايمان پر منحصر ہے-

3- بادل کي برسات سے پہلے طوفاني ہوائيں چلتي ہيں کہ کچھ دکھائي نہيں ديتا، من کي برسات سے پہلے ذہن ميں آندھياں چلتي ہيں کہ کچھ سُجھائي نہيں ديتا-

4- بادل کي برسات سے پہلے کالي گھٹائيں آتي ہيں، من کي برسات سے پہلے دل ميں صدائيں بلند ہوتي ہيں -

5- بادل کي برسات کي آلودگي، فضاکي کثافت اور ديواروں پر لکھے نعروں کو دھو ڈالتي ہے جبکہ من کي برسات دل کے غبار، گناہوں کي غلاظت اور نوشتہ ديوار کو صاف اور واضح کر ديتي ہے اور انسان پھر سے ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہے-

6- بادل کي برسات ہر جگہ ہريالي اور سبزہ اُگا ديتي ہے، زمين يکسر تبديل ہوجاتي ہے، فصل لہلہانے لگتي ہے، جبکہ من کي برسات عزم و استقلال، تجديدِ عہد، تجديدِ ايمان کا سبب بنتي ہے اور انسان کي شخصيت کو يکسر تبديل کر ديتي ہے- مردہ دل ميں بہار آ جاتي ہے اور نئي امنگيں انگڑائياں لينے لگتي ہيں-

7- اگر کوئي زمين بادل کي برسات سے نہ بدل سکے تو اس کو ’’بنجر‘‘ زمين کہتے ہيں- اس طرح گريہ و زاري کسي انسان کو نہ بدل سکے تو ايسے انسان کو ’’شقي‘‘ کہتے ہيں-

تو جناب رونے کي اتني افاديت ہے کہ کچھ لوگ تو خوشي کے موقعوں پر بھي رونے کو ترجيح ديتے ہيں کہ حيات اتني گنجلک ہوچکي ہے کہ شايد ہنسنے کے مواقع مفقود ہوچکے ہيں - 

پيشانيِ حيات پہ کچھ ايسے بل پڑے

ہنسنے کا دل جو چاہا تو آنسو نکل پڑے

آنسووں کي اقسام

ميڈيکل سائنس کے مطابق آنسووں کي تين اقسام ہيں: 

بنيادي آنسو Basal Tears:

يہ وہ آنسو ہيں جو ہر وقت آنکھ کي اگلي پرت پر ايک تہہ کي صورت ميں موجود رہتے ہيں- سالانہ ان کي مقدار آدھا ليٹر ہے- اس کي ترکيب ميں مندرجہ ذيل اجزائ شامل ہيں- پاني، نمک، Lysozyme، Anbtibodies، Urea-

اس کا فائدہ يہ ہے کہ ايک تو يہ گرد و غبار سے بچاتے ہيں دوسرا يہ کہ آنکھ کي اگلي پرت کو سوکھنے نہيں ديتے جس سے زخم ہونے کا خدشہ نہيں ہوتا- ان آنسووں ميں موجود Antibodies آنکھ کو انفيکشن سے بچاتے ہيں-

انسان کے جسم ميں آنکھ غالباً واحد عنصر ہے جہاں Antibodies ہمہ وقت موجود رہتي ہيں ورنہ Antibodies عموماً خون ميں ہوتي ہيں- آنکھ کي حفاظت واقعي ضروري ہے اور کيونکر نہ ہو کہ مولا علي کے مطابق ’’تمہارے حواس ميں سب سے اہم آنکھ ہے‘‘- 

تحرير : ڈاکٹر عليم شيخ 

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان