• صارفین کی تعداد :
  • 2528
  • 12/29/2011
  • تاريخ :

اسلامي ثقافت ميں خواتین کي منزلت

حجاب والی خواتین

اسلامي نقطہ نگاہ پر توجہ دينے کي ضرورت

جب دنيا کے فکري ميدان پر نظر دوڑائي جاتي ہے اور پھر اسلامي نقطہ نگاہ کا جائزہ ليا جاتا ہے تو صاف صاف يہ محسوس ہوتا ہے کہ انساني معاشرہ اسي وقت مرد و زن کے رابطے کے سلسلے ميں مطلوبہ منزل اور نہج پر پہنچ سکتا ہے جب اسلامي نظريات کو بغير کسي کمي و بيشي کے اور بغير کسي افراط و تفريط کے سمجھا اور درک کيا جائے اور انہيں پيش کرنے کي کوشش کي جائے- اس وقت مادہ پرست تہذيبوں ميں خاتون کے سلسلے ميں جو طرز عمل اختيار کيا گيا ہے اور جو سلسلہ چل رہا ہے وہ کسي صورت بھي قابل قبول نہيں ہے اور وہ خاتون کے مفاد اور حق ميں ہے نہ معاشرے کے فائدے ميں-

اسلام کي خواہش ہے کہ خاتونوں کا فکري، علمي، سياسي، سماجي اور سب سے بڑھ کر روحاني و معنوي نشو نما اپني منزل کمال پر پہنچ جائے اور ان کا وجود انساني معاشرے اور کنبے کے لئے، ايک اہم رکن کي حيثيت سے، آخري حد تک ثمر بخش اور مفيد ثابت ہو- تمام اسلامي تعليمات منجملہ مسئلہ حجاب کي بنياد يہي ہے- قرآن کريم ميں اللہ تعالي جب اچھے اور برے انسانوں کي مثال دينا چاہتا ہے تو دونوں کے سلسلے ميں خاتون کا انتخاب کرتا ہے- ايک مثال زوجہ فرعون کي ہے اور دوسري مثال حضرت نوح و حضرت لوط عليھم السلام کي بيويوں کي ہے- " و ضرب اللہ مثلا للذين آمنوا امرئۃ فرعون" اس کے مقابلے ميں برے، نگوں بخت، منحرف اور غلط سمت ميں بڑھنے والے انسان کي مثال کے طور پر حضرت نوح اور حضرت لوط کي ازواج کو پيش کرتا ہے- يہاں سوال يہ اٹھتا ہے کہ مرد بھي موجود تھے، ايک مثال مرد کي دے دي ہوتي اور ايک مثال خاتون کي دي ہوتي- ليکن نہيں، پورے قرآن ميں جب بھي ارشاد ہوتا ہے کہ " ضرب اللہ للذين آمنوا" يا " ضرب اللہ للذين کفروا" تو دونوں کي مثال خاتونوں کے ذريعے پيش کي جاتي ہے-

خامنہ اي ڈاٹ آئي آر

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں :

عورت اور قديم معاشروں کي بدقسمتي ( حصّہ پنجم )