• صارفین کی تعداد :
  • 851
  • 12/29/2011
  • تاريخ :

بزمِ  شاہنشاہ ميں اشعار کا دفتر کھلا

رکھيو يارب يہ درِ  گنجينۂ گوہر کھلا

 مرزا غالب دہلوی

بزمِ  شاہنشاہ ميں اشعار کا دفتر کھلا

 رکھيو يارب يہ درِ  گنجينۂ گوہر کھلا

اس شعر ميں يہ اشارہ ہے کہ بزم شاہي ميں جو گنجينۂ گوہر ہے تو فقط اسي سبب سے ہے کہ ميرے اشعار کا دفتر وہاں کھلا ہے اور يہ دُعا ہے کہ الٰہي در کو کھلا رکھ ، اس کے معني يہ ہيں کہ آباد رکھ اور اس کا فيض جاري رکھ -

شب ہوئي پھر انجم رخشندہ کا منظر کھلا

اس تکلف سے کہ گويا بت کدئے کا در کھلا

فقط تاروں کے کھلنے کا سماں دکھايا ہے يہ شعر غزل کا نہيں بلکہ قصيدہ کي تشبيب کاہے غالباً اور شعر اس کے ساتھ ہوں گے جو انتخاب کے وقت نکال ڈالے گئے -

گرچہ ہوں ديوانہ پر کيوں دوست کا کھاۆں فريب

آستيں ميں دشنہ پنہاں ہاتھ ميں نشتر کھلا

يعني دُنيا کي دوستي ايسي ہے کہ ظاہر و باطن يکساں نہيں ہاتھ ميں نشتر کھلا ہوا ہونا اظہارِ غم خواري کے لئے ہے يعني فصد و علاج کا قصد ظاہر کرتا ہے اور آستين ميں دشنہ چھپائے ہوئے ہيں يعني چھرياں مارنے کا ارادہ رکھتا ہے -

گو نہ سمجھوں اُس کي باتيں گو نہ پاۆں اُس کا بھيد

پر يہ کيا کم ہے کہ مجھ سے وہ پري پيکر کھلا

اس شعر ميں ’ کھلنا ‘ بے تکلف ہوکر باتيں کرنے کے معني پر ہے -

ہے خيال حسن ميں حسن عمل کا سا خيال

خلد کا اک در ہے ميري گور کے اندر کھلا

’ خيالِ  حسن ‘ يعني تصور چہرۂ معشوق سے قبر ميں باغ بہشت دکھائي دے رہا ہے اس لئے کہ اُس کے چہرہ ميں باغ کي سي رنگيني ہے تو گويا کہ تصور حسن اور حسن اعمال کا ايک ہي ثمرہ ہے -

منہ نہ کھلنے پر ہے وہ عالم کہ ديکھا ہي نہيں

زلف سے بڑھ کر نقاب اس شوخ کے منہ پر کھلا

اس شعر ميں ’ کھلنا ‘ زيب دينے کے معني پر ہے ديکھو معني رديف ميں جدت کرنے سے شعر ميں کيا حسن ہو جاتا ہے -

درپہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کيسا پھر گيا

جتنے عرصہ ميں مرا لپٹا ہوا بستر کھلا

فقط معشوق کي ايک شوقي کا بيان منظور ہے اور يہ بہترين مضامين غزل ہوا کرتا ہے -

کيوں اندھيري ہے شبِ غم ہے ؟بلاۆں کا نزول

آج اُدھر ہي کو رہے گا ديدۂ اختر کھلا

پہلے مصرع ميں سوال و جواب ہے يعني تاريکي شبِ غم کا سبب يہ ہے کہ بلندي عرش پر سے بلائيں اُتر رہي ہيں اور تاروں نے اُن کے اُترنے کا تماشہ ديکھنے کے لئے اس طرف سے اُس طرف آنکھيں پھيرلي ہيں يعني اس کثرت سے اُتر رہي ہيں جيسے ميلہ قابل تماشا ہوتا ہے -

کيا رہوں غربت ميں خوش جب ہو حوادث کا يہ حال

نامہ لاتا ہے وطن سے نامہ بر اکثر کھلا

دستور ہے کہ خبر مرگ جس خط ميں لکھتے ہيں اُسے کھلا ہي روانہ کرتے ہيں اور غربت کے معني مسافرت -

اُس کي اُمت ميں ہوں ميں ميرے رہيں کيوں کام بند

واسطے جس شے کے غالب گنبدِ  بے در کھلا

يعني معراج کي شب ميں -

پيشکش: شعبہ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

محرم نہيں ہے تو ہي نواہائے راز کا /  ياں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا