• صارفین کی تعداد :
  • 2374
  • 12/15/2011
  • تاريخ :

عورت اور قديم معاشروں کي بدقسمتي ( حصّہ سوّم )

خاتون

قرآن ميں بہت سے مقام پر عورت کو مورد بحث قرار ديتے ہوۓ اس کا احترام کرنے  اور اس کے حقوق کي ادائيگي کا حکم ديا گيا ہے -

ارشاد خداوندي ہے :

 وَقُلْنَا يَاآدَمُ اسْکُنْ أَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّةَ وَکُلاَمِنْہَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلاَتَقْرَبَا ہَذِہِ الشَّجَرَةَ فَتَکُوْنَا مِنْ الظَّالِمِيْنَ -

   "اور ہم نے کہا اے آدم تم اور تمہاري زوجہ جنت ميں سکون کے ساتھ قيام کرو، جہاں سے چاہو کھاۆ ليکن اس درخت کے قريب نہ جانا ورنہ تم دونوں زيادتي کا ارتکاب کرنے والوں ميں سے ہو جاو گے-" (سورہ بقرہ آيت نمبر 35) مزيد ارشاد ہوا ہے: وَيَاآدَمُ اسْکُنْ أَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّةَ فَکُلاَمِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَاتَقْرَبَا ہَذِہِ الشَّجَرَةَ فَتَکُوْنَا مِنْ الظَّالِمِيْنَ - "اے آدم! تم اور تمہاري زوجہ اس جنت ميں سکونت اختيار کرو جہاں سے چاہو کھاۆ مگر اس درخت کے نزديک نہ جانا ورنہ تم دونوں ظالموں(زيادتي کرنے والوں ميں ) سے ہو جاۆگے - " ( سورہ اعراف آيت نمبر19)

 ان آيات قرآني ميں آدم عليہ السلام و حوا دونوں کا ذکر ہواہے اور جب شيطاني وسوسہ کا تذکرہ ہو تو بھي دونوں کا ذکر کيا گيا - ارشادِ خداوندي ہے: فَأَزَلَّہُمَا الشَّيْطَانُ عَنْہَا فَأَخْرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِيْہِ "پس شيطان نے ان دونوں کو پھسلايا اورجس (نعمت) ميں دونوں قيام پذير تھے اس سے نکلوا ديا- ( سورہ بقرہ 36)

 نيز ارشاد ہے : فَوَسْوَسَ لَہُمَا الشَّيْطَانُ لِيُبْدِيَ لَہُمَا مَا ورِيَ عَنْہُمَا مِنْ سَوْآتِہِمَا وَقَالَ مَا نَہَاکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ہَذِہِ الشَّجَرَةِ إِلاَّ أَنْ تَکُوْنَا مَلَکَيْنِ أَوْ تَکُوْنَا مِنَ الْخَالِدِيْنَ وَقَاسَمَہُمَا إِنِّي لَکُمَا لَمِنَ النَّاصِحِيْنَ فَدَلاَّہُمَا بِغُرُوْرٍ-ج "پھر شيطان نے انہيں بہکايا تاکہ اس طرف سے ان دونوں کے ليے پوشيدہ مقامات جو ان سے چھپائے گئے تھے ان کے ليے نماياں ہو جائيں اور کہا تمہارے رب نے تمہيں اس درخت سے صرف اس ليے منع کيا تھا کہ کہيں تم فرشتے نہ بن جاۆ يا زندہ جاويد نہ بن جاۆ - " (سورہ اعراف آيت نمبر 20-21) ان قرآني آيات ميں شيطان کے وسوسے کا تعلق دونوں سے ہے اور اس طرح پھسلائے اور بہکائے جانے والے بھي آدم عليہ السلام حوا دونوں ہيں لہٰذا صرف حوا کو مورد الزام ٹھہرانا صحيح نہيں ہے - پھرجب جنت سے نکل جانے کا حکم ہو اتو دونوں ہي کو بلکہ شيطان کو بھي حکم ديا اورشيطان کي دشمني کا تذکرہ بھي دونوں کے ليے ہوا- جيساکہ ارشادِ خداوندي ہے : قُلْنَا اہْبِطُوْا مِنْہَا جَمِيْعًا "ہم نے کہا تم سب يہاں سے نيچے اترجاۆ - " (سورہ بقرہ آيت نمبر 38 )

 نيزارشاد خدا وندي ہے: قَالَ اہْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ج وَلَکُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ إِلٰي حِيْنٍ - "ايک دوسرے کے دشمن بن کے نيچے اتر جاۆ اور زمين پر ايک مدت تک تمہارا قيام و سامان ہو گا -اللہ کي طرف سے يہ فرمان دونوں کے ليے آيا تھا-" ( سورہ اعراف آيت نمبر24) مزيدارشاد ہوا ہے: وَنَادَاہُمَا رَبُّہُمَا أَلَمْ أَنْہَکُمَا عَنْ تِلْکُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُلْ لَّکُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَکُمَا عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ - "اور ان کے رب نے انہيں پکارا کہ کيا ميں نے تمہيں اس درخت(کے پاس جانے) سے منع نہيں کيا تھا اور تمہيں بتايا نہ تھا کہ شيطان يقينا تمہارا کھلا دشمن ہے - ( سورہ اعراف آيت نمبر22)

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں :

عورت اور ترقي  (حصّہ نهم)