• صارفین کی تعداد :
  • 4073
  • 12/8/2011
  • تاريخ :

سورۂ حمد کي آيات  نمبر  7-6  کي تفسير

قرآن کریم

جيسا کہ ہم نے عرض کيا خدائے رحمن و رحيم کا ايک بندۂ عارف جب يہ محسوس کرتا ہے کہ پورا عالم ہستي خدا نے ہي خلق و ايجاد کيا ہے اور سب کے سب اس کے سامنے سراپا تسليم ہيں تو خود کو عبادت گزاروں کے ايک عظيم قافلے کے ساتھ ہم قدم و ہم آہنگ پاتا اور آواز ديتا ہے " کہ ہم سب کے سب تيري ہي عبادت کرتے اور تجھ سے ہي مدد چاہتے ہيں " اور يہي وہ دين خالص ہے کہ جس کي طرف سورۂ زمر کي چودہويں آيت ميں اشارہ ہے کہ " قل اللہ اعبد مخلصالّہ ديني" ( يعني کہديجئے کہ ميں صرف اللہ کي عبادت کرتا ہوں اور اپنے دين ميں خالص و مخلص ہوں ) تو ہي ہمارا خالق ہے تو ہي ہمارا معبود ہے تو ہي ہمارا پروردگار اور تو ہي ہمارا مددگار ہے ہم تيرے سوا کسي کي بھي عبادت نہيں کرتے اور تيرا دين ہي ہمارا دين ہے ہم اگر تيرے رسول اور "اولي الامر" کي اطاعت کرتے ہيں تو وہ تيري ہي اطاعت کے تحت ہے ہم اگر اپنے ماں باپ اور ديگر بزرگوں کا کہنا مانتے ہيں تو تيري ہي اطاعت کے ذيل ميں ہے کيونکہ " لاطاعت لمخلوق في معصيۃ الخالق" يعني خدا کي معصيت ميں کسي بھي مخلوق خدا کي اطاعت صحيح نہيں مانتے ، اسي کي اطاعت قبول کرتے ہيں جو خدا کا مطيع ہو پس ہماري راہ خدا کي راہ ہے جو سيدھي اور ايک ہي ہے اور ہرطرح کے اختلاف اور کجي سے پاک ہے -در اصل، دنيا ميں ديکھيں تو انساني زندگي ميں بہت سي راہيں نظر آتي ہيں ، ايک وہ راہ ہے جو انسان کي اپني انفرادي خواہشوں اور ضرورتوں کي تکميل کرتي ہے ، ايک وہ بھي ہے کہ جس پر معاشرہ اور معاشرے والے کاربند ہيں ايک وہ راہ ہے جس پر ہمارے ماں باپ چلتے رہے ہيں اور ايک راہ وہ بھي ہے کہ جس پر وقت کے طاغوت اور ظالم و جابر حکمراں چلے ہيں اور لوگوں کو چلاتے رہے ہيں ايک صرف دنيوي کاميابي و کامراني اور عيش و آسائش کي راہ ہے اور ايک صرف اخروي نجات و فلاح کے لئے دنيا سے کنارہ کشي اور سماجي امور سے عليحدگي اور دوري اختيار کرلينے اور سنياس لے لينے کي راہ ہے ، اسي طرح ايک راہ انفرادي فوائد کو اجتماعي فوائد پر قربان کردينے اور ايک راہ انفرادي مفادات کو اجتماعي مفادات پر ترجيح دينے کي راہ ہے طرح طرح کي راہيں اور طرح طرح کي فکريں ہيں اور انسان ان تمام راہوں اور روشوں کے درميان صحيح و سيدھي راہ کا انتخاب کرنے کے سلسلے ميں بہرحال الہي رہنما اور الہي کتاب کا ضرورتمند ہے خدا نے اسي لئے نبيوں اور رسولوں کے ساتھ آسماني کتابوں کا ايک سلسلہ جاري رکھا ہے اور ہر دور، ہر زمانے ميں انسانوں کي ہدايت و رہنمائي کا وسيلہ فراہم کيا ہے تا کہ لقائے الہي کا طالب بندہ، دروني اور بيروني ہرطرح کے شيطانوں سے محفوظ رہ کر خدا کي سيدھي راہ، صراط مستقيم پر چلے اور خدا تک پہنچ جائے چونکہ خدائے رحمن و رحيم کا عارف بندہ خدا کو ہي اپني اور پوري دنيا کي آخرت کا مالک و مختار سمجھتا ہے اس لئے اسي کي عبادت کرتا اور اسي سے مدد طلب کرتا ہے اور اسي سے چاہتا ہے کہ وہ اس کو اس سيدھي راہ پر ہميشہ چلاتا رہے تا کہ وہ اس کي بارگاہ ميں پہنچ جائے دنيوي راہوں ميں گم نہ ہو راہ سے بيراہ کرنے والے شيطانوں کے تسلط سے محفوظ رہے لقائے الہي کے ابتدائي مراحل طے کرنے کے باوجود اعلي مراحل تک پہنچنے کے خواہشمند بندے بھي" اہدنا الصّراط المستقيم" کي دعا کرتے ہيں کيونکہ کمال کي راہ ميں بہت سے حقائق سے گزرنے کے بعد بھي انہيں بہت سے حقائق ديکھنے ہوتے ہيں جيسا کہ حضرت موسي (ع) نے دعا کي تھي: " ربّ ارني انظر اليک " پروردگار! مجھے اپني ( معرفت کا ) جلوہ دکھادے چنانچہ اس راہ ميں ثبات قدم اور کمال و ارتقاء کے لئے نبيوں ، رسولوں ، اماموں اور وليوں کو بھي دعا کرتے رہنا چاہئے - راہ ہدايت ميں صراط مستقيم پر چلتے رہنے کے لئے بصارت کے ساتھ بصيرت بھي ضروري ہے - دانش دل کے ساتھ بينش دل بھي چاہئے تا کہ راہ حق کو جانتا ہوا اور ديکھتا بھي ہو اور راہ عمل ميں غلط قدم نہ اٹھائے البتہ اس کے لئے آنکھ سے ديکھنا کافي نہيں ہے ، دل سے ديکھنا ضروري ہے اسي طرف سورۂ تغابن کي گيارہويں آيت ميں اشارہ ہے " و من يّومن باللہ يہد قلبہ " يعني جو اللہ پر ايمان لاتا ہے اللہ اس کے دل کي ہدايت کرديتا ہے - البتہ اللہ کي ہدايت رسول اکرم(ص) اور ائمہ ہدي کي ہدايت کے ساتھ کسي طرح کا تعارض اور منافات نہيں رکھتي - جيسا کہ سورۂ بقرہ کي آيت دوسو تيرہ ميں ايک طرف خدا فرماتا ہے : "و اللہ يہدي من يّشاء الي صراط مّستقيم" يعني اللہ جس کو چاہتا ہے صراط مستقيم کي ہدايت کرديتا ہے اور دوسري طرف رسول اکرم (ص) سے فرماتا ہے" انّک لتہدي الي صراط مّستقيم " کہ بيشک آپ لوگوں کو صراط مستقيم کي ہدايت دے رہے ہيں ( شوري / 52) يا ارشاد ہوتا ہے :" وجعلنا ہم ائمّۃ يّہدون بامرنا" يعني ہم نے ہي ان سب کو امام بنايا ہے جو ہمارے ہي حکم سے ہدايت کرتے رہے ہيں " گويا صراط مستقيم کي طرف ہدايت خدا اور اس کے ضمن ميں رسول (ص)  اور ائمہ (ع)  کرتے ہيں اور يہ ويسے ہي ہے کہ جيسے " استعانت" کے مرحلے ميں خدا کي امداد کے تحت رسول (ص) اور ائمہ عليہم السلام سے استمداد جائز ہے خدا کے علاوہ سب مہتدي يعني ہدايت کے محتاج ہيں خدا سے ہدايت لے کر دوسروں کي ہدايت کرنا خدا کي ہدايت کے خلاف نہيں ہے اسي طرح خدا کے علاوہ سب محتاج ہيں خدا کي مدد کے ذريعے دوسروں کي مدد کرنا نہ شرک ہے نہ خدا سے بے نيازي کي دليل ہے - خدا سے ہم ہدايت چاہتے ہيں اور خدا اپنے نبيوں اور وليوں کے ذريعے اور قرآن و احاديث کے وسيلے سے انساني معاشرے کي صراط مستقيم کي طرف ہدايت و رہنمائي کرديتا ہے -بہرحال، راہ مستقيم اعتدال اور ميانہ روي کي راہ ہے جو تمام امور ميں ضروري ہے افراط و تفريط خدا کو پسند نہيں ہے بعض لوگ اصول دين ميں اور بعض لوگ فروع دين اور اسي طرح اخلاقيات ميں انحراف کا شکار ہوجاتے ہيں يا تو تمام امور کي خدا سے اس طرح نسبت ديتے ہيں کہ گويا انسان اپنے مقدرات اور مستقبل کے تعين ميں کوئي دخل ہي نہيں رکھتا يا پھر تمام امور ميں اس طرح صاحب اختيار بن جاتے ہيں کہ گويا عالم ہستي کے امور ميں خدا کے ہاتھ بندھے ہوئے ہيں ( معاذاللہ ) وہ کچھ نہيں کرسکتا -اسي طرح بعض لوگ الہي رہنماğ کو بالکل عام لوگوں کي سطح پر بلکہ اس سے بھي گيا گزرا شاعر اور مجنوں سمجھ بيٹھتے ہيں اور بعض حد سے گزر کر حضرت عيسي (ع) کي مانند نبي و رسول (ص) کو خدا اور خدا کا بيٹا بنا ديتے ہيں، يہ انحراف صراط مستقيم يعني راہ اعتدال سے دور ہوجانے کا نتيجہ ہے چنانچہ راہ اعتدال سے آشنائي کےلئے ہي خدا نے رسول اکرم (ص) اور ان کے اہلبيت (ع) کو اسوہ اور نمونہ قرار ديا ہے کہ ہم ان کي راہ پر چليں تا کہ صراط مستقيم پر چلتے رہيں - قرآن کريم نے بھي زندگي کے مختلف امور ميں راہ اعتدال کي دعوت دي ہے، معاشرتي اور اقتصادي امور ميں اعتدال کي تاکيد کرتے ہوئے سورۂ اعراف کي آيت 31 ميں حکم ہے : " کلوا و اشربوا و لاتسرفوا" کھاؤ پيو ليکن اسراف اور فضول خرچي نہ کرو- حتي نماز پڑھنے ميں بھي اعتدال کي روش ضروري ہے سورۂ اسراء کي آيت ايک سو دس ميں ارشاد ہوتا ہے : " لاتجہر بصلاتک و لاتخافت بہا و ابتغ بين ذلک سبيلا" نماز نہ بہت زور سے پڑھو نہ بہت آہستہ بلکہ درمياني راہ کا انتخاب کرو- اسي طرح انفاق و خيرات کے سلسلے ميں سورۂ فرقان کي آيت سڑسٹھ ميں خدا فرماتا ہے : مومنين انفاق کرتے وقت نہ اسراف کرتے ہيں نہ بخل سے کام ليتے بلکہ ميانہ روي اپناتے ہيں-والدين کے لئے قرآن کا حکم ہے " و بالوالدين احسانا" ماں باپ کے ساتھ نيکي کرو، ليکن اگر وہ باطل کي دعوت ديں " فلا تطعہما" تو ان کي اطاعت نہ کرنا- راہ سعادت راہ اعتدال يعني راہ مستقيم ہے اور انسان کي بنائي ہوئي راہوں کي طرح راہ مستقيم پر چلنے والوں کو ہر روز اپني راہ بدلني نہيں پڑتي - راہ مستقيم دو نقطوں کو ايک دوسرے سے ملانے والي مختصر ترين وہ تنہا راہ  ہے جس ميں کسي بھي طرح کا انحراف اور گھماؤ پھراؤ نہيں پايا جاتا اور اس سے بھي اہم بات يہ ہے کہ اس راہ کے انتخاب ميں بھي اور اس راہ پر باقي رہنے کے لئے بھي خدا کي مدد ضروري ہے اور چونکہ صراط مستقيم کي شناخت مشکل کام ہے سورۂ حمد کي آخري آيت ميں اس راہ کے عملي پيکر اور نمونے قرآن نے پيش کردئے ہيں وہ بھي کہ جن کي راہ ، راہ مستقيم ہے اور وہ بھي جو راہ مستقيم سے منحرف اور بھٹکے ہوئے ہيں سورۂ حمد کي آخري آيت ميں ارشاد ہوتا ہے :" صراط الّذين انعمت عليہم غير المغضوب عليہم و لا الضّالين" ( يعني خدايا) ہميں ان لوگوں کي ( سيدھي راہ پر لگائے رکھنا) کہ جن پر تيري نعمتيں نازل ہوئي ہيں ان کي راہ نہيں کہ جن پر تيرا غضب رہا ہے اور نہ ہي ان لوگوں کي راہ جو گمراہ ہيں -عزيزان محترم ! آيت کے مطابق زندگي کي راہوں کے انتخاب ميں تين طرح کے لوگ ملتے ہيں ايک وہ ہيں جو اپني انفرادي اور معاشرتي زندگي کتاب خدا کے بيان کردہ قوانين و دستور کے مطابق گزارتے ہيں اور الہي انعام سے بہرہ مند ہيں ، دوسرا گروہ، ان لوگوں کے برخلاف، راہ حق و حقيقت سے آشنا ہے مگر منحرف ہوکر الہي احکام و قوانين کي خلاف ورزي کرتا اور اللہ کے غضب کا مرکز بن جاتا ہے يہ لوگ اپني نفسياتي خواہشات اور شيطاني ہوي و ہوس کا شکار ہوکر عزيز و اقارب دوست احباب اور قوم و معاشرے کي خوشي کو خدا کي رضا و خوشنودي پر ترجيح ديتے اور ان کے اعمال و رفتار آہستہ آہستہ راہ خدا سے منحرف ہوجاتے ہيں ان دونوں کے علاوہ ايک تيسرا گروہ بھي ہے جو کوئي معين و مشخص راہ نہيں رکھتا حيران و سرگرداں کبھي ادھر اور کبھي ادھر کي راہ پر چلنے لگتا ہے ہرروز ان کي راہ بدلتي رہتي ہے اور کبھي منزل پر نہيں پہنچتے يہ لوگ " ضالين" يعني گمراہ ہيں چنانچہ الہي تعليم کے مطابق بندے خدا سے دعا کرتے ہيں خدايا! ہم کو صراط مستقيم پر چلاتا رہ جو تيري نعمتوں سے بہرہ مند نبيوں، اماموں اور متقي و پرہيزگاروں کي راہ ہے، تيرے غضب ميں مبتلا نافرمانوں اور گم کردہ راہ " ضالين" کي راہ سے ہم کو محفوظ رکھ-جہاں تک نمونوں کا سوال ہے قرآن نے جگہ جگہ ان تينوں قسم کے نمونے بيان کئے ہين جن کو ديکھ کر ايک انسان راہ مستقيم کي صحيح شناخت پيدا کرسکتا ہے-بني اسرائيل، فرعوني تسلط ميں تھے حضرت موسي (ع) نے ان کو طاغوت کے تسلط سے نجات عطا کي اس کے بعد انہوں نے جب تک خدا اور اس کے رسول (ص) کي اطاعت کي خدا کے لطف سے بہرہ مند رہے اور اپنے زمانہ کے تمام لوگوں پر اللہ نے انہيں برتري ديدي " انّي فضّلتکم علي العالمين" ( بقرہ/ 47) ليکن کردار و رفتار ميں تبديلي آئي "تو الہي غضب کے شکار ہوئے" "و باوابغضب من اللہ " کيونکہ علماء نے اللہ کي کتاب ميں تحريف کي ، دولتمندوں نے سودخوري سے کام ليا اور عوام نے اپنے نبي کي نافرماني کرتے ہوئے کہا " جائيے، آپ اور آپ کا خدا دشمنوں سے جنگ کرے ہمارے اندر جنگ کا حوصلہ نہيں ہے-معلوم ہوا راہ مستقيم سب کے لئے کھلي ہوئي ہے، ہم خدا کے معين کردہ اصولوں اور قاعدوں کے تحت اس کي نعمتوں سے بہرہ مند بندوں کي راہ انتخاب کرسکتے اور صراط مستقيم پر چل کر نجات حاصل کرسکتے ہيں-معلوم ہوا خدا سے جو ملے وہ نعمت ہے اور نعمت کي قدر کرنا چاہئے -راہ مستقيم کے علاوہ تمام راہيں انحراف کي طرف لے جاتي ہيں اور انسان کو الہي قہر و غضب اور گمراہي ميں مبتلا کرديتي ہيں ، دعا کرنا چاہئے کہ ہم الہي غضب اور گمراہي سے ہميشہ محفوظ رہيں-

بشکريہ آئي آر آئي بي

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان