• صارفین کی تعداد :
  • 704
  • 12/8/2011
  • تاريخ :

ايک ايک قطرئے کا مجھے دينا پڑا حساب

خونِ  جگر وديعتِ  مژگانِ  يار تھا

 مرزا غالب دہلوی

ايک ايک قطرئے کا مجھے دينا پڑا حساب

خونِ  جگر وديعتِ  مژگانِ  يار تھا

حساب دينا پڑا يعني آنکھوں سے خون بہانا پڑا گويا خونِ  جگر اُس کي امانت تھا -

اب ميں ہوں اور ماتم يک شہر آرزو

توڑا جو تو نے آئينہ تمثال دار تھا

قاعدہ ہے کہ آئينہ ميں ايک ہي عکس دکھائي ديتا ہے ليکن جب اُسے توڑ ڈالو تو ہر ہر ٹکڑے ميں وہي پورا عکس معلوم ہونے لگتا ہے اور يہاں ہر ہر عکس کو ديکھ کر ايک ايک آرزو کا خون ہوتا ہے - غرض کہ جس آئينہ ميں معشوق کے عکس و تمثال کا جلوہ تھا اُس کے ٹوٹنے سے ايک شہر آرزو کا خون ہو گيا يہ کہا ہوا مضمون ہے  :

 نظر آتے کبھي کاہے کو اک جا خودنما اتنے

يہ حسن اتفاق آئينہ اُس کے روبرو ٹوٹا

ايک شہر آرزو ميں ويسي ہي ترکيب ہے جيسي ايک بياباں ماندگي و يک قدم وحشت ميں ہے -

گليوں ميں ميري نعش کو کھينچے پھرو کہ ميں

جاں دادۂ ہوائے سر رہ گذار تھا

ہوا کے معني آرزو اور رہ گذار سے معشوق مراد ہے -

موج سراب دشت وفا کا نہ پوچھ حال

ہر ذرّہ مثل جوہر تيغ آبدار تھا

يعني جس طرح تلوار ميں جوہر آبدار ہوتے ہيں اسي طرح موج سراب کے ذرّہ تھے حاصل يہ کہ سرزمين عشق پر تلوار برستي ہے -

کم جانتے تھے ہم بھي غم عشق کو پر اب

ديکھا تو کم ہوئے پہ غم روزگار تھا

يعني کم ہوئے پر بھي بہت زيادہ نکلا -

پيشکش: شعبہ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

بيسويں صدي کي آخر دو دہائيوں ميں اُردو ناول کے موضوعات و رجحانات (پانچواں حصّہ)