• صارفین کی تعداد :
  • 7867
  • 11/28/2011
  • تاريخ :

فتح خيبر

امام علی (ع)

جب اللہ تعاليٰ نے اپنے نبي کو عزت بخشي اور قريش ذليل و رسوا ھوئے تو نبي (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) نے يہ مشاھدہ فرمايا کہ مسلمانوں کے امور اس وقت تک درست نھيں ھوں گے اور نہ ھي حکومت برقرارھوگي جب تک يھوديوں کا نظام مو جود ھے جو ھميشہ سے اسلام کے سخت دشمن تھے اور ان (يھوديوں) کي پوري طاقت وقوت خيبر کے قلعہ ميں محصور تھي جو اس زمانہ کے رائج اسلحوں کا کارخانہ تھا، منجملہ وھاں ايسے ايسے ٹينک نما توپ خانے تھے جو گرم پاني اور آگ ميں تپا ھوا سيسہ پھينکتے تھے اور يھود ي اسلام دشمن طاقتوں کو ھر طرح کي مسلح فوجي مدد پھنچاتے تھے -

نبي نے قلعہ خيبر پر حملہ کر نے کےلئے لشکر بھيجا اور لشکر کا سردار ابو بکر کو بنايا، جب وہ قلعہ خيبر کے پاس پھنچے تو وہ شکست کھا کر اور مرعوب ھو کر واپس پلٹ آئے ، دوسرے دن عمر کو لشکر کا سردار بنا کر بھيجا وہ بھي پھلے سردار کي طرح واپس آگئے اور کچھ نہ کر سکے اور قلعہ کا دروازہ يوں ھي بند رھا اور کوئي بھي اس تک نہ پھنچ سکا -

جب لشکر قلعہ کا دروازہ نہ کھول سکا اور دونوں سردار وں کي سردار ي کچھ کام نہ آسکي تو نبي نے اعلان فرمايا کہ اب ميں اس کو سردار بناۆ ں  گا جس کے ھاتھ پر اللہ فتح عنايت فر مائے گا چناچہ آپ (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) نے ارشاد فرمايا: ”‌ميں کل علم اس کو دوں گا جس کو اللہ اور اس کا رسول دوست رکھتے ھوں گے اور وہ اللہ اور رسول کو دوست رکھتا ھوگا اور وہ اس وقت تک واپس نھيں آئے گا جب تک اللہ اس کے ھاتھ پر فتح نہ ديدے ---“-

 لشکر انتھائي بے چيني کے عالم ميںايسے سردار کوعلم دئے جانے سے آگاہ ھوا جس کے ھاتھ پر اللہ فتح عنايت کرے،  اس کے گمان ميں بھي نھيں تھا کہ اس عھدہ پرامام (ع) فائز ھوں گے،  اس لئے کہ آپ آشوب چشم ميں مبتلا تھے، جب صبح نمودار ھوئي تو نبي (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) نے علي (ع) کو بلايا جب آپ نبي اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) کي خدمت ميں حاضر ھوئے تو آپ کي آنکھوںميں آشوب تھا آنحضرت (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) نے اپنا لعاب دھن لگايا تو آنکھيں بالکل ٹھيک ھوگئيں اور آپ (ع) نے علي (ع) سے فرمايا:”‌خذْ ھٰذِہِ الرّايَةَ حَتَيّٰ يَفْتَحَ اللّٰہ عَلَيْکَ ---“-”‌يہ علم ليجئے يھاں تک کہ خدا آپ کو فتح عنايت کرے گا---“-

شاعر مو ھوب يزدي نے اس واقعہ کو يوں نظم کيا ھے :

وَلَہ يَوْمَ خَيْبَرفَتکات

کَبرَتْ مَنْظَراً عليٰ مَنْ رَآھا

يَوْمَ قَالَ النَّبِيْ اِنِّيْ لَاعْطِي

رَاَيْتِيْ لَيْثَھَاوَحَامِي حِمَاھَا

فَاسْتَطَالَتْ اَعْنَاق کلِّ فَرِيْق

لِيَرَوْا اَيَّ مَاجِديعْطَاھَا

فَدَعَا اَيْنَ وَارِث الْعِلْمِ وَالْحِدْمِ

مجِيْر الايَّامِ مِنْ بَاسَاھَا؟

اَيْنَ ذوْالنَّجْدَةِ الَّذِيْ لَوْ دَعَتْہ

فِيْ الثّرَيَّامَرَوْعَةً لَبَّاھَا

فَاتَاہ الوَصِيّ اَرْمَدَ عَيْن

فَسَقَاہ مِنْ رِيْقِہِ فَشَفَاھَا

وَمَضيٰ يَطْلب الصّفوْفَ فَوَلَّتْ

عَنْہ عِلْماً بِاَنَّہ اَمْضَاھَا

”‌خيبر ميں آپ (ع) نے ايسے حملے کئے جو ششدر کرنے والے تھے -

جس دن نبي(صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) نے فرمايا کہ ميں پرچم بھادر اور محافظ شخص کو دوں گا -

اسي لئے ھر فريق يہ ديکھنے کا منتظر تھا کہ پرچم کس کو ملے گا -

ان ھي لمحات ميں نبي (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) نے آواز دي کہ علم و حلم کا وارث اور ايام کي قسمت پھيرنے والا کھاں ھے ؟

وہ مدد گار کھاں ھے جس کو اگر کو ئي ثريا ميں مدد کے لئے پکارے تو وہ لبيک کہہ دے گا -

اس وقت علي (ع) آپ (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) کے پاس اس عالم ميں آئے کہ آشوب چشم ميں مبتلا تھے آپ (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) نے اپنے لعاب دھن کے ذريعہ ان کو شفا بخشي-

اس وقت علي (ع) نے کفار کي صفوں پر حملہ کيا يہ ديکھ کر کفار پيٹھ پھرا کر بھاگ گئے چونکہ وہ جانتے تھے کہ علي (ع) انھيں زندہ نھيں چھوڑيں گے “-

اسلام کے بھادر نے بڑي طاقت عزم و ھمت و ثبات قد مي کے ساتھ علم ليااور رسول (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) اللہ سے  عرض کيا : ”‌اقَاتِلھمْ حَتّيٰ يَکوْنوامِثْلَنَا؟“کيا ميں ان سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک وہ ھماري طرح مسلمان نہ ھو جا ئيں “رسول (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) اللہ نے فرمايا: ”‌انفذْ عَليٰ رَسْلِکَ حتّيٰ تَنْزِلَ بِسَاحَتِھِمْ ،  ثمَّ ادْعھمْ اِليٰ الاِسْلَامِ ، وَاَخْبِرْھمْ بِمَايَجِب اِلَيْھِمْ مِنْ حَقِّ اللّٰہِ ، فَوَاللّٰہِ لَاَنْ يَھْدِيَ اللّٰہ بِکَ رَجلاًوَاحِداًخَيْرٌلَّکَ مِنْ اَنْ يَّکوْنَ لَکَ حمْر النِّعَمِ“-

”‌اپنا پيغام لے کر جا ۆيھاں تک کہ ان کے علاقہ ميں پھنچ جا ۆ، ان کو اسلام کي دعوت دو اوران کو خدا کے اس حق سے آگاہ کرو جو ان کے ذمہ واجب ھے ، کيونکہ خدا کي قسم اگر تمھارے ذريعہ خدا ايک انسان کي ھدايت کر دے وہ تمھارے لئے سرخ چو پايوں سے بہتر ھے “-

 آج لشکر کا سردار بڑے ھي اطمينان کے ساتھ بغير کسي رعب و خوف کے تيزي سے چلا،  جبکہ اس کے ھاتھوں ميں فتح کا پرچم لھرا رھا تھا اس نے باب خيبر فتح کيا اور اس کو اپني ڈھال بناليا جس کے ذريعہ اس نے يھوديوں سے اپنا بچاۆ کيا- خوف کي وجہ سے يھوديوں کے کليجے منھ کو آگئے وہ بہت زيادہ سھم گئے،  کہ يہ کون بھادر ھے جس نے قلعہ کے اس دروازہ کوکھول کر اپني ڈھال بناليا ھے جسے چاليس آدمي کھولتے تھے يہ بڑے تعجب کي بات ھے -

بشکريہ: بلاغہ ڈاٹ نيٹ

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

امام علي (ع) کا عمرو سے مقابلہ