• صارفین کی تعداد :
  • 2363
  • 11/28/2011
  • تاريخ :

بچّون کا احترام

سوالیہ نشان

بچہ بھى ايک انسان ہوتا ہے اور ہر انسان کو اپنے آپ سے محبت ہوتى ہے اس کى خواہش ہوتى ہے کہ دوسرے اس کى قدر جانين اور اس کا احترام کريں دوسرے جب اس کا احترام کرتے ہيں تو وہ اسے اپنى بڑائي سمجھتا ہے اور اسے ايک طرح کىقدردانى سمجھتا ہے جن ماں باپ کو اپنى اولاد سے محبت سے انہيں چاہيے کہ ہميشہ ان کا احترام ملحوظ رکھيں اور ان کے وجود کو اہميت ديں بچے کى تربيت ميں اس کا احترام اہم عوامل ميں سے شمار کيا جاتا ہے جس بچے کو عزت و احترام ميسّر ہو وہ بزرگوار، شريف اور باوقار بنتا ہے اور اپنے مقام کى حفاظت کے ليے برے کاموں سے بچتا ہے وہ کوشش کرتا ہے کہ اچھے اچھے کام کرکے دوسروں کى نظر ميں اپنے مقام کو اور بھى بڑھائے تا کہ اس کى زيادہ سے زيادہ عزت کىجائے جس بچے کا ماں باپ احترام کرتے ہوں وہ اپنے عمل ميں ان کى تقليد کرتا ہے

اور ماں باپ کا اور دوسرے لوگوں کا احترام کرتا ہے بچہ ايک چھوٹا سا انسان ہے اسے اپنى شخصيت سے پورى محبّت ہے توہين اور تحقير سے آزردہ خاطر ہوجاتا ہے ماں باپ جس بچے کى توہين و تحقير کرتے ہوں اس کے دل ميں ان کے بارے ميں کينہ پيداہوجاتا ہے اور جلد يا بدير و ہ سرکشاور نافرمان بن جاتا ہے اور ان سے انتقام ليتا ہے نادان ماں باپ کہ بدقسمتى سے جن کى تعداد کم نہيں سمجھتے ہيں کہ بچون کا احترام ان کى تربيت کے منافى ہے ماں باپ کے شايان شان نہيں ہے کہتے ہيں کہ اگر ہم نے بچے کا احترام کيا تو وہ بگڑجائے گا اور پھر ہمارا احترام نہيں کرے گا وہ بچوں سے بے اعتنائي اور ان کى بى احترامى کو ان کى تربيت کا ذريعہ شمار کرتے ہيں اس طرح وہ ان کى شخصيت کو کچل ديتے ہيں اور ان کے دل ميں احساس کمترى پيدا کرديتے ہيں جب کہ يہ روش تربيت کے حوالے سے بہت بڑا اشتباہ ہے اگر ماں باپ بچے کا احترام کريں تو اس سے نہ صرف يہ کہ ان کا مقام بچے کى نظر ميں کم نہ ہوگا بلکہ اس طرح سے اس کے اندر بھى بزرگوارى اور وقار کى روح پر وان چڑھے گى بچہ اسى بچپن سے سمجھنے لگتا ہے کہ ماں با پ اسے ايک انسان سمجھتے ہيں اور اس کى اہميت کے قائل ہيں اس طرح سے جو کام معاشرے ميں اچھے نہيں سمجھتے جاتے وہ ان سے بچتا ہے وہ اچھے کام کرتا ہے تا کہ اپنےمقام کو محفوظ رکھے يہ بات باعث افسوسہے کہ ہمارے معاشرے ميں بچوں کا جس طرح سے احترام ہوناچاہيے نہيں کيا جاتا اور انہيں خاندان کا ايک باقاعدہ جزوشمار نہيں کيا جاتا يہاں تک کہ دعوتوں ميں بچے ماںباپ کے طفلى ہوتے ہيں انہيں باقاعدہ دعوت نہيں دى جاتى اور انہيں کسى نچلى جگہ پر يا کمرے کے دروازے کے ساتھ جگہ ملتى ہے اور ان کے ليے باقاعدہ پليٹ، چمچہ و غيرہ پيش نہيں کيا جاتا آتے وقت اور جاتے وقت کوئي ان کا احترام نہيں کرتا گاڑى ميں ان کے ليے مخصوص نشست نہيں ہوتى يا تووہ کھڑے ہوں يا ماں باپ کى گود ميں بيٹھے ہوں محفل ميں انہيں بات کرنے کاحق نہيں ہوتا اگر وہ بات کريں بھى تو کوئي ان کى سنتا نہيں بے احترامى سے بلايا جاتا ہے ، ميل ملاقات اور بات چيت ميں ان سے مؤدبانہ سلوک نہيں کيا جاتا ان کے ليے سلام خوش آمديد ، خداحافظ اور شکريہ نہيں ہوتا ان کى خواہشکى طرف کوئي توجہ نہيں کرتا گھريلو امو رميں ان سے مشورہ نہيں ليا جاتا گھٹيا اور توہين آميز کام کرنے کے ليے ان سے کہا جاتا ہے دين مقدس اسلام نے بچوں کى طرف پورى توجہ دى ہے اس نے بچوں کا احترام کرنے کا حکم ديا ہے رسول اسلام صلى الله عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا: اپنى اولاد کى عزّت کرو اور ان کى اچھى تربيت کرو تا کہ الله تمہيں بخش دے

بشکريہ : مکارم شيرازي ڈاٹ او آر جي

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان