• صارفین کی تعداد :
  • 2641
  • 11/26/2011
  • تاريخ :

شھادت حضرت حبيب

 

محرم

حصين نے جب يہ جملہ سنا تو حبيب پر حملہ کر ديا - حبيب نے شمشير کو اس کے گھوڑے کے سر پر مارا جس سے گھوڑا ڈر گيا اور يوں گھوڑے نے حصين کو زمين پر گرا ديا - حصين کے سپاہيوں نے مداخلت کرکے حصين کي جان چھڑائي - جبيب نے بڑي قوّت سے لڑائي کا آغاز کيا - سپاہيوں ميں سے ايک جس کا تعلق بني تميم سے اور نام يديل بن صريم تھا  ، حبيب کے ہاتھوں مارا گيا -

اس  مقتل ميں حبيب کے ہاتھوں مارے جانے والے افراد کي تعداد 35 تن ذکر ہوئي ہے -

يہاں ايک دوسرا نکتہ بھي قابل ذکر ہے کہ حبيب نے ميدان ميں جانے اور حصين سے مقابلہ کرنے کے ليۓ ابا عبداللہ عليہ السلام کے ساتھ خدا حافظي کي اور کہا !

" ميرے مولا ! ميرا دل کرتا ہے کہ نماز کو بہشت ميں مکمل کروں - ميں آپ کا سلام آپ کے اجداد ، آپ کے والد ، بھائي کو پہنچا دوں گا " -

آخر کار حبيب نيزہ لگنے کے باعث زمين پر گر پڑے - انہوں نے اٹھنے کي کوشش کي مگر اسي دوران حصين بن تميم نے تلوار سے ان کے سر پر وار کيا - حبيب زمين پر گرا - تميمي اپنے گھوڑے سے نيچے آيا اور حبيب کے سر کو تن سے جدا کر ديا -

حصين نے کہا : " ميں حبيب کے قتل ميں تمہارے ساتھ شريک تھا -

عمر سعد نے ان دونوں کے درميان پيدا ہونے والے اختلاف کو حل کيا اور حبيب کے سر کو حصين کے گھوڑے کي گردن پر لٹکا ديا تاکہ ميدان ميں گما کر سب کو گواہ بنايا جاۓ اور ابن زياد سے اس کارنامے کا انعام دريافت کرے -

امام عليہ السلام نے حبيب کے  تن کے قريب اس کے سوگ ميں  فرمايا !

" عنداللہ احتسب نفسي و حماء اصحابي ، للہ درک يا حبيب  لقد کنت فاضلا تختم القرآن في ليلھ واحدہ "

يعني خدا کے نزديک تمارا خون ميرے اوپر ہے - تم  ميرے برگزيدہ صحابي تھے - خدا نے تجھے اپنے پاس بلا ليا اے حبيب ! تم دانشمند تھے جو قرآن کو ايک رات ميں ختم کيا کرتے تھے "

حبيب کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں کي تعداد 35 اور 62 تن لکھي گئي ہے -

امام عليہ السلام نے زھير بن القين اور سعيد بن عبداللہ حنفي کو حکم ديا کہ سب سے پہلے نماز کے ليۓ  کھڑے ہونے کا اہتمام کرو -

دشمنوں نے امام  عليہ السلام اور ان کے ساتھيوں کو ہدف بنايا - زھير اور سعيد خود کو نيزوں اور تيروں کے سامنے کر ديتے - سعيد کے بدن پر نيزوں اور تلواروں کے زخموں کے علاوہ 13 تير بدن ميں پيوست تھے - سعيد  آخر کار ان زخموں کے باعث زمين پر گر گيا اور اسي لمحے کہنے لگا :

" خدايا اس گروہ پر لعنت کر ، وہي لعنت  جو  تم نے عاد اور ثمود پر کي - اے خدا ميرا سلام اپنے پاک پيغمبر تک پہنچا دے اور آنحضرت کو ميرے اوپر آنے والے زخموں کے درد  سے آگاہ کرنا جو کہ تيرے پيغمبر کے خاندان کي ياري ميں تجھ سے  انعام طلب کرنے کے سواء اس کا کوئي دوسرا ھدف نہيں تھا -

اسي وقت امام عليہ السلام کي طرف صورت کرکے بولا :

" اے پيغمبر کے فرزند ! کيا ميں نے اپني ذمہ داري نبھائي ؟

امام نے فرمايا ! ہاں ، تم پہلے ہي بہشتي ہو "

نماز کے بعد سعيد بن عبداللہ کے علاوہ عمرو بن  قرظھ جو کہ امام کي نماز کا دفاع کر رہے تھے  لڑتے ہوۓ شہيد ہو گۓ -

تاريخ کي بعض کتب ميں يہ بھي آيا ہے کہ سعيد نے نماز کے بعد بھي  لڑائي ميں حصّہ ليا اور شہادت کا مرتبہ حاصل کيا -

ان پاکباز ساتھيوں کي شہادت کے بعد بچ جانے والے چند دوسرے ساتھيوں نے خود کو دشمن کے ساتھ لڑائي کے ليۓ تيار کيا -

امام عليہ السلام نے ان سے خطاب کيا اور فرمايا !

" اے ميرے ساتھيوں !  اگرچہ جنت کے دروازے بہت کھلے ہيں اور جنت کي نہريں بہہ رہي ہيں اور وہاں کے پھل چنے ہوۓ ،جنت کے محل آراستہ اور خوبصورت ، غلام اور حوريں تيار ، رسول خدا اور وہ شہداء جو ان کے رکاب اور راستے ميں شہيد ہوۓ اور نيز ميرے والد اور ماں تمارے پہنچنے کے منتظر ہيں اور تمہيں ديکھنے کے مشتاق ، يہي وقت ہے کہ خدا کے دين کي حفاظت کرو اور حرمت رسول خدا کے محافظ بنو "  

امام عليہ السلام کے خطاب کو سن کر اھل حرم باہر تشريف لے آئيں اور يوں مخاطب ہوئيں !

" اے مسلمانوں ! اے سچائي کے ليۓ کھڑے ہونے والے صبور لوگو ! دين خدا کي حمايت کرو اور دشمنوں کو حرم رسول خدا سے پيچھے دھکيل دو "

امام عليہ السلام کے ساتھي يہ الفاظ سن کر رو پڑے اور انہوں نے  پوري قوّت سے فرياد لگائي !

" اے خاندان پيغمبر ! ہماري جانيں تمہاري جانوں پر فدا ہوں ہمارا خون تمہارے خون پر قربان ہو اور ہماري روح آپ کے ليۓ ھديہ ہيں - خدا کي قسم جب تک زندہ ہيں دشمن کي کيا مجال کہ آپ کے قريب آۓ - ہم نے اپني جانوں کو قرباني کے ليۓ بچا کر رکھا ہے تاکہ تيغ و سنان کو تقديم کرکے ان گرگوں کا لقمہ بنيں - ہم لڑيں  گے اور موت کے گھونٹ پي  ليں گے اور ہم کوشش کريں گے تاکہ کاميابي اور فلاح کا لباس پہن سکيں - "

نماز کے بعد شہداء کي تعداد دو تن اور بچ جانے والے رزمندگان جو لڑے اور شہادت کے رتبے تک پہنچے،  9 تن ہے -

نماز کے بعد شہيد ہونے والے 9 افراد ميں  سے نصف وہ ہيں جو کربلا ميں امام عليہ السلام سے مل گۓ - ان شہداء ميں سب سے جوان شہيد ضرغامہ بن مالک اور سب سے بوڑھے ابوتمامھ اور زھير بن قين تھے جن کي عمر تقريبا 60 سال تھي - نماز کے بعد سب سے برگزيدہ شہيد  زھير بن القين ہے جو اباعبداللہ عليہ السلام کي فوج کے دائيں جناح کے کمانڈر تھے -

شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

عاشورا ! نبرد جاوداں