• صارفین کی تعداد :
  • 2360
  • 11/23/2011
  • تاريخ :

کھيل کود (تيسرا حصّہ)

کھیل کود

ابتداء ميں بچہ انفرادى کھيل کھيلتا ہے اس مرحلے ميں بچے کو آزاد چھوڑدينا چاہيے تا کہ وہ کھلونے سے کھيلتا رہے ليکن مربّى کى ذمہ دارى ہے کہ اس کے کھيل پر نظر رکھے اس کے ليے کھلونوں کا انتخاب کرے اس کى دماغى قوت کو کام ميں لائے اور اس کى سوجھ بوجھ ميں اضافہ کرے دوسرى طرف ، مربى يہ بھى ديکھے کہ بچے کا کھيل فنّى اور پيدا دارى پہلو بھى رکھتا ہوتا کہ اسے مفيد اجتماعى کاموں کا عادى بنايا جا سکے ، کبھى بچہ يہ چاہ رہا ہوتا ہے کہ اپنا کوئي کھلونا توڑبگاڑدے اور پھر اسے دوبارہ ٹھيک کرے اسے اس کام ميں آزادى دينا چاہيے کيوں کہ وہ تجربہ کرنا چاہتا ہے اور اس کے فنّى پہلو کو سيکھنا چاہتا ہے ليکن اگر اسے کوئي مشکل دور پيشآجائے تو مربّى کو چاہيے کہ اس کى راہنمائي کرے کچھ عرصے بعد بچہ کسى حد تک اجتماعى مزاج کا حامل ہوجاتا ہے اس موقع پر اسے اجتماعى اور گروہى کھيل پسند ہوتے ہيں جب مربّى ديکھے کہ بچہ معاشرے کى طرف متوجہ ہے اور اجتماعى کھيل کھيلنے کا آرزو مند ہے تو اسے چاہيے کہ وہ اس کى حوصلہ افزائي کرے تا کہ بچے کا يہ اجتماعى جذبہ دن بدن ترقى کرتا جائے اس مرحلے پر بھى مربى کے ليے ضرورى ہے کہ وہ بچے کےکھيل پر نظر رکھے اور اسے مفيد اجتماعى کھيلوں کى طرف راہنمائي کرے زيادہ مروّج کھليں فٹ بال ، والى بال اور باسکٹ با ل ہيں  اکثر بچے اسکول ميں اور اسکول سے باہر اپنے فارغ اوقات انہى کھيلوں ميں گزارتے ہيں يہ کھيليں اگر بچہ پٹھوں کى ورزشاور مضبوطى کے ليے سودمند ہيں ليکن يہ امر باعث افسوس ہے کہ ان کھيلوں ميں ايک بہت بڑا نقص بھى ہے وہ يہ کہ حملہ آور ہونے کى کھيليں ہيں اور ايسى کھيليں بچے ميں جنگجوئي اور تشدد پسندى کا مزاج پيدا کرديتى ہيں ان کھيلوں ميں حصّہ لينے والے بچوں کى پورى توجہ اس جانب مبذول ہوتى ہے کہ اپنے ساتھيوں يعنى دوسرے انسانوں پر کس طرح برترى حاصل کى جائے اور انہيں کيسے مغلوب اور شکست خورد کيا جائے اور يہ انسان کے ليے ايک برى صفت ہے ان کھيلوں ميں اگر چہ تعاون بھى ہوتا ہے ليکن يہ تعاون بھى دوسرے انسانوں پر غلبہ حاصل کرنے کى نيت سے ہوتا ہے ان کھيلوں سے بھى بدتر کشتى اور باکسنگ ہے جو کہ ابتدائي انسان کے وحشى پن کى ايک کامل يادگار ہے کالشاس طرح کے کھيل بالکل رائج نہ ہوتے اور ان کى جگہ ايسے کھيل مرسوم ہوتے جن ميں اجتماعى تعاون کى روح کارفرما ہوتى اور بچوں ميں انسان دوستى کے جذبے کوتقويت ملتى اور وہ فائدہ مند پيداوارى سرگرميوں کى طرف متوجہ ہوتے رسل اسضمن ميں تحريرکرتے ہيں:

آج کى انسانيت پہلے کى نسبت بہت زيادہ فکرى پرورشاور باہمى تعاون کى محتاج ہے کہ جس کا سب سے بڑا دشمن مادہ پرستى ہے  انسان رقابت آميز اعمال اور مزاحمت و حسد کا محتاج نہيں ہے کيونکہ يہ تو وہ چيزيں ہيں کہ جو کبھى انسان  پر غالب آجاتى ہيں اور کبھى وہ ان پر غالب آجاتا ہے

بشکريہ : مکارم شيرازي ڈاٹ او آر جي

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان