• صارفین کی تعداد :
  • 1516
  • 11/21/2011
  • تاريخ :

الٰہي معاشرہ کے سات امتيازات

اخلاق اسلامی

سرور کائنات نے جو نظام قائم کيا تھا اس کے متعدد امتيازات تھے مگر ان ميں سے سات کو خاص اہميت حاصل ہے:

پہلا امتياز: ''ايمان اور روحانيت''

نبي کے قائم کردہ نظام ميں ايمان اس محرک کي حيثيت رکھتا ہے جس کا سرچشمہ لوگوں کے دل و ذہن ہيں- يہ ايمان انہيں صراط مستقيم پر قائم و دائم رکھتا ہے- لہٰذا نبوي نظام کا پہلا امتياز لوگوں ميں ايمان اور معنويت و روحانيت کي روح پھونکنا اور ان کے عقائد کو استحکام عطا کرنا ہے- پيغمبر رحمتغ– نے يہ تحريک مکہ سے شروع کي اور مدينہ ميں اس کے پرچم اقتدار کے  ساتہ بلند کيا-

دوسرا امتياز: ''عدل و انصاف''

اسلامي حکومت ميں قوانين کے نفاذ کا حقيقي معيار عدل و انصاف اور حقدار کے حق کو اس تک پہنچانا ہے-

تيسرا امتياز: ''علم و معرفت''

نبوي نظام ميں ہر چيز کي بنياد علم و معرفت اور آگہي و بيداري پر استوار ہے لہٰذا يہاں اندھي تقليد کي بالکل اجازت نہيں- يہاں سماج کي تربيت علم و آگہي کي بنياد پر کي جاتي ہے، قوت فيصلہ کو چھين کر نہيں-

چوتھا امتياز: ''اخوت و برادري''

اس نظام ميں خرافات، ذاتي مفادات اور نفساني خواہشات کي بنياد پر ہونے والے جھگڑوں کو پسند نہيں کيا جاتا، ان کا مقابلہ کيا جاتا ہے اس لئے کہ يہاں اخوت و برادري اور اتحاد و ہمدلي کي حکمراني ہے-

پانچواں امتياز: ''نيک اخلاق و کردار''

اسلامي سماج تمام اخلاقي گندگيوں سے انسان کي تطہير کرتا ہے، تمام آلودگيوں سے اسے نجات ديتا ہے اور ايک خوش کردار انسان کي تربيت کرتا ہے-( يزکيہم و يعلمہم الکتاب و الحکمۃ)  يہاں تزکيہ کو بنيادي حيثيت حاصل ہے- حضور (ص) اپنے بہترين شيوہ تربيت کے ذريعہ انسان کو انسان بناتے تھے-

چھٹا امتياز: ''عزت و اقتدار''

نبوينظام اور اسلامي معاشرہ غيروں کے در پر دست نياز نہيں پھيلاتا، اسے اپني عزت اور اپنے اقتدار سے بڑا پيار ہے- اپني مصلحتوں کي تعيين خود کرتا ہے، پھر اپنے اغراض و مقاصد کے حصول کے لئے شاہراہ نجات پر گامزن ہوجاتا ہے-

ساتواں امتياز: ''عزمِ راسخ، سعي پيہم، فتح مسلسل''

اس الٰہي نظام ميں جمود اور ٹھہرا‎‎ؤ کا کوئي تصور نہيں- يہاں تو مسلسل تحرک، ترقي اور سعي و کوشش کا رواج ہے- يہاں ايسا مرحلہ ہي نہيں آتا جس پر ٹھہر کر انسان کہے ''کام ختم ہوگيا اب تو بس آرام کيا جائے-''

اس سعي مستقل اور کوشش بے پاياں ميں ايک عجيب کيف و سرور پايا جاتا ہے، تھکن، سستي اور ملال کے دور دور تک نشاک نہيں ملتے، بس ''سرور و نشاط'' ہے اور ''شوق و اشتياق''-

ولي امر مسلمين حضرت آيت اللہ سيد علي خامنہ اي کے خطاب سے اقتباس

(خطبات نماز جمعہ، تہران، 1380-2-28)

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان