• صارفین کی تعداد :
  • 789
  • 11/19/2011
  • تاريخ :

يوم شہيد کے موقع پرسيدحسن نصراللہ: ہرجارحيت کا جواب دينے کے لئے تيار ہيں

سیدحسن نصراللہ

حزب اللہ کےسيکريٹري جنرل سيد حسن نصر اللہ نے يوم شہيد کي تقريبات سے خطاب کرتے ہوئے لبنان کي اسلامي مزاحمت کو خراج تحسين و عقيدت پيش کيا/ ہر قسم کي جارحيت کا دندان شکن جواب ديں گے / صہيوني رياست جنگ شروع نہيں کرسکتي / ج لبناني حکومت شارٹ ميسجز کا انتظار نہيں کيا کرتي / حريري ٹربيونل ناقابل قبول ہے / رہبر کا جواب دندان شکن تھا/ حملہ ہوا تو مشرق وسطي ميدان جنگ ہوگا /امريکہ عراق ميں اپني شکست چھپانا چاہتا ہے/ امريکہ شکست کا بدلہ ايران اور شام سے لينے کے درپے/ تبديلياں مزاحمت کو تقويت پہنچارہي ہيں / شکست اور پسپائي کا زمانہ گذر چکا ہے-

اہل البيت (ع) نيوز ايجنسي ـ ابنا ـ کي رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے سيکريٹري جنرل سيد حسن نصر اللہ نے 11 نومبر بمناسبت يوم شہيد، اس روز کے حوالے سے منعقدہ تقريبات سے ويڈيو کانفرنس کے ذريعے خطاب کرتے ہوئے لبناني شہداء کي تکريم کے لئے سال ميں ايک خاص دن کے اعلان کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 11 نومبر وہ دن ہے جب شہيد احمد قصير نے صور شہر ميں صہيونيوں پر پہلا استشہادي حملہ کيا تھا اور اس حملے ميں دسيوں سينئر صہيوني فوجي افسروں سميت 140 صہيوني في النار ہوئے تھے اور يہ وہ دن ہے جس کو پورے لبنان ميں منانا ضروري ہے-

انھوں نے العالم ٹي وي چينل سے براہ راست نشر ہونے والے خطاب ميں مزاحمت تحريک ميں شامل جماعتوں کا شکريہ ادا کرتے ہوئے اميد ظاہر کي کہ لبنان کي تقويم ميں ايک روز شہداء کے لئے مختص کيا جائے تا کہ تمام لبناني عوام اپنے شہيدوں کو خراج تحسين پيش کريں-

انھوں نے روز شہيد کے حوالے سے کہا: اس روز ہم حزب اللہ کے شہيد کمانڈروں، مجاہدوں اور استشہادي کاروائياں کرکے شہيد ہونے والوں، شہادت پانے والے مردوں، خواتين، بچوں اور معمر افراد کو خراج عقيدت و تحسين پيش کرتے ہيں خاص طور پر ان شہادت طلب مجاہدين کو جن کے لئے نمونہ عمل شہيد احمد قصير تھے-

انھوں نے کہا: حزب اللہ کے شہداء ہر طبقے سے ہيں جو اس راہ پر ايمان لائے تھے اور اپني ملت کے لئے فکرمند تھے اور اسي راہ ميں جام شہادت نوش کرگئے ہيں-

انھوں نے کہا کہ يوم شہيد ہميں شہيد احمد قصير کي استشہادي کاروائي کي ياد دلاتا ہے جنھوں نےصور شہر ميں صہيونيوں کے ايک مرکز پر حملہ کيا اور خود بھي شہيد ہوگئے ليکن 140 صہيونيوں کو بھي في النار کرديا جن ميں صہيوني رياست کے اعترافات کے مطابق دسيوں سينئر افسر بھي شامل تھے اور يہ کاروائي مزاحمت کي تاريخ ميں بے مثل اور سب سے پہلي استشہادي کاروائي تھي جو بعد کي کاروائيوں کے لئے نمونہ عمل بن گئي- يہ کاروائي کسي بھي کاروائي کے ساتھ قابل قياس نہيں ہے حتي کہ عرب اسرائيل جنگ کي تاريخ ميں بھي اس کي مثال نہيں ملتي- يہ کاروائي بارود سے بھري ايک گاڑي کے ذريعے کي گئي اور ايک لمحے ميں مکمل ہونے والي اس کاروائي ميں جتنا نقصان صہيوني دشمن کو ملا اس کي کسي بھي کاروائي ميں مثال نہيں ہے-

انھوں نے شہيد احمد قصير کي يہ کاروائي "باني کاروائي" قرار دي اور کہا کہ شہيد احمد قصير کي کاروائي "شہادت طلب مجاہدين" کے دور کا غاز تھي-

انھو ں نے کہا: قابض و جارح دشمن کے خلاف جدوجہد کے غاز ميں پوري دنيا اسرائيل کے ساتھ تھي اور ہم سب ناراض اور تھے اور ہمارے حوصلے بلند نہ تھے ليکن مزاحمت تحريک کے مجاہدين دشمن کے حاميوں کي کثرت اور جارح صہيونيوں سے اميديں باندھنے والوں سے خوفزدہ نہيں ہوئے اور دشمن کے مقابلے ميں ڈٹ گئے-

سيد حسن نصر اللہ نے کہا: جولائي 2006 کي جنگ ميں لبنان کي کاميابي کے لئے نہ کوئي ہتھيار اور فوجي حکمت عملي کا کوئي وجود تھا اور نہ ہي فوجي کمانڈ اور ديگر وسائل تھے ليکن مزاحمت تحريک دشمن سے نہ ڈرنے والے اور ميدان جنگ سے نہ بھاگنے والے مجاہدين کي برکت سے اس جنگ ميں کامياب ہوگئي- ہم صہيوني رياست کي تاسيس سے لے کر ج تک، پہلي بار مکمل امن و سکون ميں جي رہے ہيں-

لبنان کے خلاف ہر قسم کي جارحيت کا دندان شکن جواب ديں گے

لبنان ج مزاحمت تحريک، دانا و بہادر قوم اور فوج کے سائے ميں علاقائي معاملات ميں فيصلہ کن طاقت ميں تبديل ہوگيا ہے اور اس ملک کے خلاف کسي بھي قسم کي جارحيت کا فيصلہ کن جواب ديا جائے گا-

سيد حسن نصر اللہ نے اپنا خطاب جاري رکھتے ہوئے کہا: چند روز قبل امل تحريک کے ايک اجلاس ميں امام موسي صدر کا کلام پڑھ رہا تھا جس ميں انھوں نے لبنان اور اس ملک کے جنوبي علاقوں کي صورت حال کے بارے ميں غم و حزن کا اظہار کيا تھا اور کہا تھا کہ لبنان اور جنوب لبنان کمزور ہے کيونکہ دشمن جو چاہے انجام ديتا ہے اور بہت سوں کو معلوم تک نہيں ہے کہ جنوب لبنان ميں کيا ہورہا ہے- ميں نے امام موسي صدر کي باتيں پڑھ کر دل ہي دل ميں کہا: جب امام موسي صدر لبنان لوٹ کر ئيں گے اس ملک کے فرزندوں اور اپنے پروردہ مزاحمت کي فورسز پر فخر کريں گے اور ديکھيں گے کہ لبنان اب کمزور نہيں ہے اور علاقائي معاملات ميں ايک طاقت کي حيثيت سے کردار ادا کررہا ہے-

حزب اللہ کے سيکريٹري جنرل نے کہا: تمام پيشين گوئيوں کے برژس ہم اب بھي بعيد از قياس سمجھتے ہيں کہ اسرائيلي رياست لبنان پر جارحيت کا ارتکاب کرسکتي ہے؛ اس کا مفہوم يہ ہے کہ اگر علاقائي سطح پر جنگ کا کوئي منصوبہ نہ ہو تو بعيد از قياس کہ اسرائيل لبنان پر حملہ کرے-

انھوں نے صہيوني رياست کے مقابلے ميں لبناني قوم اور مزاحمت تحريک کي کاميابي کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اخلاقي حوالے سے لبنان کو کمزور ملک قرار دينا درست نہيں ہے کيونکہ لبنان اپني قوم، مزاحمت تحريک اور فوج کے ہوتے ہوئے ايک طاقتور ملک ہے جو اپنے دفاع کي پوري صلاحيت رکھتا ہے اور جارحوں کي جارحيت کا جواب دے سکتا ہے اور چيلنجوں کو مواقع ميں تبديل کرسکتا ہے-

صہيوني رياست جنگ شروع کرنے کي صلاحيت نہيں رکھتي

سيدحسن نصراللہ نے کہا: جب تک ايمان ہوگا، بصيرت ہوگي اور "قوم ـ فوج ـ مزاحمت تحريک" کا مثلث ہوگا اسرائيل ہر قسم کي جنگ بپا کرنے سے عاجز ہوگا اور اگر کسي روز اس نے جنگ بپا کردي تو اس کا نتيجہ اس رياست کي مہم جوئيوں کے ناکام نتائج سے بہتر نہ ہوگا-

انھوں نے کہا: اگرچہ ہم لبنان کے خلاف اسرائيلي حملے کو بعيد از قياس سمجھتے ہيں ليکن اس کا يہ مطلب نہيں ہے کہ ہم چين کي نيند سوجائيں کيونکہ سونے والے کامياب نہيں ہوتے اور سونے والي قوم شکست کھاتي ہے- ميں اس بات پر زور دينا چاہتا ہوں کہ مزاحمت تحريک 1982 سے ج تک کبھي بھي رام سے نکھيں بند کر چين کي نيند نہيں سوئي اور مسلسل تياري اور مادگي کے حصول کے لئے مصروف کار رہي کيونکہ اس کو معلوم ہے کہ ہمارے پڑوس ميں ايک وحشي دشمن بيٹھا ہے جو ہماري غفلت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اسي وجہ سے مزاحمت تحريک 15 اگست 2006 (کو اسرائيلي شکست) سے ج تک چين سے نہيں سوئي اور مسلسل تياري کررہي ہے-

انھوں نے کہا: صہيوني رياست بھي 2006 سے لے کر اب تک مسلسل جنگي مشقوں، ہتھياروں کي فراہمي اور تمرينات ميں مصروف رہي ہے تو ايسي صورت ميں ہم کيونکر تکئے پر سر رکھ کر سو سکتے ہيں جبکہ ہمارے سامنے ايسا دشمن ہے جو ہرگز نہيں سوتا-

انھوں نے مايوس ہونے والوں اور مايوس نہ ہونے والوں سے مخاطب ہوکر کہا: جب ہتھيار ہماري قوم اور مزاحمت تحريک سے الگ کروگے تو اس کا مفہوم يہ ہے کہ تم چاہتے ہو کہ ہم گھاٹا اٹھائيں اور زياں کار اور ذليل ہوجائيں اور ہم اپنے تمام تجربات سے فائدہ نہ اٹھائيں اور اپني قوم کي عزت و حيثيت اور عظمت کو اسرائيل کے سپرد کريں- چنانچہ ہم مزاحمت تحريک، فوج اور قومي عزم کے پابند ہيں اور ان عناصر کو لبنان کي طاقت کے لئے بہر قيمت چاہتے ہيں-

ج لبناني حکومت دوسروں کي جانب شارٹ ميسجز کا انتظار نہيں کيا کرتي

سيد حسن نصر اللہ نے کہا: ج لبنان کي حکومت تمام ايک متنوع حکومت ہے جس ميں تمام اقوام اور تمام گروپوں اور جماعتون کے نمائندے موجود ہيں- يہ حکومت بحث و گفتگو کرنے کي قائل ہے مباحثہ کرتي ہے اور خودسرانہ فيصلے نہيں کرتي- يہ حکومت مسائل کا جائزہ ليتي ہے اور پھر فيصلہ کرتي ہے يہ وہ حکومت نہيں ہے جس کو امريکہ کي کسي وزارت يا امريکي سفارتخانے کے احکامات کا انتظار ہو- ج امريکي حکمران يا اس ملک کے سفارتي اہلکار سيل فون سروس کے ذريعے ايک شارٹ ميسج بھيج کر اپني بات نہيں منواسکتے- يہ حکومت ج امريکي کے اشاروں اور کنايوں اور پيغامات پر کام نہيں کرتي بلکہ قومي مفاد کے لئے خودمختار اور مستقل ہوکر کام کرتي ہے-

انھوں نے کہا: ج لبنان کي پوري قوم اس حکومت سے زيادہ سے زيادہ کام کرنے کا تقاضا کررہي ہے، کہ وہ عدليہ ميں ہزاروں کيسز کا مسئلہ حل کرے، بھاگے ہوئے جاسوسوں کا مسئلہ حل کرے اور ادھر ادھر برپا ہونے والے شور و غوغا کي طرف توجہ نہ کرے اور ہماري بھي حکومت سے يہي خواہش ہے کيونکہ لوگوں کے مسائل اہم ترين ہيں-

حريري ٹربيونل ناقابل قبول ہے

سيدحسن نصر اللہ نے حريري ٹربيونل کي سماعتوں اور بہتان زدہ افراد پر غا‏ئبانہ مقدمات کے بارے ميں کہا: ميں ان مسائل کے بارے ميں اظہار خيال نہيں کرنا چاہتا کيونکہ ہم اس ٹربيونل کو تسليم نہيں کرتے اور اس کو غير قانوني سمجھتے ہيں-

انھوں نے ٹربيونل کے اخراجات کے بارے ميں کہا: بہتر يہي ہوگا کہ اس ٹربيونل کے اخراجات برداشت کرنے کے لئے کسي اور جانب ديکھيں اور نجيب ميقاتي کي حکومت سے اس سلسلے ميں کوئي توقع نہ رکھيں-

انھوں نے کہا: حال ہي ميں ايک بين الاقوامي ادارے "يونسکو" نے فلسطيني اتھارٹي کي رکنيت قبول کرلي تو امريکہ نے پيشگي اطلاع کے بغير ہي اس ادارے کي مالي مدد بند کرنے کا اعلان کرديا حالانکہ يونسکو ايک بين الاقوامي ادارہ ہے اور امريکہ نے ايک معاہدے کے تحت اس کي مالي ضروريات پوري کرنے کي ذمہ داري سنبھالي ہے تو اب امريکہ کو يہ حق کيوں حاصل ہے کہ اپنے بين الاقوامي تعہدات (Commitments) سے روگرداني کرے اور لبنان کو يہ حق حاصل نہيں ہے کہ وہ اس ٹربيونل کے مالي اخراجات برداشت کرنے سے روگرداني کرے-

حزب اللہ لبنان کے سيکريٹري جنرل نے کہا: حال ہي ميں لبنان کے سابق وزير اعظم اور رکن پارليمان فؤاد سنيورہ نے ايک راہ حل پيش کي ہے کہ عرب صدور اور بادشاہ اور امراء نيز دوست ممالک يونسکو کي مالي ضروريات پوري کريں اب يہ لوگ ان ہي ممالک سے يہ سے يہ خواہش بھي کرسکتے ہيں کہ حريري ٹربيونل کے اخراجات بھي برداشت کريں- ايک عرب امير اپنے صرف ايک جشن سے چشم پوشي کرکے حريري ٹربيونل کے تمام اخراجات برداشت کرسکتا ہے اور يوں لبنان کا يہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے-

انھوں نے لبنان سے مقبوضہ فلسطين بھاگ کر جانے والے لوگوں کے بارے ميں کہا کہ زاد قومي دھڑے کے ساتھ ہمارے معاہدے کے تحت يہ لوگ وطن واپس سکتے ہيں اور ہم بھي اپنے عہد پر عمل کريں گے-

ايران کے خلاف جارحيت کا جواب نہايت توڑ کر رکھ دينے والا ہوگا

حزب اللہ کے سيکريٹري جنرل نے زور دے کر کہا کہ ايران ايک طاقتور اور متحد ملک ہے جس کي قيادت کي دنيا ميں کوئي مثال نہيں ہے اور اگر کسي نے جارحيت کي تو اس ملک کا جواب توڑ کر رکھ دينے والا اور کئي گنا زيادہ بڑا ہوگا-

انقلاب اسلامي کے رہبر کا جواب دندان شکن تھا

سيدحسن نصر اللہ نے ايراني افواج اور اسلامي جمہوريہ ايران کي ملت کي طاقت کا حوالہ ديتے ہوئے اسلامي جمہوريہ ايران کو دي جانے والي صہيوني دھمکيوں کي طرف اشارہ کيا اور کہا: امام خامنہ اي نے جمعرات کے دن صہيوني رياست کي دھمکيوں کے مقابلے ميں نہايت فيصلہ کن اور مناسب رد عمل ظاہر کيا جو واضح اور شفاف تھا-

انھوں نے کہا: گذشتہ کئي دنوں سے ہم ديکھ رہے تھے کہ دھمکيوں ميں مسلسل شدت رہي ہے اور ايران کي ايٹمي تنصيبات پر حملے کي دھمکياں اچانک سامنے ئيں جس کے مقابلے ميں ايران کے قائدين نے بھي سخت رد عمل ظاہر کيا اور اس سلسلے ميں امام خامنہ اي کا رد عمل زيادہ روشن، اور سب سے زيادہ اہم تھا جو حقائق پر مبني تھا-

ايران اور شام پر حملہ؛ مشرق وسطي ميدان جنگ

سيد حسن نصر اللہ نے اسلامي جمہوريہ ايران سے مخاطب ہوکر کہا: ايران اور سوريہ پر حملہ ہوا تو اس سے شروع ہونے والي جنگ ايک محدود جنگ نہيں ہوگي بلکہ مشرق وسطي کا پورا علاقہ اس کے لپيٹ ميں ئے گا-

انھوں نے کہا کہ امريکہ کي خواہش ہے کہ ايران اس کي خواہشوں کے سامنے سرتسليم خم کرے اور براہ راست مذاکرات کے لئے تيار ہوجائے ليکن ايران اس مسئلے کے خلاف ہے؛ امريکہ شام کو بھي سر تسليم خم کرنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے تاکہ شام ان تمام مسائل قبول کرلے جو اس سے قبل اس نے قبول نہيں کئے تھے-

مقتدر ايران دھمکيوں سے نہيں ڈرتا

ايران ايک طاقتور ملک ہے اس کے پاس ايک طاقتور فوج ہے اور اس کي قوم متحد ہے چنانچہ ممکن ہي نہيں ہے کہ يہ ملک دھمکيوں اور بحري بيڑوں سے خوفزدہ ہوجائے-

انھوں نے کہا: امريکہ نے ايران کے ارد گرد پورے علاقے پر قبضہ جمايا ہوا ہے اور امريکي فوجيں ايران کے تمام پڑوسي ملکوں ميں موجود ہيں ليکن اس مسئلے نے ايران کو کمزور نہيں کيا اور اس کو امريکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرت کي ميز پر نہ بٹھا سکا-

امريکہ عراق ميں اپني شکست چھپانا چاہتا ہے

انھوں نے کہا کہ طے يہ ہے کہ امريکہ اس سال کے خر تک عراق کو ترک کردے اور يہ علاقے کے لئے امريکي منصوبے کے لئے بہت بڑي شکست ہے- اگر ہم ماضي قريب پر ايک نظر ڈاليں تو ديکھيں گے کہ سنہ 2000 ميں بعض لوگوں کا خيال تھا کہ مزاحمت تحريک لبنان ميں کامياب نہيں ہوئي ہے ج بھي ممکن ہے بعض لوگوں کا خيال ہو کہ امريکہ نے عراق ميں شکست نہيں کھائي ہے بلکہ اس نے اپني مرضي سے عراق چھوڑنے کا فيصلہ کيا ہے-

انھوں نے کہا: امريکہ کو ملنے والے فوجي نقصانات اور معاشي مضرات کي وجہ سے امريکہ کو عراق ميں شکست ہوئي ہے- 

انھوں نے کہا: ميں کہتا ہوں کہ امريکہ فوجي حملوں کے ذريعے عراق سے نکلنے کے قابل نہيں ہے چنانچہ اب وہ ميڈيا کے شديد حملے برداشت کرکے عراق سے نکلنے پر مجبور ہے اور ميں اس کو علاقے ميں "جنگ ہراسي" (War-Phobia) کا نام ديتا ہوں-

انھوں نے کہا کہ اس وقت امريکہ کي پوري کوشش يہ ہے کہ عراق سے اس کي فوجوں کا انخلاء بالکل معمول کا عمل سمجھا جائے اور کوئي بھي اس کو توجہ نہ دے جبکہ حقيقت يہ ہے کہ عراق سے امريکي انخلاء کو خصوصي توجہ دينے کي ضرورت ہے کيونکہ اس واقعے کے نتائج بہت اہم اور زيادہ ہونگے-

امريکہ عراق ميں اپني شکست کا بدلہ ايران اور شام سے لينے کے درپے

سيد حسن نصر اللہ نے کہا: ظاہر ہے کہ امريکي انتظاميہ ان ممالک کو سزا دينا چاہے گا جنہوں نے عراق ميں امريکي منصوبے کو ناکام بنانے ميں کردار ادا کيا ہے اور ايران اور شام وہي دو ممالک ہيں جو عراق ميں امريکي قبضے کے سامنے کھڑے ہوگئے اور ملت عراق کي پامردي کي حمايت کي، وہ ج ايران اور شام کو کہنا چاہتا ہے کہ "ميں اپنا ڈنڈا بدستور تمہارے سروں پر لٹکائے رکھوں گا"- پ ذرا تصور تو کريں کہ امريکہ عراق سے بے دخل ہونے کے بعد شکست کا اعتراف بھي کرلے!-

علاقائي تبديلياں مزاحمت کے محور کو تقويت پہنچارہي ہيں

انھوں نے علاقے ميں رونما ہونے والي تبديليوں کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ميں کوئي شک نہيں ہے کہ تيونس ميں زين عابدين بن علي کي حکومت کا زوال امريکہ اور مغرب کے لئے ايک بڑا نقصان تھا اور يہ مسئلہ ليبيا اور مصر ميں بھي دہرايا گيا اور اس ميں کوئي شک نہيں ہے کہ علاقے ميں رونما ہونے والي تبديليوں کے نتيجے ميں تحريک مزاحمت کے حليف ممالک کو زيادہ تقويت ملے گي اور مزاحمت کو مزيد حيلف مليں گے-

مزاحمت کي شکست کا زمانہ گذر چکا ہے

انھوں نے کہا کہ کمزوري، ضعف اور پسپائي کے بارے ميں بحث کا زمانہ نہيں رہا اور ج ہم يوم شہيد کے موقع پر تاکيد کرتے ہيں کہ استشہاديوں کے دور کے غاز، يعني شہيد احمد قصير کي استشہادي کاروائي کے دن سے ہي ہم کاميابي کے دور ميں داخل ہوئے ہيں اور شکست کا دور اختتام پذير ہوچکا ہے-

حزب اللہ لبنان کے سيکريٹري جنرل سيد حسن نصر اللہ نے خر ميں ملت لبنان سے مخاطب ہوکر کہا: ج ہميں جو کام کرنا ہے وہ يہ ہے کہ اپنے شہيدوں کے خون کا تحفظ کريں اور ان کے راستے پر گامزن رہيں اور ہم پ کے ساتھ مل کر اس ہدف کے حصول کے لئے کوشاں رہيں گے-

انھوں نے کہا: ج علاقے اور دنيا کي صورت حال ماضي کے کسي بھي دور سے زيادہ ہمارے اور تسلط پسند قوتوں کے مخالفين کے فائدے ميں ہے اور ہم انشاء اللہ مستقبل ميں بھي اپنے ايمان، عزم اور قوت فيصلہ کے سہارے کامياب اور فاتح رہيں گے-