• صارفین کی تعداد :
  • 2016
  • 11/19/2011
  • تاريخ :

قرآن مجيد کے حاملين اور اس پر عمل کرنے والوں کا احترام (دوسرا حصّہ)

قرآن کریم

قرآن مجيد پر توجہ کرنے ، اسے پہچاننے اور اسے ايک سعادت اور نجات بخش کتاب کي حيثيت سے منتخب کرنے کي ضرورت کے بارے ميں ايک حديث ميں آيا ہے:

”‌من اخذ دينہ من کتاب اللّٰہ و سنۃ نبيہ صلي اللّٰہ عليہ و آلہ و سلم زالت الجبال قبل ان يزول و من اخذ دينہ من افواہ الرجال ردّتہ الرّجال“ (1)

”‌ جو بھي اپنے دين کو خدا کي کتاب اور پيغمبر صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کي سنت سے حاصل کرتا ہے وہ پہاڑوں سے مستحکم تر اور جو اپنے دين کو لوگوں کي زبانوں سے حاصل کرتا ہے، وہي لوگ اسے دين سے منحرف کرديں گے“

ايک اور جگہ پر رسول اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم قر آن مجيد اور اہلبيت عليہم السلام کے درميان رابطہ کے بارے ميں فرماتے ہيں:

”‌انا اول رافد علي العزيز الجبّار يوم القيامۃ و کتابہ و اہل بيتي، ثم امّتي ثم اسالہم ما فعلتم بکتاب اللّٰہ و اہل بيتي“ (2)

ميں پہلا شخص ہوں جو قيامت کے دن خدائے جبار کے حضور قرآن مجيد اور اپنے اہلبيت کے ساتھ حاضر ہوگا، اس کے بعد ميري امت (حاضر ہوگي) ، اس کے بعد ميں پوچھوں گا: تم لوگوں نے خدا کي کتاب اور ميرے اہل بيت (ع) کے ساتھ کيا سلوک کيا؟

جو کچھ بيان ہوا، وہ اس لئے تھا کہ ہم جان ليں کہ قرآن مجيد ، مادي و معنوي دونوں لحاظ سے، بابرکت رکھتا ہے اور انسان جس قدراس سے زيادہ بہرہ مند ہوگا- قر آن مجيد کي فضيلت اور عظمت اتني ہي زيادہ ہو گي اس مضمون کي ايک روايت نقل ہوئي ہے کہ ايک شخص نے معصوم سے سوال کيا: دوسرے لوگوں پر آپ کي فضيلت اور برتري کا سبب کيا ہے؟ تو معصوم نے جواب ميں فرمايا: دوسروں پر ہماري فضيلت اس لئے ہے کہ قرآن مجيد کا علم ہمارے پاس ہے-

پس ہميں ہميشہ قرآن مجيد کي تکريم و تقديس کرني چاہئے اور قرآن مجيد کو ہرگز دوسري کتابوں کي طرح نہيں ديکھنا چاہئے اور قرآن مجيد کو دوسري تمام کتابوں پر فضيلت دينا صرف قلبي اعتقاد تک محدود نہ ہو، بلکہ قرآن مجيد کے بارے ميں ہماري رفتار دوسري کتابوں کے مقابلہ ميں متفاوت ہوني چاہئے- ہميں قرآن مجيد کي نسبت قلبي احترام کے علاوہ اس کا ظاہري احترام بھي کرنا چاہئے يعني ہماري ظاہري رفتار ، قر آن مجيد کے ساتھ ہماري قلبي رفتار کا مظہر ہونا چاہئے - بيشک قر آن مجيد کے ساتھ ہماري يہي قابل تعظيم رفتار، ہمارے ايمان ميں اضافہ کا سبب بنے گي-

بعض برزگان اس کمرے ميں نہيں سوتے تھے، جس ميں قر آن مجيد ہوا کرتا تھا اور حتي اس کمرے ميں قرآن مجيد کے احترام ميں پير بھي نہيں پھيلا تے تھے- علامہ طباطبائي رحمۃ اللہ عليہ اور شہيد مطہري رحمۃ اللہ عليہ نے مرحوم شيخ محمد تقي آملي سے ايک داستان نقل کي ہے کہ مرحوم آملي نے ايک رات کو قر آن محيد کي تلاوت کے دوران انتہائي تھکاوٹ کي وجہ سے تکيہ سے ٹيک لگايا- دوسرے دن حب وہ اپنے استاد مرحوم ميرزا علي آقاي قاضي  کہ علامہ طباطبائي اور ديگر بزرگوں کے بھي استاد تھے - کے پاس پہنچے تو استاد نے بغير کسي مقدمہ کے فرمايا: قرآن محيد کي تلاوت کے وقت اچھا نہيں ہے کہ انسان تکيہ سے ٹيک لگائے!

جي ہاں، قرآن مجيد کي تعظيم کے لئے اور معاشرے ميں قرآني ثقافت کو وسعت دينے کے لئے قرآن مجيد کے حاملين کا اکرام کرنا چاہئے اور اگر ہم خود قرآن مجيد کے حاملين ميں ہوں تو دوسرے لوگ ہمارا بھي احترام کريں گے اور ہميں يہ نہيں سوچنا چاہئے کہ چونکہ ہم خود قرآن مجيد کے حامل ہيں، اس لئے قرآن مجيد کے دوسرے حاملين کا احترام نہيں کرنا چاہئے، کيونکہ ايک شخص حامل قرآن ہو اور دوسرے حاملان قر آن کا احترام کرے ، چنانچہ سادات اور اولاد رسول اللہ کا احترام تمام لوگوں من جملہ سادات پر واحب ہے- جب انسان ايک سيد کوديکھتا ہے اسے پيغمبر خدا صلي اللہ عليہ وآلہ و سلم ياد آتے ہيں، اس لحاظ سے اس کا احترام کرنا ضروري ہے، حتي اگر خود بھي سيد ہو-

حوالہ جات :

1- اصول کافي ج 4، ص 41

2-مقدمہ اصول کافي ، ص 7

بشکريہ مہدي مشن