• صارفین کی تعداد :
  • 1689
  • 11/18/2011
  • تاريخ :

بيسويں صدي کي آخر دو دہائيوں ميں اُردو ناول کے موضوعات و رجحانات (دوسرا حصّہ)

اردو کے حروف تہجی

مارشل لا کے اس پس منظر کا جائزہ لينے سے يہ اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستاني معاشرہ سياسي طور پر کبھي بھي مستحکم نہيں رہا- مارشل لاء کے اثرات آہستہ آہستہ سرايت کرکے معاشرے کي اندروني پرت تک پہنچ گئے- خوف اور بے سمتي کي فضا نے تخليق کاروں کے ذہن کو متاثر کيا- دوسري شخصيت کي دريافت، باطني شکست وريخت، مجمع يں تنہائي کا احساس نماياں موضوع بن گئے- 1977ء کے مارشل لاء نے بالخصوص بے سمتي اور منافقانہ رويئے کو فروغ ديا- وہاں شدت پسندانہ روئے کو بھي پنپنے کا موقع ديا- گيارہ سالہ آمريت ميں مزاحمت کا ايک نيا دور اور نيا لب و لہجہ وجود ميں آيا- ضياء دور کے بعد بارہ سالوں ميں چار منتخب اسمبليوں کي ٹوٹ پھوٹ سے جمہوري عمل کا اعتبار جاتا رہا- ايک مجموعي لا تعلقي نے بے حسي اور مايوسي کے رجحانات کو فروغ ديا اس کي چھاپ ادب کي سب ہي اصناف پر دکھائي ديتي ہے-

خصوصاً 1980ء کے بعد شائع ہونے والے ناولوں ميں ان اثرات کو واضح طور پر محسوس کيا جاسکتا ہے- ايک تو وہ رجحان جو 1980ء سے پہلے چلا آرہا تھا يعني تقسيم سے پيدا شدہ حالات، ہجرت کا کرب، نئي زمين پر بسنے کا مسئلہ، مخصوص جاگيرداري نظام کي ٹوٹ پھوٹ اور دوسري طرف مغرب سے اخذ شدہ تصورات کي روشني ميں اپنے مسائل کو سماج کے حوالے سے بيان کرنا، ملکي اور بين الاقوامي صورتحال کو ناول ميں جگہ دے کر اس کے دائرہ کر کو وسعت دينا ہے- اس لئے جہاں ہميں 1980ء سے اُردو ناول ميں ابھي تقسيم سے پيدا شدہ حالات، جاگيرداري نظام کي ٹوٹ پھوٹ اور مہاجرين کو نوسٹلجائي کيفيت کي بازگشت سنائي ديتي ہے- وہيں ناول ميں کچھ نئے تجربات بھي سامنے آتے ہيں مثلاً انور سجاد کے ناول "خوشيوں کا باغ" (1981ء) کي صورت ميں تمثيلي، استعاراتي اور تجريدي اسلوب کا حامل سياسي، سماجي، قومي اور بين الاقوامي حالات و واقعات کا منظر نامہ پوش کي مصوري کے نقطہ نظر سے پيش کيا ہے- ناول کي کہاني سيدھے سادے انداز ميں کہنے کے بجائے تصور کے پس منظر کے حوالے سے بيان کي گئي ہے- اس بيان ميں اپنے عہد کے مسائل کو سموديا گيا ہے ليکن انداز قدرے مختلف ہے- اسلوب ملاحظہ فرمائيے:

"تو کہاں ہے؟ ہم تيرا انتظار کرتے ہيں امام مہدي ہمارے جسموں کا پاني ختم ہوتا ہے-

مسيح موعود ہمارے معدوں ميں خلا ابھرتے ہيں،گوڈوہميں ہماري کشتي تک لے جا بادبان کھول، رسياں تھام تو آتا کيوں نہيں دن ڈوبتا کيوں نہيں سورج نکلتا کيوں نہيں-"

امام مہدي، سميح موعود اور گوڈويہ تينوں کردار جن کے عمل پر انقلاب کا دارمدار ہے- ناول ميں پلاٹ کے درميان بار بار ابھرتے ہيں-

انور سجاد کا دوسرا ناول "جنم روپ" (1985ء) بھي بوش کي تصوير کے زير اثر لکھا گيا ہے کہ يہ حواکي بيٹي کي داستان ہے- ڈاکٹر انور سجاد عورت کو زمين سے مشابہہ قرار ديتے ہيں کيونکہ زمين ميں عورت ميں کئي قدريں مشترک ہيں سب سے بڑي قدريہ کہ دونوں ہي تخليق کے کرب سے گزرتي ہيں اور يہ کرب نہ ختم ہونے والي حقيقت ہے- سخت زمين کو کھود کر اس کے نيچے نرم اور گيلي مٹي تک پہنچا جاسکتا ہے- اس طرح انور سجاد اپنے ناولوں ميں عورت کے اندر جھانک کر اس کے دکھ اور کرب کي تہہ تک پہنچتے ہيں- اس کرب کا ذمہ دار مرد کا جبر اور اس کي حاکميت ہے- عورت کي زمين سے مشابہت مصنف کي منفرد سوچ کي عکاس ہے- زمين اپني ظاہري ساخت ميں مظلوم ہے کيوں کہ اس کے اوپر ہر طرح کا ظلم اور تشدد روا رکھا گياليکن پھر بھي اس کي زبان پر حرفِ شکايت نہيں- انور سجاد نے "جنم روپ" ميں بعض مقامات پر عبارت کو اس انداز سے لکھا ہے جيسے وہ نظم کے مصرعے ہوں جبکہ ناول کا اسلوب نظم کے اسلوب سے مختلف ہوتا ہے- شايد انور سجاد کے لاشعور ميں شاعري بستي ہے اور شعور ميں آکر وہ ناول کا روپ دھار ليتي ہے- وہ مصوري سے متاثر ہيں اور مصوري کي زبان ميں ناول تخليق کرتے ہيں-

"گھٹي فضاوں ميں گھني جھاڑيوں کے بيچ جگنو

سياہ زمين پر خشک پتوں کے بوجھ تلے دبے قمقموں والے کيڑے

اور ضيف النفس ستارے جو ايک وقت ميں پر اسرار

ارضِ آدم کے نصف کُرے پر روشني بچھاتے ہيں-"

انور غالب کا نام بھي اسي قبيلے ميں شامل ہے جنہوں نے ناول ميں نئے تجربات کي شروعات کي ہيں- "ندي" (1981ء) بھي شاعرانہ اسلوب کا حامل ناول ہے- اس ناول کے کردار اپنے وجود ميں قائم ہونے کے باوجود جداگانہ علامتي حيثيت بھي رکھتے ہيں جن کي بدولت انور غالب انساني نفسيات کي کيفيات کو اجاگر کرتے ہيں- انور غالب کے ناول ميں شاعرانہ اسلوب کي مثال ملاحظہ ہو-

"ميں شہر ميں اتني بڑي کوٹھي ميں رہتي ہوں ميں کيا باتيں سناوں جب

ميري کُٹياہوگي، کھلے کھلے خوبصورت سبز سنہرے ميدان ہوں گے ندي کنارے

بيٹھا کروں گي تو تنہائي ميں کتني باتيں سيکھ جاوں گي-

صبوح نے تعجب سے ندي کو ديکھا اور ديکھتا رہ گيا

ہيرے کي مانند يہ شبنم کا قطرہ تنہا،ميرا من ہانپنے لگا ہے

کيوں گراہے ميرے دل پر   کيوں اس نے انتخاب کيا ہے مجھے

ديکھ پاوں گي قطرہ قطرہ"


متعلقہ تحريريں:

قوميت کي تعمير ميں زبان کي اہميت (حصّہ سوّم)